چینی حکومت اور مسلم اقلیت پر جبر مسلسل - عالم خان

ہمیں یہ سبق اتنا پڑھایا گیا ہے کہ پاک چین دوستی بحر اوقیانوس سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے، کہ ہم اس نعرے کے نشے میں اپنے مسلمان (یغور) بھائیوں سے غافل ہوگئے۔ اس غفلت کے پیچھے بعض وجوہات اور غلط فہمیاں ہیں جن سے عام پاکستانی بہت کم واقف ہے اور ہمارا میڈیا، دانشور اور اسلام و مسلم بھائی چارہ پر کام کرنے والی تنظیمیں اس موضوع کو واضح کرتے ہیں نہ زیر بحث لاتے ہیں ،اس لیے ہمیں یغور مسلمانوں کے بارے میں علم ہے اور نہ ان کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

جب بھی چینی حکومت کے مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کا ذکر کیا جاتا ہے تو ہمارے ذہنوں میں عام چینی مسلمانوں کا خیال آتا ہے اور چینی میڈیا کی تقلید میں ہمارے میڈیا میں بھی چین کے اندر عام چینی مسلمانوں کے حالات کو رپورٹ کرکے دنیا کو یہ باورکرایا جاتا ہے کہ مسلمان یہاں بالکل آزاد ہیں اور اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اس ضمن میں وہاں چینی مسلمانوں اور ان کی مساجد مدارس کو بھی دکھایا جاتا ہے اور نتیجتا اس کو چین کے خلاف ایک پروپیگنڈہ قرار دیا جاتا ہے۔

حالانکہ چین میں بسنے والے دیگر مسلمانوں اور یغور مسلمانوں کے حالات میں فرق ہے اور اس فرق کو ہم نہیں سمجھتے، اس لیے کنفیوژن کا شکار ہیں اور اس کو چین کے خلاف سازش قرار دینے کے ساتھ وہاں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، بنیادی حقوق سے مالامال بہتر زندگی گزارنے پر یقین کرتے ہیں۔

چین میں دو قسم کے مسلمان ہیں۔ ایک یغور اور بردار خاندان جو تقریبا (٥٦) ذیلی شاخوں پر مشتمل ہیں جن میں یغور، لاز، تاجک اور تاتار قابل ذکر ہیں، اور یہی مسلمان چین کے مغربی مقبوضہ علاقہ ترکستان شرقیہ (سنکیانگ) میں رہتے ہیں۔ دوسرے وہ مسلمان ہیں جن کو (Hui) کہتے ہیں۔ یہ چین کے صوبہ ننگ شیا کے مرکزی شہر تانگ شین اور آس پاس آباد ہیں، ان کی تعداد تقریبا ایک کروڑ بتائی جاتی ہے، یہ دیگر چینی باشندوں کی طرح خوشحال اور پرامن زندگی گزارتے ہیں، ان کو ہر قسم مذہبی آزادی ہے۔ ( The economist) جریدے کے مطابق ان کے زیر استعمال مساجد کی تعداد صرف ننگ شیا میں چند سالوں میں 1900 سے بڑھ کر 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ وہاں پوری آزادی کے ساتھ اپنی عبادت کرتے ہیں۔

یہی وہ مسلمان اور مسلم علاقے ہیں جن کو دیکھ کر ہم دھوکہ کھاتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کی ہر قسم مذہبی آزادی کے خبروں پر یقین کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جن مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں وہ یغور ہیں، اور وہ کئی دہائیوں سے چینی حکومت کے مقبوضہ علاقہ میں ظلم وستم سہہ رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ 2009ء سے اس میں تیزی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کا دورہ چین : کامیاب یا ناکام - آصف خورشید رانا

ترکستان شرقیہ کو چینی حکومت نے طاقت کے زور پر اپنا حصہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1863ء اور 1949ء میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کرکے یہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ہے، جن میں کئی ملین مسلمان مرد و خواتین، بچے اور بوڑھے شہید کیے گئے تھے، تاکہ ان کی تعداد کم ہوجائے اور وہ مزاحمت کا راستہ چھوڑ دیں۔ جو بچ گئے ہیں، ان کے ساتھ اب تک حیوانوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ان کے حقوق کا ہر طرح استحصال کیا جاتا ہے، مردوں کو ڈاڑھی اور خواتین کو حجاب سے گھسیٹا جاتا ہے۔ چینی حکام اسلحہ کی نوک پر گھروں کے اندار داخل ہوتے ہیں اور خواتین کو بےحجاب کر دیتے ہیں، وہاں مسلمان چھپ کر رمضان میں روزے رکھتے ہیں، اگر حکام کو پتہ چلے تو بزور شمشیر روزہ دار کا روزہ توڑا جاتا ہے، اسلامی اور عربی ناموں کے رکھنے پر پابندی ہے جن میں محمد نام بھی شامل ہے، اگر کوئی مخالفت کی تو اس سے مالکانہ حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔

2014ء میں ارومچی اٹیک کے بعد یغور مسلمانوں کو دہشت گردوں کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا اور (SASA) کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال کے اندر 47 ہزار یغور مسلمانوں کو پابند سلال کیا گیا ہے، جن میں سینکڑوں کو پھانسی اور تشدد کے ذریعے شہید کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دس لاکھ یغور مسلمان چین کے خفیہ ( No Rights Zone) میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہمارے ایک یغور کولیگ کا بیان ہے جو خود 22 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، آپ زمانہ طالب علمی میں وہاں سے بھاگ آئے ہیں کیونکہ وہاں یغور مسلمانوں کی نسل کشی کرکے ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ترکستان شرقی بھول کر اپنی شناخت سنکیانگ بنا دیں جو ان کو کسی بھی حال میں قبول نہیں۔ آپ کی گرفتاری اور چینی حکام کو تسلیم ہونے کےلیے آپ کے والدین اور بہنوں پر ظلم کی انتہا کر دی گئی، مذکرات سمیت انھیں جھکانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا، لیکن سابقہ تجربات اور چینی حکام کی خیانت کی وجہ سے کہ یغور لیڈرشپ کو مذاکرات کے بہانہ سے بلا کر پھانسی کے تختوں پر چڑھایا گیا تھا، آپ 22 سال سے تاحال جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روس، پاکستان، بھارت تعلقات کی نئی مثلث - آصف خورشید رانا

یغور مسلمانوں کا دعوی ہے کہ ہماری گرفتاریوں اور قتل میں پاکستانی حکومت چینی حکومت سے تعاون کر رہی ہے۔ ہمارے کولیگ کے مطابق یغور مسلمان کسی وقت پاکستان کو اپنی پناہ گاہ تصور کرتے تھے اور پاکستانی حکام سے توقع کرتے تھے کہ وہ چین دوستی کی وجہ سے یغور مسلمانوں کی تکالیف کم کرنے میں مدد کریں گے لیکن ہماری توقعات کے برعکس چینی حکام کے مطالبہ پر خفیہ طریقوں سے یغور مسلمانوں کی گرفتاری اور حوالگی میں پاکستان دیگر ممالک سے آگے نکلا اور عام پاکستانی مسلمانوں کو اس سے لاعلم رکھا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام برما، فلسطین، شام اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں لیکن پڑوس میں موجود یغور مسلمانوں کی حالات سے لاعلم ہیں جو بھوک و افلاس، قتل وغارت اور ہتک عزت کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کوئی سننے والا نہیں۔ کشمیر میں آزادی کے لیے اواز اٹھانے والوں کو پاکستان کی مکمل حمایت قومی اور عالمی سطح پر حاصل ہے، ہندوستان کی بربریت کے خلاف اسلحہ اٹھانے والے کشمیریوں کو فریڈم فائٹرز کہا جاتا ہے لیکن یغور مسلمان جو اسلحہ بھی نہیں اٹھاتے، ان کو پڑوس میں موجود پاکستانی حکومت اور عوام کا کوئی تعاون حاصل نہیں۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم ہزاروں میل دور شام، فلسطین اور برما کے مسلمانوں کے حالات سے باخبر ہیں لیکن ترکستان شرقی میں موجود یغور مسلمانوں کے حالات سے بےخبر ہیں۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ میری فرینڈ لسٹ میں موجود ہزار دوستوں اور تحریکی بھائیوں کے باوجود یغور مسلمانوں کے حالات، تھائی لینڈ اور مصر میں گرفتار یغور مسلمان طلبہ پر ایک خاتون صحافی تزئین حسن کے علاوہ کسی کی پوسٹ ابھی تک مجھے نظر نہیں آئی۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری یغور مسلمانوں سے لاعلمی اور پاک چین دوستی کی آڑ میں میڈیا کی اور حکومتی خاموشی ہے، جو انتہائی قابل افسوس ہے۔ ہمیں اس موضوع پر ممکن حد تک عوامی آگاہی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھانا چاہیے۔