پیکرِ تدبر و فراست - ثاقب تبسم ثاقبؔ

دنیا کی آبادی سوا 6 ارب سے زائد ہے، ان گنت افراد اس جہانِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں، جو ایک بار دنیا میں آتا ہے، اسے دنیا سے واپس بھی جانا ہوتا ہے۔ لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنے جانے کے بعد بھی جاتے نہیں۔ ایسے افراد کو افراد نہیں، شخصیات کہا جاتا ہے۔ یہ شخصیات عالمی سطح پر اپنا نام بناتی ہیں ، اپنا مقام بناتی ہیں۔اللہ تعالی نے ایسی ہی ایک شخصیت برصغیر کو بھی عطا کی جو بلا شبہ برسغیر کی معتبر ترین ہستی قرار پائی۔اس شخصیت کو، اس ہستی کو یہ عالم قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتا ہے۔قائدِ اعظم برصغیر کے مسلمانوں کے لیے خوش بختی کی علامت تھے۔ ایک زمانہ معترف ہے کہ قائد اعظم ؒ ایک اُولُولعزم،محنتی اور دانش مند انسان تھے۔انہوں نے زندگی کی ہر مشکل کو اپنی فطری صلاحیتوں او ر تدبر سے شکست دی۔متین و ذہین محمد علی جناح نے اپنی آئینی جدوجہد اور بے مثال و بے نظیر قیادت و بصیرت، کوہ شکن عزم اور فلک پیما ہمت سے اَن گنت مشکلات ،حوصلہ شکن حالات،جگر خراش واقعات اور بےانتہا مخالفت کے باوجود پاک و ہند کے نو کروڑ مسلمانوں کو عظیم سلطنت ’’پاکستان ‘‘ کے لیے اُکسایا اور انہیں سربلندی و ظفر مندی ملی۔
فرشتے چاند سے ہٹ کر ہیں اس خیال میں گُم
کہاں سے چل کے یہ انسان کہاں تک آئے ہیں
ابھی تو خیر سے تسخیرِ عرش باقی ہے
ابھی تو اہلِ زمیں آسماں تک آئے ہیں

قائدِ اعظم محمد علی جناح کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قائدانہ صلاحیتوں اور اعلیٰ راہنما کی تمام صفات سے نوازا تھا۔ وہ پیکرِ تدبر وفراست اور مجموعہ لیاقت و سیاست تھے۔ وہ بلا کے ذہین و فطین، محبِ وطن، ایمان دار، بااصول ٹھوس اور غیر جذباتی اندازِ فکر کے حامل، قومی مفاد کے خواہاں ،اعلیٰ سیرت و کردار اور مدلل گفتار کے مالک، زیرک اور مشاق قانون دان، مخلص، مستقل مزاج اور پروقار و بے لوث انسان اور سیاست دان تھے۔وہ قانون کی بالا دستی، اقتصادی اور سماجی مساوات کے علمبردار تھے اور انہی اصولوں کی بقا کے لئے انہوں نے زندگی گزار دی۔اس عظیم راہنما نے اپنے عزم واستقلال، راست گوئی، اصول پرستی اور اپنے مقصد سے بے پناہ لگن کی بنا پر بڑے بڑے شاطر سیاستدانوں کو شکست دے کر اپنی سیاسی صلاحیت و لیاقت اور بصیرت کا لوہا منوایا۔ بلاشبہ پاکستان، ان کا ہم پہ احسان ہے اور ہمیں ان کا احسان مند رہنا چاہیے۔تحریکِ پاکستان کے دوران ہندوئوں اور مسلمانوں کے رہنمائوں کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔یہ بھی تاریخ کی ایک اہم ترین بات ہے کہ دنیا کے جن ممالک یا ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چلیں، اُن تحریکوں کے صفِ اول کے قائدین کسی نہ کسی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے سزا کے طور پر ضرور گئے،نہرو اور گاندھی بھی اس رسوائی سے نہ بچ سکے، یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر قوموں کے قائدین بھی اپنی اپنی آزادی کی تحریکوں کے دوران قید و بند کی صعوبتوں کا شکار رہے، لیکن قائدِ اعظم ؒ وہ واحد رہنما ہیں جو اپنی زبردست تحریک آزادی اور مخالفت کے باوجود ایک بار بھی جیل نہیں گئے،یہ اعزاز اُن کی ذہانت اور قابلیت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے اور دنیا کے قائدین پر برتری کا سبب بھی ہے۔انسانی تاریخ شائد ہی کوئی ایسا دوسرا لیڈر دکھا سکے جو ایسی بڑی تحریکوں میں صفِ اول میں شریک ہو اور اُسے جیل کی ہوا نہ کھانا پڑی ہو۔۔۔یہ اعزاز بھی مسٹر جناح اور ہمارے لئے باعثِ اعزاز ہے۔

محمد علی جناح ایک اُصول پسند شخص تھے۔انہیں بے اُصولی سے سخت نفرت تھی۔وہ انسانی احساسات اور اخلاقی قدروں کا احترام کرتے تھے۔کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ کرتے لیکن اپنی خودداری اور وقار کے حوالہ سے بھی کبھی سمجھوتا نہ کرتے تھے۔ انہوں نے عدیم المثال قیادت و سیاست اور مقناطیسی شخصیت کی بدولت حضرت علامہ اقبال کے جدا گانہ اسلامی مملکت کے خواب کی عملی تعبیر پیش کر دی۔انہوں نے طاغوتی طاقتوں کے نرغے میں رہ کر مسلمان قوم کو فعال،متحرک، زندہ،توانا اور با مقصد قوم بنا دیا۔

ایک عظیم راہنما کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیر،نڈر اور بے باک ہو،وہ حق بات کا پوری بے باکی اور جرات سے اظہار کر سکتا ہو اور کوئی خوف و تحریص اسے اظہارِ حق و صداقت میں مانع نہ ہو۔ اس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے دل میں اپنے وطن اور اپنی قوم کی ترقی، خوشحالی اور فلاح کا احساس ہو۔یہ تمام خوبیاں قائدِ اعظم میں بدر جہ اُتم موجود تھیں۔آج ہم انہیں اپنا لیڈر، پیارا لیڈر تو کہتے ہیں لیکن اُن کی کسی ایک صفت کو بھی اپنانے پر تیار نہیں۔ ہمارے راہنما ان کی صفات کو انتخابی اشتہارات کی زینت تو بناتے ہیں لیکن ان پر عملی یقین کسی کا بھی نہیں ہے۔قائد نے اس قوم کو بامقصد اور متحرک بنایا جب کہ ہمارے سیاستدانوں نے اسے بے مقصد اور جامد کر دیا۔کون ہے جو آج اس قائد کی مثال بنے؟
چٹکیاں لیتی ہے دل میں آج اُس محسن کی یاد
ہو گیا شرمندئہ تعبیر جس سے خوابِ قوم !

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اور تدبر کا اعتراف اپنے ،بے گانے، دوست، دشمن، ہر کسی نے کیا۔ یہی اُن کی عظمت اور برتری کا ثبوت ہے۔ علامہ اقبال نے اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کو ان الفاظ میں سراہا:’’ مسٹر جناح کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی سے نوازا ہے جو آج تک ہندوستان کے کسی مسلمان میں مجھے نظر نہیں آئی،وہ یہ کہ آپ انتہائی دیانت دار ہیں اور آپ کو ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی آپ کو خریدا جاسکتا ہے۔‘‘ میاں بشیر احمد کی یہ لاجواب اور تاریخ شاز نظم جنابِ جناح کی ایسی پہچان بنی کہ یہ نظم اور قائدِ اعظم لازم و ملزوم ہو گئے۔یہ نظم آج بچے بچے کو ازبر ہے اور اس میں آج بھی وہی تاثیر ہے جو 1940میں تھی اور جب اسے انور قریشی نے ترنم کے ساتھ پڑھا تھا۔یہ نظم دراصل قائدِ اعظم کی شخصیت کا ایک مدلل خاکہ تھا۔
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم ، جاں ہے محمد علی جناح
رکھتا ہے دل میں تاب و تواں نو کروڑ کی
کہنے کو ناتواں ہے محمد علی جناح
لگتا ہے ٹھیک نشانے پر جس کا تِیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح

مکارگاندھی نے قائد کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کہا کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ قائدِ اعظم بلاشبہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے،وہ سیرت و کردار کی اُن بلندیوں پر تھے جہاں کوئی لالچ،کوئی خوف اور کوئی طعنہ انہیں اپنے جادہ سے نہیں ہٹا سکا۔وہ عزم و استقامت کے کوہِ گراں تھے۔‘‘ بیوری نکولس نے انہیں 1945میں ایشیا کی اہم ترین شخصیت قرار دیا۔ مسٹر ہڈسن نے اپنی کتاب The Great Divideمیں لکھا:’’ جناح وہ شخص تھا جس نے ساری عمر کوئی سبکی برداشت نہیں کی ‘‘۔ سر وجنی نائیڈو نے انہیں ایسا لیڈر کہا ’’ جسے نہ بد دیانت کہا جا سکے اور نہ خریدا جا سکے ‘‘۔مولاناظفر علی خان نے قائد کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا،’’ تاریخ ایسی مثالیں کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبو رو محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سروسامانی اور مخالفت کی تُندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا دی ہو۔‘‘پنڈت مدن موہن مالویہ نے اقرار کیا کہ ’’وہ جس بات پر ڈٹ جاتے ہیں ڈٹ جاتے ہیں۔بڑے سخت ہیں ،انہیں تو دلائل سے جھکانا بھی ممکن نہیں۔‘‘ لارڈ میکڈانلڈ نے بھی اعتراف کیا کہ ’’ قائدِ اعظم محمد علی جناح کو کسی بھی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔‘‘نہرو نے جناح کی عظمت کو یوں تسلیم کیا،’’ قائدِ اعظم کی اعلیٰ سیرت و کردار وہ مئوثر حربہ تھی جس کے ذریعے انہوں نے زندگی بھر کے معرکے سر کئے اور آزادی کی جنگ جیتی۔‘‘مسز جہاں زیب نے تو قائد کو پاکستان کے جارج واشنگٹن کہا۔ایک وزیرِ ہند ای۔ایس مانٹیگو نے اپنے تاثرات یوں تحریر کئے: ’’نوجوان محمد علی جناح، خوش اخلاق،دلکش شخصیت اور مدلل اندازِ گفت گُو کے مالک ہیں۔اُن کا مطالبی ایک ذمہ دار حکومت کا قیام تھا اور اُنہیں کسی چیز سے مطمئن کرنا بڑا مشکل تھا۔۔۔میں بُری طرح تھکا ہوا تھا اور میں نے بڑی مشکل سے اُن سے پیچھا چھڑایا۔‘‘وائسرائے چیمسفورڈ نے اُن سے بحث کرنا چاہی لیکن وہ اُلجھ کے رہ گیا اور اُسے کہنا پڑا کہ ’’ جناح بہت زیرک انسان ہیں،یہ بہت بڑی زیادتی ہے کہ ایسا شخص خود اپنے مُلک کے نظم و نسق سے بے تعلق رہے۔‘‘
تیرا عزم آہنی پربت سے بھی پائندہ تر
وقت کے سینے میں تھی پیوست تیری ہر نظر

پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح جیسا عظیم راہنما اور سیاست دان ہی ’’پاکستان‘‘ حاصل کر سکتا تھا کیوں کہ وہ معاملہ فہمی اور دور اندیشی میں بے مثال تھے۔ اس قابلیت کی وجہ سے وہ حالات پر کڑی نظر رکھتے تھے اور حریفوں کی شاطرانہ چالوں کو بھانپ کر بروقت اُن کا منہ توڑ جواب دیتے تھے۔ اسی وجہ سے تحریکِ پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور ہمیں پاکستان ملا۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم کا نعرہ ہی دراصل قائد کی بصیرت کا عملی نمونہ اور زندگی کا راہنما اصول تھا۔یہ اصول انہوں نے اپنی قوم کو ورثہ کے طور پر دیا۔اگر ہم اس ورثہ کی ایمان داری سے حفاظت کرتے اور نعرے کو اپناتے تو آج ان کی بصیرت ایک روشن پاکستان کی شکل میں پھیلی ہوتی۔انہوں نے ثابت کر دیا تھا کہ ان کا یہی نعرہ، ان کا یہی ورثہ سیاست آگاہ، سفارت آگاہ اور اقتصاد آگاہ تھا۔ گویا حکمرانی کرنے کے تمام گُر ہمارے پاس تھے۔ کاش ان ستر سالوں میں ہم اس مردِ قلندر کی بے باک قیادت کو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کا حصہ بناتے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت کا کچھ حصہ اس ملک کے سیاست دانوںمیں بھی منتقل کر دے تاکہ ہم آج اپنے اس وطن کو ایک مضبوط اور مستحکم ملک بنا سکیں۔