قادیانی مسئلے پر چار مواقف - محمد زاہد صدیق مغل

مختلف لوگوں کی گفتگو ملاحظہ کرنے کے بعد قادیانی مسئلے پر چار مواقف سامنے آتے ہیں اور چاروں سے الگ قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اختصار کے ساتھ انہیں ذکر کیا جاتا ہے۔

1) سیکولر بیانیہ: مسلم و قادیانیت کی مساوات
اس نظریے کے مطابق مسلمان و قادیانی ہونا چونکہ مساوی طور پر لغو بات ہے لہذا کسی بھی قانونی و انتظامی عہدے کے لیے ان کی بنیاد پر افراد کے مابین فرق کرنا ظلم ہے۔ اس کی تفصیل ایک الگ پوسٹ میں بیان ہوچکی۔

2) ترجیحی بیانیہ: غیر مسلموں میں سے قادیانیوں کی اولیت
اس بیانیے کی رو سے کسی مسلمان کا نبوت کا اعلان کرنا اور دیگر کا اسے قبول کرنا کفر کو مستلزم ہے مگر اس کے قائل کے قتل کو مستلزم نہیں۔ لہذا ایسا دعوی کرنے والے لوگ کافر ہیں۔ البتہ جس طرح اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلے میں اس بنیاد پر ترجیح حاصل ہے کہ وہ تاریخ، عقائد و مسائل کے معاملے میں مسلمانوں سے قریب تر ہیں، اسی طرح قادیانیوں کو دیگر غیر مسلموں پر اخلاقی ترجیح حاصل ہوگی۔ اس بیانیے کے مطابق مختلف گروہوں کی ترتیب کچھ یوں ہے: مسلمان، قادیانی، اہل کتاب و دیگر غیر مسلم۔ چنانچہ اس سے یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ قانونی و انتظامی عہدوں کی تقسیم کے باب میں بھی اس ترتیب کو مد نظر رکھنا لازم ہے۔

3) عدم ترجیحی بیانیہ: غیر مسلموں کے مابین مساوات
یہ بیانیہ بھی ثانی الذکر بیانیے کی طرح اعلان نبوت کو قابل قتل جرم تصور نہیں کرتا، ہاں یہ کفر کو مستلزم ہے۔ البتہ ثانی الذکر کے برعکس قادیانیوں کو دیگر غیر مسلموں پر ترجیح دینے کی بنیاد و ضرورت نہیں۔ اس تصور کے حامل افراد کے خیال میں مسلمانوں کو قادیانیوں کے ساتھ اسی طرز کا معاملہ کرنا چاہیے جو دیگر غیر مسلموں کے ساتھ مشروع ہے اور اس معاملے میں اس سے زیادہ حساسیت اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔

4) اصل بیانیہ:
اس بیانیے کے مطابق اعلان نبوت نہ صرف کفر کو مستلزم ہے بلکہ اس کا دعوی کرنے والے کے لیے موجب قتل بھی ہے۔ اس قسم کا دعوی کرنے والے گروہ کو دیگر غیر مسلموں کی طرح تصور کرنا درست نہیں کیونکہ دیگر غیر مسلموں کے ساتھ قتال کی بنیاد ان کا غیر مسلم ہونا نہیں جبکہ قادیانیوں کے ساتھ اس کی بنیاد ان کا عین قادیانی ہونا ہے۔ لہذا اصل حکم کو معطل کرکے پھر انھیں کسی دوسرے غیر مسلم گروہ پر قیاس کرکے ان سے زیادہ رعایت دینا باطل قیاس ہے۔ اس پوزیشن سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر بوجوہ "فرسٹ بیسٹ آپشن" پر عمل نہ ہوسکا یا کرنا ممکن نہ ہو اور یا اب مقصود نہ ہو تو پھر "سیکنڈ بیسٹ آپشن" کے طور پر ایسے گروہ کو معاشرتی اخراج کا شکار کرنا نیز ان کے پنپنے کے مواقع کم سے کم رکھنا ضروری ہے۔ اس بیانیے کو اصل بیانیہ اس لیے کہا گیا کیونکہ اس معاملے میں اول الذکر تینوں بیانیے بعد میں وضع کیے گئے۔

قادیانی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ان مواقف کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کیا کسی پیدائشی قادیانی پر مرتد یا دعویٰ نبوت کرنے والے کی طرح کا حکم لگے گا، یا اس میں فرق ہوگا۔ اگر ہاں تو پھر انکے ایک اسلامی ملک میں کیا حقوق ہونگے۔ ؟

    • اگر پیدائشی قادیانی یہ تصور اور یقین کرے کہ وہ مسلمانوں کے نبی پہ ایمان نہیں رکھتا کہ وہ آخری نبی ہے تو پھر وہ پاکستانی قانون کی نظر میں اقلیت شمار ہوگا اور اسے تمام اقلیتی حقوق حاصل ہوں گے ۔ لیکن اگر وہ رسول اللہ کے بعد بھی کسی کو نبی مانتا ہے اور پھر بھی بضد ہے کہ اسے مسلم مانا جائے تو پھر یہ بدمعاشی و قانون شکنی اور آئین پاکستان سے بغاوت ہے ۔ اور ایسے ہی لوگ جزباتی اور سخت گیر قسم کے مسلمانوں کو تشدد پہ ابھارتے ہیں۔ مگر وہ قادیانی بھی تو سخت گیر و تشدد پسندی کے زمرے میں آئے گا کہ نا تو وہ آخری نبی کی نبوت پہ ایسے ایمان لائے جیسا ایک مسلم پہ لازم ہے اور نہ ہی خود کو غیر مسلم کہنے دے۔ لہٰذہ اس میں زیادہ قصوروار قادیانی ہے جو اپنی مرضی کا کا اسلام چاہتا ہے۔