امریکی عزائم اور ہمارا طرز ِعمل- سیّد طلعت حسین

خدا جھوٹ نہ بلوائے ،وزیر ِخارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کا دورانیہ اُن کی امریکی وفد سے ملاقات کے دورانیے سے دوگناتھا۔ امریکی وفد کی قیادت سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کررہے تھے ۔ اسلام آباد کے واشنگٹن سے تعلقات میں افسوس ناک بگاڑ کو چھپانے کے لیے کیا کیا ملمع کاری کی جارہی ہے ۔ اور ایسا اُس وقت ہورہا ہے جب ملک بیرونی تنازعات اور مخاصمت کا مطلق متحمل نہیں ہوسکتا۔

یہ حقیقت اتنی قوی ہے کہ ہمارے وزیر ِخارجہ، جو الفاظ کے کھلاڑی اورظن و تضمین کے ماہر ہیں، بھی حسب ِ منشا یہ پیغام کشید نہ کرسکے کہ پومپیو کا دورہ محض رسمی کارروائی نہ تھی، اور اس کا نتیجہ ہمارے حق میں مفید ہے ۔ خیر ان کا فوکس میٹنگ کے اصل مواد اورتعلقات کی نوعیت کی بجائے اس حقیقت پر تھا کہ ہم خود فریبی کے عہد میں جی رہے ہیں۔ خودفریبی کا پہلا شکار سچائی ہوتی ہے ۔

لیکن سچائی ظاہر ہونے میں دیر نہ لگی۔ امریکہ اور دہلی کے دوطرفہ مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے نے یہ حقیقت بے نقاب کردی کہ ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیر ِخارجہ قریشی کی انتھک محنت بے کار تھی۔

دہلی اور واشنگٹن کی توپوں کا رخ اسلام آبادکی طرف ہے ۔ اُنھوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ پاکستان پراکسی دستوں کے ذریعے دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستانی گروہوں کانام بھی لیاگیا۔ ماضی کے واقعات، جیسا کہ ممبئی حملے، اُوڑی اور پٹھان کوٹ کا ذکر کرتے ہوئے ان دہشت گرد حملوں کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات کی گئی ۔

یہ بلاشبہ ایک بھاری چارج شیٹ ہے جو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دوسرے لوگوں کے پیش کردہ موقف کے بر عکس ہے۔واشنگٹن دہلی کے جارحانہ عزائم کانشانہ پاکستان کی مشرقی سرحد کی جانب رکھنا چاہتا ہے تاکہ افغانستان میں طالبان کو امن مذاکرات پر راضی کرنے کی کوششوں میں کوئی خلل نہ پڑنے پائے۔

اس کے علاوہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ،پومپیو اور جنرل میٹس جن کے ہمراہ امریکی چیئرمین آف جوائنٹ چیفس جنرل ڈنفورڈ بھی تھے ،نے دہلی کے اس موقف کو مزید ٹھوس بنیاد فراہم کی کہ اگر خطے میں کوئی مسئلہ ہے جس کا فوری سد باب ضروری ہے تو وہ پاکستان ہےلہٰذا اسلام آباد کی جانب سے پومپیوکے سامنے جو بھی موقف پیش کیا گیا تھااس کا اثر کہیں نظر نہیں آتا۔شاہ صاحب کی محنت واشنگٹن کے خیالات میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی اور ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں کو دہلی کے ہم آواز بنانے اور اسلام آباد کو نظر انداز کرنے سے نہ روک سکی۔اگر یہ بھی دوطرفہ تعلقات کی کمزوری نہیںکہلا تی تو پھر نہ جانے مزید کیا ہونا باقی ہے۔

ہم اس مقام سے امریکہ کے ساتھ کہاں جا سکتے ہیں؟پاکستان کی فیصلہ سازی جذبات پر اور اس چیز پر انحصار کر رہی ہے کہ واشنگٹن کو وہ کرنے دیا جائے جو اسے بہتر لگے ۔بجائے اس کے کہ ہم سفارتی نزاکتوں کو سمجھیں۔اس طبقہ فکر کے مطابق قریبی ہمسایہ ممالک جن میں روس، چین اور ایران شامل ہیں، کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مزید مفید اور مضبوط بنانے چاہئیںاور اصلاحات کے ایک مقامی ایجنڈے کے ساتھ معاشی ترقی کی جانب قدم بڑھایا جائے تاکہ امریکی دبائو سے آزاد ہوا جا سکے۔ اس وقت اس ایجنڈے کے حامی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر جاری بحث و مباحثے میں غالب نظر آتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وقتی طور پر یہ ایک پر کشش موقف ہے۔یہ چیف جسٹس کی ڈیم فنڈ ریزنگ جیسا ہی ایک اقدام ہے جس کا مرکزی خیال ’’اپنی مدد آپ‘‘ ، کشکول توڑنے اور ایک خود مختار ریاست قائم کرنا ہے۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اپنے پیسوں سے ڈیم بنانا نہ صرف مشکل کام ہے (ابھی تک دو بلین روپے ڈیم فنڈ میں جمع ہو چکے ہیں جبکہ ہمیں تعمیراتی کام کے لیے 400بلین کی ضرورت ہے) بلکہ زیادہ مشکل کام ایک سپر پاور کے خلاف کھڑے ہونا ہے۔

یہ زخم خوردہ عالمی طاقت ایک علاقائی طاقت کے ساتھ مل کر ایک معاشی طور پر تباہ حال اور اندرونی سیاسی تماشوں میں الجھے اور اپنے ہی شہریوں اور ان کے نمائندوں کے خلاف جنگ میں پھنسے ہوئے ملک کا جینا مشکل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔حقائق تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔

ابھی تک دہلی اورواشنگٹن کے زہریلے رویے کے خلاف ہمارا کوئی اقدام چین کی جانب بھاگنے اور ان کی زبان سے اپنے حق میں چند الفاظ سنانے سے آگے نہیں بڑھا۔یہ درست ہے کہ چین اور کچھ حد تک روسی کارڈ موجود ہے مگر یہ دونوں کارڈ ز چینیوں اور روسیوں کے کنٹرول میں ہیں۔وہ فیصلہ کریں گے کہ کس حد تک ہماری حمایت کر سکتے ہیںجبکہ ہمیں واشنگٹن کے متبادل کے طور پر ایک فائدہ مند دوست کی ضرورت ہے۔

چین ایک متبادل ضرورہے مگر جس کسی نے گزشتہ تین عشروں میں چینیوں کے طریقہ کار کو تھوڑا بہت بھی سمجھا ہے ، وہ جانتا ہے کہ بھارت اور امریکی اتحاد کی مخالفت میں چین پاکستان کے ساتھ ہر وقت کھڑا ہونے کو تیار نہیں ہو گا۔ ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کا دبائو چین پر بھی ہے کیونکہ اس کے معاشی مفادات ادھر وابستہ ہیں۔ چین ہماری وجہ سے بھارت اور امریکہ سے بگاڑ پیدا نہیں کرے گا۔

لہٰذا یہ بنیاد کہ ’’ہمارے پاس متبادل موجود ہیں‘‘ کو زمینی حقائق پر پرکھنے اور فریب زدہ سفر سے واپس آنے کی ضرورت ہے۔ دہلی اور واشنگٹن ، دونوں کے ساتھ ہمارے حالات نہایت سنجیدہ ہیںاور ہم کسی بھی معاملے پر دکھاوا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس دبائو کا بہتر طور پر انتظام کیا جاسکتا تھا اگر حکومت خارجہ پالیسی کا چارج سنبھالنے کی خواہش کا اظہار کرتی اور اندرونی معاملات کو بیرونی معاملات سے زیادہ اہم قرار دینے کے موقف پر نہ اڑی رہتی۔

حکومت کی خارجی معاملات میں عدم دلچسپی کی چھوٹی سی مثال اس وقت کیمروں کی آنکھ نے محفوط کی جب وزیر اعظم عمران خان صرف پومپیو سے ہی مصافحہ کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ رہے تھے تو انہیں دوسرے افراد سے مصافحہ کرنے کا کہا گیا۔عام طور پر لیڈر ز اپنے آپ کو بامعنی ملاقاتوں کے لیے تیار کرتے ہیں اور وفد کے ہر رکن سے ملتے ہیںتاکہ یہ تاثر جائے کہ انہیں اس ملاقات کی اہمیت کا بہتر اندازہ ہے۔

اس بے اثر خارجہ پالیسی ، جس کو غلط معلومات کا سہارا دیا جارہا ہے ،کے اثرات نہایت گہرے ہوں گے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میںیا حکمراں جماعت میں ان معاملات پرکوئی مفید بحث نہیں ہوسکتی کہ بھارت اور امریکہ کے ساتھ معاملات کس طرح طے کرنے ہیں۔ اس معاملے پرنئے خیالات یا بہتر سوچ پروان نہیں چڑھ سکتی کیوں کہ حکومت اس نازک محاذ پر آگے بڑھ کر کھیلنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔اہم بات یہ ہے کہ بحث کی غیر موجودگی وزیر ِخارجہ قریشی کی لاحاصل لفاظی کو بیانیہ بنائے گی، یاپھر قوم کی رہنمائی ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کی پالیسی کرے گی۔

بہت کم ذہن اُن حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں گے جن کاتعلق اُن عناصر سے ہے جن کے بارے میں عالمی رائے عامہ کا اتفاق پایا جاتا ہے، اور جن سے نمٹنے کے لیے ہم نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہے۔ روس اورچین کی طرف بھاگنے کی بجائے ان عناصر کو تلاش کرنے کے لیے ہمیں اپنی سرحدو ں کے اندر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

جب امریکہ نے ہمیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں ڈالنے کا پینترا آزمایا تو حقیقت یہ تھی کہ ہمارے دوست، ہمارے متبادل بھی ہمیں اس سے بچانے میں ناکام رہے، یا بچانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ہم نے اس دھچکے سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ہم اپنی پھسلتی ہوئی خارجہ پالیسی کے لیے حیلے بہانے تلاش کرنے سے باز نہیں آرہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں ، ان میں سے پہلا بہانہ یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کے نقصانات کا ذمہ دار ہمارا میڈیا ہے جو ریاست کی حمایت نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں ، خبروں کے ذریعے آندھی اورطوفان کو خوشگوار موسم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اگر ایسا ہی موثر ہے تو پھر جب بھی پانی کی کمی ہو، میڈیا کی ایک شام لگاکر تمام ڈیم پانی سے بھرلیے جائیں ۔واشنگٹن اور دہلی ہمارے ساتھ جو کر رہے ہیں وہ اس کا نصف بھی نہیں جو ہم خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں۔ ہم با مقصد بحث و مباحثے کی جگہ کھیل تماشوں اور تفریح میں مصروف ہیں۔