گلگت بلتستان سے متعلق معلوماتی حاصل - محمد زاہد صدیق مغل

شریعہ اکیڈمی کے تحت گلگت بلتستان میں ٹریننگ کورس کے حاصل متعدد اور متنوع ہیں جن کا احاطہ طوالت کا متقاضی ہے۔ اختصار کے ساتھ ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔

- اخلاقیات
اس خطے کے باسیوں کی مہمان نوازی اس خطے کے بلند و بالا پہاڑوں سے بھی بلند ہے۔ چنانچہ ہم گلگت بلتستان میں جہاں بھی گئے وہاں ایک سے بڑھ کر ایک مہمان نواز ہمارا میزبان تھا۔ اللہ ہمارے ان تمام میزبانوں کو بہترین اجرعطا فرمائے۔

- جغرافیہ
گلگت بلتستان تین ڈویژن اور دس ضلعوں پر مشتمل ہے۔ تین ڈویژن یہ ہیں: دیامیر، گلگت اور بلتستان۔ ہر ڈویژن کے ضلع درج ذیل ہیں:
دیامیر ڈویژن کے ضلعے: (1) دیامیر، (2) استور
گلگت ڈویژن کے ضلعے: (1) گلگت، (2) غذر، (3) نگر، (4) ھنزہ
بلتستان ڈویژن کے ضلعے: (1) سکردو، (2) شگر، (3) گنگ چھے، (4) کھرمنگ
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دورے میں ہم نے ان دس کے دس ضلعوں میں سفر کرلیا جس کی تفصیل شاید بعد میں آئے۔

مذھبی گروہ
اس علاقے میں چار بڑے مذھبی گروہ ہیں۔ بلحاظ آبادی ان کی ترتیب کچھ یوں ہے: شیعہ، اسماعیلی (آغا خانی)، اہل سنت (جو دیوبندی و اہل حدیث پر مبنی ہے) اور نوربخشی

- زبان
اس علاقے میں لگ بھگ دو درجن کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں البتہ دو نمائندہ بولیاں "شنا" (جو دیامیر اور گلگت ڈویژن میں رائج ہیں) اور "بلتی" (بلتستان میں رائج) ہیں۔ دونوں زبانیں صرف بولی جاتی ہیں لکھی نہیں جاتیں کیونکہ انکے حروف تہجی نہیں۔ اسی لئے انہیں بولی مانا جاتا ہے نہ کہ زبان۔ ان بولیوں کے الفاظ کو جب دوسری زبان کے الفاظ میں لکھا جاتا ہے تو یہ ان کی درست ادائیگی نہیں ہوتی (مثلا لفظ "شنا" ش نہیں بلکہ ش اور ص کے درمیان کسی لفظ سے شروع ہوتا ہے)۔

- دریا
اس خطے سے بہنے والے دریاؤں کا نظام سمجھنا میری توجہ کا خصوصی موضوع تھا جسے میں نے حفظ کے سبق کی طرح دہرا کر یاد کیا ہے۔ اس میں کچھ تفصیل ہے جسے سمجھنا بہت حد تک ان علاقوں کے مشاہدے پر منحصر ہے۔

بلتستان سے بہنے والے دریا
اس علاقے سے تین دریا بہتے ہیں۔
1) کارگل و لداخ کی طرف دریائے سندھ
2) سیاچن کی طرف سے دریائے شیوک، جو ھمایوں پل کے نزدیک دریائے سندھ میں جا گرتا ہے
3) کے ٹو کی طرف سے دریائے شگر، جو سکردو کے قریب دریائے سندھ میں ضم ہوجاتا ہے۔
اب یہ دریائے سندھ سکردو سڑک کے ساتھ بہتا ہوا قراقرم ھائی وے پر آجاتا ہے

گلگت سے بہنے والے دریا
اس علاقے سے تین دریا بہتے ہیں۔
1) خنجراب کی طرف دریائے ھنزہ بہتا ہے
2) شندور کی طرف سے دریائے غذر بہتا ہے
3) گلگت شہر کے نزدیک پہنچ کر یہ دونوں دریا مل جاتے ہیں جس کے بعد یہ دریائے گلگت کہلاتا ہے۔ دریائے گلگت جگلوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں جاگرتا ہے

دیامیر کی طرف سے بہنے والے دریا
1) نانگا پربت کی ایک طرف سے دریائے روپل بہتا ہے
2) کالا پانی اور رٹو کی طرف سے دریائے رٹو بہتا ہے۔
3) یہ دونوں دریا نگانگ کے مقام پر مل جاتے ہیں جس کے بعد یہ دریائے نگانت کہلاتا ہے
4) دیوسائی و منی مرگ کی طرف سے دریائے گدئی بہتا ہے۔ گوری کوٹ کے مقام پر دریائے نگانت اور دریائے گدئی مل جاتے ہیں جس کے بعد یہ دریائے گوری کوٹ کہلاتا ہے۔
4) راما کی طرف سے راما نالا بہتا ہے اور پرشنگ کی طرف سے پرشنگ نالا۔ یہ دونوں نالے استور شہر کے قریب پہنچ کر دریائے گوری کوٹ سے جا ملتے ہیں جس کے بعد یہ دریائے استور کہلاتا ہے جو استور سے قراقرم ھائی وے کی جانب جانے والی سڑک کے ساتھ بہتا ہوا قراقرم ھائی وے پر جگلوٹ کی طرف سے آنے والے دریائے سندھ سے جاملتا ہے۔
5) ایک دریا یا نالا نانگا پربت کی دوسری جانب سے بھی ہے جو فئیری میڈوز کی طرف جانے والے ٹریک کے ساتھ چلتا ہوا کسی مقام پر دریائے سندھ سے آ ملتا ہے۔ البتہ مجھے اس کا نام اور ملنے کی جگہ معلوم نہیں ہوسکی (کوئی بتا سکے تو مہربانی ہوگی)

پھر یہ دریائے سندھ بہتا ہوا پاکستان کے صوبوں میں داخل ہوجاتا ہے جہاں اس میں کے پی کے اور پنجاب سے بہنے والے دریاؤں کا ملاپ بھی ہوتا ہے۔ یہ تفصیل اس پوسٹ کا محل نہیں۔ گلگت بلتستان کے "جمادات" اور "حیوانات" کے باب سے متعلق بھی چند معلومات حاصل ہوئیں لیکن فی الوقت ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.