اکھاڑا…… مبشر علی زیدی

بقراط ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے پہنچے۔

میں نے دروازے پر ان کا استقبال کیا۔

انھیں لے کر اندر آیا تو کنفیوشس بھی پہنچ گئے۔

میں نے ان کی قدم بوسی کی۔

سلام دعا ہو رہی تھی کہ کارل مارکس کے آنے کی خبر ملی۔

دس منٹ بعد شیخ سعدی نے قدم رنجہ فرمایا۔

اب ابراہام لنکن کا انتظار تھا۔

وہ ٹریفک کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے۔

وہ آئے تو نفری پوری ہوئی۔

میں نے افلاطون صاحب کو مطلع کیا۔

وہ اسٹوڈیو میں آ کر میزبان کی کرسی پر بیٹھے۔

ٹی وی ٹاک شو کا آغاز ہو گیا۔