روس اور چین میں بڑھتا فوجی تعاون- نذیر ناجی

پٹر زواک‘ ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل ہیں اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے لئے لکھتے ہیں۔ 2012ء تا 2014ء وہ یونائیٹڈ سٹیٹس سینئر ڈیفنس آفیشل اور روس میں اتاشی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ زیر نظر مضمون ان کا تازہ تجزیہ ہے۔

''روس‘ چین کے ساتھ فوجی مشقوں پر کیوں زور دیتا ہے؟ اگراس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ روس اور چین کے مابین فوجی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے‘ تو آپ یقینا چونک جائیں گے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟رواں ماہ سے شروع ہونے والی روس کی ''ووسٹوک‘‘ نامی جنگی مشقوں کی خبریں کافی عرصہ پہلے سے مل رہی تھیں۔ ان مشقوں میں مشرقی سائبیریا کے پورے بیکال علاقے کو شامل کیا گیا ‘ جبکہ ان کا دائرہ چین کے علاقوں منچوریا اور منگولیا تک وسیع ہے۔ روس کے وزیر خارجہ‘ سرگی شوئگو نے ان مشقوں کو بے حد وسیع و عریض قرار دیا ہے‘ اس میں حصہ لینے والے فوجیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی اور ملٹری کمانڈ سٹرکچر کے حوالے سے بھی۔

ان مشقوں میں تین سو ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں جبکہ ایک ہزار ایئرکرافٹ بھی استعمال کئے جائیں گے۔ یہ فوجی اور متعلقہ اشیا زیادہ تر مشرقی اور مرکزی فوجی اضلاع سے لائے جائیں گے۔ یہ سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں مشرقی سوویت یونین میں کی گئی حربی مشقوں بعنوان زپاڈ81 سے بھی بڑی ہیں۔ ایسے پروگراموں کے بارے میں اعلانات میرے لئے نئے نہیں ہیں۔ میں نے ایسے کئی اعلانات سن رکھے ہیں۔ جولائی 2014ء میں میرے ڈیفنس اتاشی کے طور پر روس روانہ ہونے سے کچھ ہی پہلے ‘مشرق بعید میں ووسٹوک 2014ء نامی مشقوں کے بارے میں خبریں سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں۔

وہ ایک تنائو بھرا وقت تھا۔ ایک نام نہاد دوغلی اور دوہری جنگ میں نئے گرے زونز کی نشان دہی کی جا رہی تھی‘ روس نے اس وقت حال ہی میں کریمیا کو غیر قانونی طور پر اپنا حصہ بنا لیا تھا اور پورے مشرقی یوکرائن میں غیر منسوب روسیوں اور گھرے ہوئے یوکرینین لوگوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری تھی۔ اس وقت آئندہ ایشین ایکسرسائززکو بھی روس کی سوویت یونین کے دور کے بعد کی سب سے بڑی مشقوں کا حصہ سمجھا گیا‘ اگرچہ ان کے لئے جن اعداد و شمار کا دعویٰ کیا گیا تھا‘ اصل میں وہ اس سے بہت کم نکلے۔

اس سال کی ایک اہم خبر یہ ہے کہ مبینہ طور پر 3200 چینی حکام نوے وہیکلز بشمول ٹینکوں‘ اور تیس فکسڈ ونگ ایئر کرافٹس اور ہیلی کاپٹروں کے ان مشقوں میں حصہ رہے ہیں۔ یہ حکام زیادہ تر چین کی شمالی کمانڈ سے شامل ہو رہے ہیں۔ اس طرح یہ پہلا موقع ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی کسی ایسی مشقوں میں حصہ لے رہی ہے‘ جو مکمل طور پر روسی ہیں۔ منگولیا نے بھی ایک چھوٹا فوجی دستہ بھیجا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ روس کا ایشیا میں کسی علاقے پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ وہ مشرق بعید میں ایک سٹیٹس کو پاور ہے۔ روس چین سرحد پر اس کی بہت کم کنونشنل فورسز ہیں۔

اس طرح وہ جارحانہ کی بجائے دفاعی پوزیشن میں ہے۔ اس کے جوہری اثاثے اور اوکہوسٹک نامی سمندر میں اس کے بیلسٹک میزائل اس کے علاقائی تحفظ کی ضمانت ہیں اور اس صورتحال نے اس علاقے کو کانٹوں بھری سیج بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس روس کا بڑھنے اور پھلنے پھولنے والا ''تزویراتی پارٹنر‘‘ یعنی بیجنگ ایشیا اور پیسیفک کے علاقے میں ایک ترمیم پسندانہ روئیے کا حامل ملک ہے۔ یہ ویسا ہی رویہ ہے‘ جیسا روس اپنے مغرب میں اپنائے ہوئے ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ روس کس طرح ایک ابھرتے ہوئے اور اپنے اعلان کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے پورے علاقے میں پھیلنے کی خواہش کے حامل چین کے ساتھ معاملات چلاتا ہو گا؟ جبکہ چین نے پولر سلک روڈ میں بھی اپنی دلچسپی ظاہر کر رکھا ہے۔

روس اور چین کے مابین فوجی تعلقات مضبوط اور مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے آمور یوسوری علاقائی تنازعہ سفارتی سطح پر 2004-05ء میں حل کر لیا گیا تھا۔

اس تنازعہ کے حل کے بعد ہی فوجی سطح پر تعاون بڑھانے کے دروازے کھلے تھے۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے مابین فوجی تعاون علامتی نوعیت کا رہا‘ لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 1979ء میں ویت نام سے اپنی شکست کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے کوئی خونیں معرکہ نہیں مارا اور اب امید کی جا رہی ہے کہ اس نے روس کی لڑائی کی حالیہ مہارتوں سے بہت کچھ سیکھا ہو گا‘ جو یوکرائن سے شام تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ماضی کی بات کی جائے تو 2005ء میں روس اور چین‘ دونوں نے چین کی وضع کردہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے پروگرام کے حصے کے طور پر وسطی ایشیا اور روس میں ''دہشت گردی کی روک تھام‘‘ کے حوالے سے مشترکہ مشقیں کی تھیں۔ یاد رہے کہ ایس سی او کا پیس مشن 2018ء جس میں چین‘ روس کے علاوہ چھ دوسرے ممالک اور حال ہی میں تنظیم کا حصہ بنائے گئے پاکستان اور بھارت‘ شامل ہیں‘ اس وقت اُرل پہاڑی سلسلے کے مشرق میں چھلیابنسک میں جاری ہے۔

دونوں ملک (روس‘ چین) چھوٹی سطح پر بحری مشقوں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں‘ جیسے 2017ء میں بالٹکس میں‘ 2016ء میں سائوتھ چائنا سمندر میں‘ اور 2015ء میں مشرقی بحیرہ روم میں۔ روس نے مشقوں کا چار سالہ ایک سرکل یا چکر وضع کر رکھا ہے‘ جس کی منصوبہ بندی کافی پہلے کی گئی تھی اور ہر سال مشقوں کی جگہ چار فوجی ضلعوں میں بدلتی رہتی ہے۔ یعنی اس سال ایک ضلع میں مشقیں ہو رہی ہیں تو اگلے سال دوسرے اور اس سے اگلے سال تیسرے ضلع میں ہوں گی۔

اپنی صدیوں کی تاریخ میں روس اپنی سرحدوں پر جنگوں اور لڑائیوں میں مصروف رہا ہے‘ جن میں بے تحاشا خون بہا۔ ان جنگوں اور لڑائیوں کی کئی وجوہ میں سے ایک شاہی اور سوویت توسیع پسندی بھی ہے۔ ان لڑائیوں میں کئی ایک میں تو بمشکل بچائو ممکن ہو سکا تھا۔ ایسے حملہ آوروں میں منگول بھی شامل ہیں‘ جن کے خوف میں روسی آج بھی مبتلا ہیں۔ پھر مغر ب سے نازیوں کی یلغار نے بھی ایک خوف کو جنم دیا۔ کہا جاتا ہے کہ نازیوں کے حملے میں دو سے اڑھائی کروڑ روسی مارے گئے تھے۔

یہ سارے عوامل واضح کرتے ہیں کہ روسی بیرونی خطرات کو کن نظروں سے دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں؟ اور ریاست کس طرح ان معاملات اور ادراک کو اپنے عوام کو متحرک رکھنے کیلئے استعمال کرتی ہے؟ اس کی چھوٹی آبادی اور پابندیوں کا شکار مالیات کی وجہ سے درپیش چیلنجز کا مطلب یہ ہوا کہ روس مجبور ہے کہ امن کے زمانے میں بھی اپنی دس لاکھ افواج کو متحرک رکھے۔ اس کے 30 فیصد سے زیادہ حکام ایک سال کیلئے بھرتی کئے گئے جبری سپاہیوں پر مشتمل ہیں‘ جن کو مینیج کرنا مشکل ہے۔ پھر روس کے فوجیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد دوسرے ممالک میں بھی تعینات ہے‘ جیسے شام‘ مشرقی یوکرائن‘ آرمینیا اور تاجکستان۔

اس طرح روس کی فوجی طاقت بکھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس مسلسل مشقیں کراتا رہتا ہے اور ان میں بھی زمینی نقل و حرکت اور دفاعی امور پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے۔ انہی سارے عوامل سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ روس اور چین اپنے سرحدی تنازعات حل کرنے کیلئے ایک محتاط خارجہ پالیسی کیوں اپنائے ہوئے ہیں؟ جنہوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مسائل کا شکار بنا رکھا تھا۔ دونوں ہی ملک مستقبل میں بڑے مسائل کی زد میں آ سکتے ہیں‘ جیسے وسائل کا بڑھتا ہوا عدم توازن‘ خصوصی طور پر تیل اور قدرتی گیس کے حوالے سے ‘ چنانچہ دونوں آپس میں مل کر کچھ مشترکہ فائدے حاصل کر سکتے ہیں جیسے روس مغرب اور جنوب سے لاحق مسائل اور خطرات سے نمٹ سکتا ہے اور چین جنوب مشرقی پیسیفک میں درپیش مسائل اور بھارت کی جانب سے لاحق خطرات پر قابو پا سکتا ہے‘‘۔