جیسا راجہ ویسی پرجا- ارشاد احمد عارف

ترقی پذیر معاشروں میں علامتی اقدامات کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ اقدامات اگر حقیقی تبدیلی کا پیشہ خیمہ ہوں اور نمائشی کلچر کے خاتمے میں مددگار‘تو سبحان اللہ۔ نئی حکومت قومی آمدن بڑھانے اور قرضوں کی معیشت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور گورنر ہائوسز سمیت بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کا مقصد یہی ہے۔ یہ بحث اگرچہ جاری ہے کہ ان اقدامات سے ملکی معیشت کس قدر بہتر ہو گی؟۔

قومی خزانے پر بوجھ کم یقینا ہو گا اور سادگی کا کلچر بھی فروغ پائے گا۔ مقروض ملک میں ضلعی حکام کی ایکڑوں پر مشتمل قیام گاہیں اور ایک ایک شخص کے زیر استعمال کئی کئی مہنگی گاڑیاں محروم و مفلوک الحال عوام کی مایوسی میں اضافہ کرتی ہیں‘ کرپشن اور جرائم کی ترغیب ملتی ہے اور بے روزگار نوجوانوں کی جھنجھلاہٹ بڑھاتی ہے۔

آزادی کے بعد بھارتی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے سادگی اپنائی۔ خود انحصاری پر توجہ دی اور نمود و نمائش کے علاوہ بچت کے کلچر کو فروغ دیا جس کے ثمرات سے قوم مستفید ہو رہی ہے اور ہم رشک سے اس کی طرف دیکھتے ہیں۔ انور اقبال قریشی پاکستان کے چیف اکانومسٹ تھے اور زندگی بھر عوام کو چادر کے مطابق پائوں پھیلانے کی تلقین کرتے رہے‘ آپ بتایا کرتے تھے کہ پچاس کی دہائی میں جب بھارت نے مقامی طور پر کار تیار کی تو اس کی قیمت غالباً دس ہزار روپے رکھی جبکہ پاکستان میں اس سے بہتر غیر ملکی کاریں پانچ چھ ہزار روپے میں دستیاب تھیں۔

ایک دورے میں‘ میں نے بھارتی وزیر سے سوال کیا کہ آپ نے ایک مہنگی کار تیار کر کے اپنے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کی جو بے چارے پابندی کے باعث سستی اور نسبتاً بہتر غیر ملکی کار نہیں خرید سکتے۔ وزیر موصوف نے جواب دیا کہ اپنے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ اپنے ملک میں لگائیں اور خوب منافع کمائیں۔

اپنے عوام کو بھارتی ساختہ مصنوعات فخر سے استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں غیر معمولی زرمبادلہ بچانے کے ساتھ ہم روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں ۔ایک وقت آئے گا جب یہ کار ہمیں سستی پڑیگی اور آپ مہنگی کاریں خریدنے پر مجبور ہوں گے تب آپ کو ہماری دانشمندی کی داد دیں گے۔

بات سچ تھی‘داد ہم نے مگر آج تک نہیں دی۔ بھارتی وزیر‘ مشیر اور ارکان اسمبلی جب ماروتی کار پر بیٹھ کر دفاتر‘ اسمبلی ہال آتے تو پاکستان کی اشرافیہ مذاق اڑاتی مگر آج پوری دنیا میں مہنگی گاڑیاں ‘ایکڑوں پر مشتمل پرتعیش محلات اور برینڈڈ گھڑیاں ‘ کپڑے‘ جوتے استعمال کرنے والے ہمارے حکمرانوں ‘ ارکان پارلیمنٹ اور بیورو کریٹس کی کوئی عزت نہیں‘ ان کی کوئی بات سنتا ہے نہ ان کے بودو باش سے متاثر ہوتاہے جبکہ دھوتی پوش نریندر مودی جہاں بھی جائے حکمرانوں کی محفل میں دولہا قرار پاتا ہے۔ اداکار شاہ رخ خان سے امریکی ایئر پورٹ پر پوچھ گچھ ہوئی تو بھارتی حکومت نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ اس کی ایک سفارت کار کو واشنگٹن میں جرم سرزد ہونے پر سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تو امریکی سفارت کاروں کی نئی دہلی میں سکیورٹی تک واپس لے لی گئی۔ مگر ریمنڈ ڈیوس لاہور میں قتل کر کے بحفاظت وطن واپس چلا جاتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر پاتے۔

دنیا میں عزت طاقتور کی ہوتی ہے یا صاحب کردار کی۔ کسی زمانے میں ہمارے ایوان صدر کی شان و شوکت آج جیسی تھی نہ وزیر اعظم ہائوس میں شاہانہ سہولتوں کی فراوانی۔مگر ہمارے پہلے وزیر اعظم اور صاحب کردار سیاستدان نوابزادہ لیاقت علی خاں کا استقبال ریلوے سٹیشن پر ملکہ برطانیہ کرتی اور واشنگٹن میں صدر امریکہ آگے پیچھے بچھے جاتے۔ فوجی آمر ایوب خان نے امریکی کانگریس سے مخاطب ہوئے تو ارکان نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور تالیاں پیٹیں۔

مگر جب ہم معاشی طور پر کنگلے اور اخلاقی حوالے سے دیوالیہ پن کا شکار ہوئے تو ہمارے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی امریکی ایئر پورٹ پر کپڑے اتار کر تلاشی دیتے نظر آئے اور جب پوچھا گیا کہ ایک نیو کلیر ریاست کے سربراہ حکومت سے یہ سلوک کیوں ہوا تو جواب ملا کہ دوسرے ممالک میں قوانین کا احترام کرنا پڑتا ہے ع حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے کیا امریکیوں اور دوسرے ممالک کے شہریوں سے اپنی سرزمین پر پاکستان کے قوانین کا احترام کرایا گیا اور یہی سابق وزیر اعظم اپنے ہاں ایسی تلاشی پر خاموش رہ سکتے ؟۔

قانون کے احترام کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جس شخص کو عدالت عظمیٰ نے نااہل قرار دیا اسے پورے دس ماہ تک موصوف اپنا وزیر اعظم مانتے اور عدلیہ کو زبانی کلامی رسوا کرتے رہے۔ کبھی نہ سوچا کہ یہ آئین‘ قانون اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم‘ گورنر ‘ وزیر اعلیٰ ‘ وزیر اور سرکاری حکام چھوٹے گھروں‘ سستی گاڑیوں اور تزئین و آرائش سے محروم دفاتر کی عادت ڈال کر اگر پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈالتے اور خود انحصاری کے ذریعے خودکفالت کی منزل طے کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک بار پھر ہم اقوام عالم میں عزت و وقار نہ حاصل کریں اور اقبال و قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو۔

ریاست مدینہ اللوں تللوں‘ شہ خرچی‘ نمود و نمائش اور قرض خوری سے وجود میں آئی تھی نہ دنیا کی کسی دوسری قوم نے دیانتداری‘ سادگی‘ کفایت شعاری‘ ضبط نفس اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر عروج پایا۔

حکمران اگر ملکی وسائل کے لٹیرے نہیں‘ محافظ اور قومی خزانے کو خلق خدا کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہوں تو عوام ایثار و قربانی سے دریغ کرتے ہیں نہ محاصل کی ادائیگی سے گریز۔ عشروں سے پاکستانی عوام ایسے رہنمائوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو قومی خزانے کو حلوائی کی دکان سمجھ کر نانا جی کی فاتحہ پڑھنے کے عادی ہیں۔ ان کی اپنی اندرون ملک دولت اور جائیداد میں اضافہ ہوا مگر پاکستان کے ادارے تباہی کے کنارے پہنچ گئے۔

عام شہری بھوک‘ پیاس اور بیماریوں سے مر رہے ہیں تھر‘ چولستان اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں انسان اور جانور پانی سے محروم ہیں اور لاہور و کراچی میں محنت کش طبقے کو ڈھنگ کی غذا اور دوا میسر نہیں مگر سرکاری محلات میں کئی کئی ڈشوں پر مشتمل مرغن کھانے چل رہے ہیں ‘کسی کی آنکھ شرماتی ہے نہ دل کڑھتا اور نہ دماغ سوچتا ہے کہ آخر ہم روز قیامت خالق حقیقی کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ویسے جو طبقہ ڈیم کی تعمیر کا مذاق اڑاتا اور کفایت شعاری کو سستی شہرت حاصل کرنے کا حربہ سمجھتا ہے وہ آخر کیوں شرمائے اور کس بات سے گھبرائے۔ حکومت مگر صرف علامتی اقدامات پر اکتفا نہ کرے۔

قومی پیداوار بڑھانے‘ ٹیکسوں کی بنیاد وسیع اور عام آدمی کو آسودگی فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر توجہ دے۔ منی بجٹ حقیقت پسندانہ ہو مگر ایسا بھی نہیں کہ عام آدمی کی چیخیں نکل جائیں اور اپوزیشن تنخواہ دار و تاجر طبقے کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب رہے۔ اس سے پہلے عمران خان ٹی وی پر آ کر منی بجٹ کی افادیت بیان کریں۔ یہ یقین دہانی کرائیں کہ منی بجٹ سے حاصل ہونے والے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں گے۔

گھروں کی تعمیر اور روزگار کی فراہمی کے منصوبوں کابلیو پرنٹ بھی اگلے چار چھ ہفتوں میں سامنے آ جانا چاہیے اور حکمرانوں کے طرز زندگی‘ انداز و بود وباش میں تبدیلی کا نظارہ بھی عوام بچشم خود کریں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے عوام کی توقعات بلند کر دی ہیں اور اپوزیشن کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ان کا کڑا محاسبہ کرے‘ لہٰذا ہر قدم احتیاط سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔

قیام گاہیں بدلنے سے زیادہ حاکمانہ روش بدلنا ضروری ہے کہ ’ الناس علی دین ملو کہم ‘عامتہ الناس اپنے حکمرانوں کی پیروی کرتے ہیں۔

جیسا راجہ ویسی پرجا۔ حکمران شہ خرچ‘ شہدے اور بددیانت ہوں تو عام آدمی کو بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ بادشاہ اگر باغ سے بلا اجازت ایک انار توڑے تو رعایا چند لمحوں میں پورا باغ اجاڑ دیتی ہے۔ یہ صدیوں کا تجربہ ہے اور پاکستانی عوام کا عشروں سے مشاہدہ۔