چھوڑُو…… مبشر علی زیدی

میرا بیٹا فون پر کسی دوست کو بتا رہا تھا،

’’پاپا کی نئی کتاب کی ایک سو نوے کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں۔

انہیں ساٹھ ہزار کروڑ

کی رائلٹی ملی ہے۔

ہم نے گیارہ سو ارب کی نئی کوٹھی خریدی ہے۔

اس کے لان میں چھ لاکھ پچھتر ہزار آم کے درخت ہیں۔

پاپا مجھے ایک سو دس ارب کے جہاز کا تحفہ دے رہے ہیں۔‘‘

مجھے یہ گفتگو سن کر ایک جھٹکا لگا۔

اس نے فون بند کیا تو میں نے چمکار کر پوچھا،

’’میرا بیٹا بڑا ہو کر کیا بنے گا؟‘‘

بیٹے نے سنجیدگی سے کہا،

’’سیاست دان!‘‘