ہمتِ مرداں، مددِ خُدا - محمد طیب طاہر

6 ستمبر کی دھندلکی چاندنی رات اپنے جوبن پر تھی۔ پورا ملک سکون کی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ دن بھر فضا میں اڑان بھرتے پنچھے اپنے تھکان اتارنے آشیانوں میں محو استراحت تھے۔فضا میں ہر سو سناٹا چھایا ہو تھا. . . ایک ہُو کا عالم طاری تھا. . خامُشی میں اک پراسراریت تھی. . طوفان آنے سے پہلے یونہی خاموشی اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔

چند جوان اور ان کا میجیر نیم خوابیدہ، بندوق کے بٹ پر ہاتھ جمائے سرحدی چوکی کی حفاظت پر مامور تھے.. یہ وہ مومن تھے جو سرحد کی حفاظت میں رات جاگ کر گذارنے پر جنت کے حق دار کہلوا چکے تھے. . پوری قوم اِن کے طفیل سکون کی چادر اوڑھے خوابِ خرگوش سے لطف اندوز ہوتی ہے. . اِن جوانوں کا مطمعِ نظر اپنی ذات نہیں ہوتی۔۔۔یہ اُن چار لائنوں کے لیے جو کہ سبز وردی اور جھنڈا کی پاسبانی کو بولیں تھیں۔ اپنا گھر بار،بیوی بچے حتی کہ سب سے محفوظ شے جان بھی وار دیتے ہیں۔

اُس پراسرار رات، جب سبھی خواب خرگوش میں مگن تھے۔۔۔ اچانک فضا میں ارتعاش ہوا. . . بندوقیں شعلے گرانے لگیں۔. . . توپیں آگ اگلنے لگیں۔. . جہاز کی گھن گھرج سے فضا پر ہیبت ہو گئی۔۔۔ ہر سو بارود کی بو پھیل گئی. . ڈرپوک دشمن رات کی تاریکی کا فائدہ آٹھائے. . ۔سرحد کو روندتے ہوئے اس پاک دھرتی کی بڑھنے لگا. . پرسکون نظر آنے والی رات، خون کی ہولی سے رنگین ہونے لگی۔۔۔ حالات گھمبیر گئے۔۔۔

مٹھی بھر جوانوں اور اُن کے میجر کے سامنے دو راستے تھے۔۔۔ جن میں سے ایک کو چننا تھا. . "ہمت مرداں،مدد خدا" کے مصداق سینہ سپر ہو کر اپنے سے کئی گناطاقت ور دشمن سے بِھڑ جانا یا پھر پیٹھ دیکھا کر بھاگنا . . پُراسرار بندوں نے بھاگ کر پیٹھ پر گولی کھانے سے، ہمت جٹا کر سینے پر دشمن کا وار سہہ کر شہید ہو جانے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیا۔

دشمن فوج کی بیک اپ پر مدد ،جدید اسلحہ اور بھاری تعداد میں نفری ہونے کے باوجود،یہ مٹھی بھر جوان گھبرائے نہیں. . ہمت و اسقلال کا پہاڑ بن گئے. . . . نا صرف حملہ روکا بلکہ پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے علاقہ میں گھس گئے۔. . بروقت فیصلہ،منصوبہ بندی اپنے بازوں پر بھروسہ کیا۔. . . خدا کی مدد شامل حال ہو گئی. . . حملہ سے پہلے جنہوں نے دعوی کیا تھا۔ رات کی شراب جم خانہ پیئیں گئے. . اپنے علاقے میں بھی شراب نا پی سکے. . . شراب کو ترستے لب، آگ میں جل کر راکھ ہو گئے. . .
بقول ایک شاعر
اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

خُدا ان کی مدد نہیں کرتا جو اپنی مدد آپ کرنا نا جانتے ہوں. . . آسمان سے فرشتے تبھی اترا کرتے ہیں. . جب نہتے ہوتے ہوئے بھی ہمت دیکھا کر دشمن کے سامنے سینے پیش کر دیے جاتے ہیں. . . مسلمان نتیجہ کا مکلف نہیں ہوتا. . ہمارے ذمہ عزم و حوصلہ دیکھانا ہے. . جتنی طاقت ہو سکے تیار کر کے رکھنا ہے. . باقی وہ جانے اُس کا کام. . مدد و نصرت انہیں کو ملی جنہوں نے اپنا آپ پیش کر دیا. .

پھر بھلے وہ تین سو تیرہ تھے. . سات سو تھے. . یا بارہ ہزار