گلگت بلتستان کی سیر - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس موضوع پر برادر محترم جناب ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب تفصیلی پوسٹس لکھیں گے لیکن میں خلاصہ ذکر کیے دیتا ہوں۔

شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، کے زیر اہتمام گلگت بلتستان کے مفتیانِ کرام اور وکلا صاحبان کےلیے کورسز کے سلسلے میں ہم 31 اگست کی صبح کو اسلام آباد سے روانہ ہوئے اور کل رات (9 ستمبر) کو واپس اسلام آباد پہنچے۔

31 اگست کو اسلام آباد سے براستۂ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ اور کاغان بالآخر شام کو ناران پہنچے اور وہاں قیام کیا۔ اگلے دن صبح سویرے ناران سے نکلے اور لولوسر، بابو سر، دیامیر، چیلاس اور جگلوٹ سے ہوتے ہوئے مغرب سے کچھ قبل گلگت پہنچے جہاں عزیز شاگردوں نے پولیس ریسٹ ہاؤس میں قیام کا بندوبست کیا ہوا تھا۔
2 ستمبر کو جامعہ نصرت الاسلام میں مفتیان صاحبان کےلیے کورس کا آغاز ہوا۔ اس دن چار بجے تک مختلف موضوعات پر راقم کے علاوہ، زاہد مغل صاحب، ڈاکٹر عطاء اللہ وٹو صاحب اور ڈاکٹر حبیب الرحمان صاحب نے گفتگو کی۔ شام کے وقت گلگت کے این ایل آئی بازار میں "چھموس" پیا اور "کیلاؤ" کھایا۔ (ان اصطلاحات کی وضاحت زاہد مغل صاحب کریں گے۔)

3 ستمبر کو ایک بجے کے قریب پروگرام ختم ہوا اور میزبان جناب امیر جان حقانی کی رہنمائی میں ضلع غذر کا تفریحی سفر کیا۔

4 ستمبر کو راقم اور وٹو صاحب نے گلگت بار ایسوسی ایشن میں وکلا کے ساتھ، جبکہ زاہد مغل صاحب اور حبیب الرحمان صاحب نے مفتیان صاحبان کے ساتھ، گفتگو کی۔ ایک بجے کے قریب دونوں پروگرام ختم ہوئے اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے عزیز شاگردوں کے ساتھ ڈسٹرکٹ نگر اور ڈسٹرکٹ ہنزہ کا تفریحی سفر کیا جس میں عطاء آباد، جھیل، حسینی پل اور بوریت جھیل خصوصی طور پر قابلِ ذکر مقامت تھے۔

5 ستمبر کو مفتیان صاحبان کے ساتھ پروگرام اختتام کو پہنچا اور ساڑھے گیارہ بجے ان سے رخصت اور دعائیں لے کر سکردو کی طرف براستۂ ضلع استور سفر شروع کیا۔ استور سے آگے راما اور پھر راما جھیل دیکھنے کے بعد رات کے وقت گریکوٹ پہنچ کر وہاں قیام کیا۔

6 ستمبر کی صبح گریکوٹ سے دیوسائی کی طرف سفر شروع کیا اور اس مسحور کر میدان میں سفر کرتے ہوئے شیوسر جھیل ، چھوٹا پانی اور بڑا پانی جیسے مقامات دیکھے۔ پھر سنگلاخ چٹانوں کو پار کرتے ہوئے بالاخر عصر کے قریب سکردو پہنچے جہاں صدپارہ جھیل نے استقبال کیا۔ اس کے بعد سکردو میں مرکز اسلامی کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔ تھوڑی دیر آرام کے بعد چند اور عزیز شاگردوں کے ہمراہ شنگریلا گئے اور وہاں کچھ دیر لطف اندوز ہوئے۔ پھر واپس گیسٹ ہاؤس آگئے۔

7 ستمبر کو سکردو بار ایسوسی ایشن کے ساتھ پروگرام تھا جس میں حبیب الرحمان صاحب کے علاوہ راقم اور وٹو صاحب نے گفتگو کی۔ پھر ظہر کے قریب بہت ساری محبتیں سمیٹ کر ضلع شگر، ضلع کھرمنگ اور ضلع گنگچھے کا سفر شروع کیا۔ شگر میں صحرا دیکھا تو کھرمنگ میں منٹھوکھا کا آبشار دیکھا اور پھر گنگچھے پہنچے۔

8 ستمبر کی صبح دارالعلوم غواڑی میں مدرسین اور مفتیان کرام کے ساتھ زاہد مغل صاحب، حبیب الرحمان صاحب، وٹو صاحب اور راقم نے گفتگو کی۔ اس کے بعد سکردو کی طرف واپسی ہوئی۔ ساڑھے بارہ بجے اسلام آباد کےلیے فلائیٹ تھی لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ منسوخ ہوگئی جس کی وجہ سے پھر روڈ کے ذریعے واپسی کا سفر کرنا پڑا۔ سکردو میں کچھ دیر آرام اور پھر شاپنگ کے بعد شام چھے بجے سفر شروع کیا اور ارادہ کیا کہ جگلوٹ میں قیام کریں گے۔ تقریباً سات گھنٹے کے تھکار کر چور کردینے والے سفر کے بعد بالاخر ایک بجے کے قریب جگلوٹ پہنچ کر روڈ کے کنارے ایک گیسٹ ہاؤس میں کمرے لیے۔

9 ستمبر کو صبح سات بجے پھر سفر شروع کیا اور چیلاس، بابوسر، لولوسر، ناران، کاغان، بالاکوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد سے ہوتے ہوئے رات تقریباً دس بجے اسلام آباد پہنچے۔
سفر انتہائی مفید اور دلچسپ رہا۔ ان فوائد اور دلچسپیوں کا ذکر وقتاً فوقتاً آتا رہے گا۔ علماے کرام اور وکلا کے ساتھ گفتگو کے علاوہ سفر کے دوران میں مسلسل کلامی، اصولی، فقہی، قانونی، اخلاقی، فلسفیانہ، سیاسی، معاشی، سماجی، معاشرتی، تفریحی، غرض ہر نوعیت کے موضوعات پر آپس میں تفصیلی گفتگو ہوتی رہی اور سب نے ایک دوسرے سے خوب استفادہ کیا۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے عزیز شاگردوں اور دوستوں نے جس بے مثال مہمان نوازی اور محبت کا اظہار کیا، اس کا شکریہ ادا کرنے کےلیے الفاظ نہیں مل رہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو دونوں جہانوں میں خصوصی اجر دے۔

سفر کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ ہے، جس کا سارا کریڈٹ زاہد مغل صاحب کی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو جاتا ہے، کہ ہم نے گلگت بلتستان کے تین ڈویژنز کے تمام دس اضلاع (دیامیر، استور، گلگت، غذر، نگر، ہنزہ، سکردو، شگر، کھرمنگ، اور گنگچھے) دیکھے اور اس دوران میں سات جھیلیں (لولوسر، عطاء آباد، بوریت، راما، شیوسر، صدپارہ اور شنگریلا) بھی دیکھیں۔

شریعہ اکیڈمی کا معاون سٹاف اس سفر میں ہر ممکن سہولت کےلیے کر دم تیار اور دستیاب رہا۔ ڈرائیور یوسف اور کنڈکٹر عثمان نے جانفشانی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے وہ کچھ ممکن کردکھایا جو عام حالات میں ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو بھی اجر عظیم عطا فرمائے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.