مریم نواز کلثوم بی بی کی طرح کردار ادا کریں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

اتنا بڑا جنازہ میں نے کسی خاتون کا نہیں دیکھا۔ کلثوم بی بی ایک گھریلو خاتون تھیں۔ وہ سیاست میںکم کم دلچسپی لیتی تھیں۔ وہ صرف اس وقت لیڈر کے طورپر سامنے آئیں جب ان کا خاوند اٹک قلعے کی جیل میں تھا۔

تب انہوں نے ملک بھر کے لوگوں کی قیادت کی اتنے لوگ ان کی عزت‘ عقیدت میں کہاں سے آگئے۔ اللہ کسی کیلئے عزت مندی ہوا کی آنکھ میں ڈال دیتا ہے۔

پھر ہوا جہاں جہاں جاتی ہے‘ اس محبت کو ساتھ ساتھ لے جاتی ہے۔ کلثوم نواز کے مرنے کے بعد بھی یہ ہوا چل رہی ہے۔

جتنی پذیرائی انہیں حاصل ہوئی‘ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ سیاست کے ساتھ منسلک جو لوگ نوازشریف کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے‘ وہ بھی آئے۔

نوازشریف بھی کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔ کلثوم پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں میرے ساتھ تھیں۔

ان سے بات چیت کبھی کبھار ہوتی تھی جبکہ تب بھی وہ ایسی ہی تھیں۔ ہر عرصہ عمر میں وہ ایسی ہی تھیں۔ وقار اور اعتبار ان کے ساتھ ساتھ تھا۔

شفقت اور شائستگی بھی بڑا جذبہ ہے۔ تب لڑکیوں سے بات کرنا ذرا مشکل ہوتا تھا مگر کلثوم بی بی کے ساتھ رابطے کی ایک سانجھ بنتی تھی اور یہ سب کیلئے ایک سانجھی کہانی تھی جس کا عنوان ایک تھا۔ باہمی عزت مندی ایک شیوہ بن گیا تھا اور عزت ہر لحاظ سے محبت، شفقت اور شائستگی سے بڑا جذبہ ہے۔ لوگ خوش قسمت ہیں‘ جنہیں یہ زمانہ ملا۔ طالبعلمی بذات خود خوبصورتی ہے اور رابطے کیلئے آسانی اور آسودگی ایک نعمت ہے۔

یہ کلثوم بی بی تھیں جنہوں نے سب کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر سب کی طرف سے انہیں عزت افزائی ملی۔ یہ عزت افزائی آخر تک ان کی ہمسفر رہی۔

وزیر اعلیٰ ہاﺅس اور وزیراعظم ہاﺅس ان کیلئے ایک ہاﺅس ہی رہا اور وہ ایک ہاﺅس وائف کی طرح رہیں۔ ان سے کبھی نہ ملا۔ وہ خود ایک اچھے گھر کی طرح تھیں۔ کہتے ہیں گھر عورت کے ہونے سے گھر بنتا ہے۔ نوازشریف کو میں نے ہمیشہ کلثوم بی بی کے خاوند کے طورپر دیکھا تو دیکھ سکا۔

پھر مریم نواز کا نام سننے میں آیا۔ ان سے بھی ملاقات نہیں ہے۔ فون پر رابطہ ہواجو ہمیشہ یاد رہے گا۔ میں اب بھی یہ چاہتا ہوں کہ وہ کلثوم بی بی کی طرح بن جائیں۔

مجھے لگتا ہے کہ وہ سیاست میں کلثوم بی بی کی طرح کردار ادا کریں گی۔ انہیں سیاست میںکلثوم بی بی ہی لائی ہونگی۔ انہیں مریم کلثوم بننا ہے۔ وہ قبول کرلیں ورنہ عوام میں تو یہی نام چلے گا۔

جو ہجوم بلاخیز لوگوں کا کلثوم بی بی کے جنازے میں تھا۔ یہ ان کی اپنی بڑائی اور اچھائی کی وجہ سے تھا۔ ورنہ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کیوں آتے۔ میں نے چودھری پرویزالٰہی اور چودھری شجاعت کو دیکھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان تھے۔

وہ لوگ جن کے خیالات سیاسی طورپر نوازشریف کیلئے اچھے نہ تھے‘ وہ بھی یہاں تھے‘ بہت لوگ نوازشریف سے ملے بغیر چلے گئے لوگوں کا مقصد کلثوم بی بی کو الوداع کہنا تھا۔ یہ الوداعی لمحات ہر کسی کے لئے آنا ہیں۔ ایک بارکلثوم بی بی اخبار کے دفتر آئیں۔

مجھ سے بھی ملیں اور بڑی اپنائیت سے مجھے کہا کہ نہ تم میرے لئے صحافی اور کالم نگار ہو نہ میں تمہارے لئے کوئی سیاستدان یا لیڈر ہوں۔ میں تو اپنے لئے بھی سیاستدان نہیں ہوں۔ مگر انہوں نے ایک ملک گیر سیاسی اور احتجاجی مہم چلا کے خود ہی یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک مستحکم مزاج اور استقامت والی سیاسی خاتون لیڈر ہیں اور مجھے کلثوم بی بی نے کہا کہ آپ میرے کلاس فیلو ہیں اور بھائی ہیں۔
برادرم جاوید ہاشمی کے ساتھ جس طرح کا دھرنا انہوںنے گاڑی کے اندر دے دیا۔

اسکی مثال شاید نہیںملتی۔ ان کا احترام دیکھیں کہ میں نے چودھری پرویز الٰہی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا وہ بہت محترم خاتون ہیں۔ بہن کی طرح ہیں۔ وہ میرے گھر کے سامنے بھی احتجاج کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ یہ بہرحال چودھری صاحب کے طرز سیاست کا ایک کمال ہے اور کمال کلثوم بی بی کا بھی ہے۔

میری خواہش ہے کہ مریم نواز بھی اپنی عظیم ماں کلثوم نواز کی طرح بننے کی کوشش کریں ان کی محبتوں کے بہت مناظر مریم نے دیکھے ہونگے۔ ان سے میرا رابطہ قطعاً نوازشریف کی وجہ سے نہ تھا۔ میرا رابطہ مریم بی بی سے بھی نوازشریف کی نسبت سے نہیں ہے۔ ان کا اپنا ایک کردار سیاست میں ہے۔

کلثوم بی بی کی اپنی بھی ایک شخصیت تھی وہ ایک دفعہ مجھے کہنے لگیں تم نوازشریف کے خلاف کیوں لکھتے ہو۔ میں خاموش رہا صرف اتنا کہا کہ میں آپ کے توکبھی خلاف لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور وہ خاموش ہو گئیں۔

میں نے جاوید ہاشمی کو جنازے میں افسردہ دیکھا جب جاوید ہاشمی کے ساتھ نوازشریف کے روابط میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ نوازشریف کی غلط فہمیاں بھی خوش فہمیوں کی طرح ہوتی ہیں۔ مجھے یقین تھا اور میں نے لکھا بھی تھا کہ اگر نوازشریف ضد نہ کرتے تو کلثوم بی بی جاوید ہاشمی کو منا لیتیں۔ اب میری گزارش مریم نواز سے ہے کہ وہ سیاست میں تمام فیصلے خود کریں۔ نوازشریف سے مشاورت کریں مگر اپنی مرضی کریں۔

اگر نوازشریف کلثوم بی بی کی مشاورت سے سیاست کرتے تو اچھا ہوتا۔ کلثوم بی بی اپنے شوہر کی بہت سعادت مند تھیں۔ جاوید ہاشمی نے تو یہ تک کہہ دیا کہ کلثوم بی بی کی زندگی کا مقصد اپنے خاوند کی خدمت تھا۔
٭٭٭٭٭