مہنگے منصوبے نہیں متبادل توانائی پر توجہ کی ضرورت - محمد بشیر لاکھانی

پاکستان کے توانائی بحران کا حل معاشی طور پر قابل عمل اور ماحول دوست متبادل توانائی مثلا پانی، ہوا اور شمسی توانائی میں موجود ہے۔ ہماری موجودہ طلب 25 ہزار میگاواٹ ہے جو متبادل توانائی سے باآسانی پوری ہوسکتی ہے۔ واپڈا اور دیگر اداروں کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں آبی منصوبوں سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔

پاکستان ریسورسز میپ کے مطابق ہوا کے ذریعے ایک لاکھ 31 ہزار 800 میگاواٹ پن بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، جبکہ امریکی ادارے این آر ای ایل کے مطابق شمسی توانائی سے 29 لاکھ میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکتی ہے۔ لیکن ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ قابل تجدید توانائی کی بجائے ایل این جی پلانٹس، کوئلہ منصوبوں پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ اور کالا باغ ڈیم جیسے متنازع منصوبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔

آبی توانائی
دوسری جانب بھارت کا رویہ یہ ہے کہ بھارت دنیا کا ہائیڈرو پاور سے بجلی بنانے والا 7 واں بڑا ملک ہے۔ بھارت متبادل توانائی پر کتنی زیادہ توجہ دے رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 30 اپریل 2017 کو بھارت میں آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 44 ہزار میگاواٹ تھی اور اب وہ مزید منصوبوں کے ذریعے اس صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے۔

پن بجلی
2010 میں بھارت کی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 11 ہزار میگاواٹ تھی جو 2018 میں بڑھ کر 34 ہزار میگاواٹ تک جاپہنچی۔ 2020 میں یہ صلاحیت 65 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
بھارت میں 2014 میں پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2650 میگاواٹ تھی جو فروری 2018 میں 20 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، یعنی 4 سال میں 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اگر پاکستان کی بات کریں تو دیامر بھاشا ڈیم اور بجلی گھر منصوبے کی مجموعی لاگت 14 ارب ڈالر ہے۔ اس منصوبے سے 4500 میگاواٹ بجلی اور 68 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل ہوگی۔ تاہم ہمارے پاس توانائی کے حصول کے دیگر آپشنز بھی دستیاب ہیں۔ ہمیں پانی ذخیرہ کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور اس کام پر صرف 5 ارب ڈالر (500 ارب روپے) لاگت آئے گی جو یقینا 14 ارب ڈالر سے کافی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اوہو بجلی پھر چلی گئی - رومیصہ سکندر

اس کے لیے صرف ڈیم کے موجودہ ڈیزائن میں تبدیلی کرنی ہوگی اور بجلی پیدا کے منصوبے کو موخر کرنا ہوگا، جس پر مستقبل میں بعد میں کام کیا جاسکتا ہے۔ ڈیزائن میں تبدیلی کوئی ناپختہ رائے یا ہوا میں نہیں کہی جارہی بلکہ تفصیلی جائزے اور تحقیق سے سامنے آئی ہے۔

ایک عالمی مالیاتی ادارے کے لیے ہماری مشاورتی خدمات کے تحت یہ تحقیق کی گئی تھی جس سے یہ حقیقت سامنے آئی۔ لہذا ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کرکے صرف 500 ارب لاگت میں منصوبہ کو 5 سے 6 سال میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اس کام کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کی ضرورت ہوگی۔

ملک کی سالانہ آمدن 5 ہزار ارب روپے ہے، جس میں سے ہم سالانہ 100 ارب روپے ڈیم کے لیے مختص کرسکتے ہیں۔ آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر 90 فیصد سے زیادہ اخراجات ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں ہوں گے اس سے ہماری کرنسی اور ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔