جی ہاں! یہ ڈیم ان شاء اللہ چندے ہی سے بنے گا - آصف محمود

سوال یہ ہے کیا چندے سے ڈیم بن سکتے ہیں اور کیا ہمیں عمران خان کی اپیل پر چندہ دینا چاہیے؟ اور جواب یہ ہے کہ باقی ڈیموں کا تو معلوم نہیں لیکن دیامر بھاشا ڈیم اگر آپ نے بنانا ہے تو اس کا فی الوقت حل وہی ہے جو عمران خان نے تجویز کیا ہے۔ معاملہ یہ نہیں ہے کہ عمران خان کا فیصلہ غلط ہے، معاملہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر دیامر بھاشا ڈیم کے حقائق سے واقف نہیں اور مسلم لیگ ن کی قیادت فکری بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اصل بات چھپا رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے عمران خان نے چندے کی اپیل کیوں کی؟ اسے پہلے مالیاتی اداروں سے بہتر شرائط پر قرض لینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور اس کے بعد اگر کچھ رقم مزید درکار ہوتی تو عوام سے رجوع کرتا۔ جو کام سب سے آخر میں کرنا چاہیے تھا عمران نے سب سے پہلے کر دیا۔ حقیقت مگر اس سے مختلف ہے۔ وہ کیا ہے، میں عرض کر دیتا ہوں۔

سچ تو یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے کوئی بھی اس ڈیم کے لیے پیسے دینے کو تیار نہیں۔ تربیلا اور منگلا ڈیم ہم نے ورلڈ بنک ، ایشین ڈیولپمنٹ بنک اور ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بنک سے پیسے لے کر بنائے ۔ لیکن دیامر بھاشا ڈیم کے لیے انہوں نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ اگست 2012 میں ورلڈ بنک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بنک نے اس منصوبے کے لیے رقم دینے سے صاف انکار کر دیا۔ ا نہوں نے جن وجوہات کی بنیاد پر انکار کیا وہ بھی بہت خوفناک تھیں۔ انہوں نے کہا جس علاقے میں آپ ڈیم بنا رہے ہیں، یہ پاکستان کا علاقہ ہی نہیں۔ یہ تو متنازعہ علاقہ ہے۔ جب تک آپ بھارت سے این او سی نہیں لاتے، ہم آپ کو ایک ڈالر نہیں دے سکتے۔

18 اکتوبر 2011ء میں یوسف رضا گیلانی نے دیامر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ گیلانی کے بعد نواز شریف کا دور اقتدار آیا اور گزر گیا۔ عمران خان پر تنقید کرنے سے پہلے یہ دونوں جماعتیں قوم کو یہ تو بتائیں کہ ان سالوں میں انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے لیے کتنی رقم اکٹھی کی؟ یہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کو کیوں قائل نہ کر سکے کہ وہ اس ڈیم کے لیے تعاون کریں؟ نواز شریف تو خود وزیر خارجہ تھے، انہوں نے ورلڈ بنک کے اعتراضات کو دور کرنے کے لیے کیا کوئی ایک کوشش بھی کی؟

20 اگست 2013ء کو اسحاق ڈار نے فرمایا کہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈیولپمنٹ بنک تو پیسے نہیں دے رہے لیکن ہم نے متبادل ڈھونڈ لیا ہے۔ اب ہمیں آ غا خان ڈیولپمنٹ بنک، آغا خان فاؤنڈیشن اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سے فنڈ ملے گا اور ہم یہ ڈیم بنا لیں گے۔ اسحاق ڈار نے یہ دعوی بھی کیا کہ پیسے کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق اب ہر صورت میں 2015ء تک یہ ڈیم مکمل ہو جائے گا۔ آج شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال، معاف کیجیے پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال پریس کانفرنس میں حکمت کی یہ بات تو ارشاد فرما دیتے ہیں کہ چندے سے ڈیم نہیں بنے گا لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ ان کا دیا ہوا متبادل کدھر گیا اور 2015ء تک ڈیم کیوں نہ بن سکا۔

ایک تجویز یہ بھی دی جا رہی ہے کہ چین سے رجوع کیا جائے اور اسے کہا جائے کہ ہماری کچھ مدد کرو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم یہ آپشن بھی استعمال کر کے دیکھ چکے اور کامیاب نہیں ہوئے۔ 2017ء میں پاکستان نے کوشش کی تھی کہ دیامر بھاشا ڈیم کو سی پیک کا حصہ قرار دے کر بنوا لیا جائے۔ جب چین سے بات ہوئی تو اس نے ایسی شرائط عائد کر دیں کہ سب کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ خود چیئرمین واپڈا نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ چین نے جو شرائط عائد کی تھیں، ان میں سے ایک شرط ’اونرشپ‘ یعنی ملکیت کی تھی۔ چین ڈیم بنانے پر تو راضی تھا لیکن وہ اس کی’اونرشپ‘ بھی مانگ رہا تھا۔ یہ شرائط پاکستان کو قبول نہ تھیں لہذا بات آگے نہ بڑھ سکی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے چین کے بعد روس سے بھی بات کی لیکن ادھر سے بھی کوئی کامیابی ھاصل نہ ہو سکی۔

جب ہر طرف سے ناکامی ہوئی تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اہم اجلاس بلایا کہ طے کیا جائے اب اس ڈیم کا کیا کرنا ہے۔ چیئرمین واپڈا نے انہیں بتایا کہ اب ہمارے پاس اس ڈیم کو بنانے کا ایک ہی راستہ ہے۔ وزیر اعظم نے پوچھا وہ کیا؟ چیئر مین واپڈا نے کہا جناب وزیر اعظم آپ نے ساری دنیا سے رابطہ کر کے دیکھ لیا، کوئی اس پراجیکٹ کے لیے پیسے دینے کو تیار نہیں، اس لیے اب اگر یہ ڈیم بنانا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم مقامی طور پر اس کے لیے فنڈز کا اہتمام کریں۔ یہ ڈیم اب صرف مقامی وسائل سے ہی بن سکتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے باقاعدہ سمری منظور کرتے ہوئے اس پر دستخط فرما دیے کہ چونکہ اس ڈیم کے لیے کوئی ہمیں پیسے دینے کو تیار نہیں، اس لیے یہ ڈیم اب اپنے مقامی وسائل سے بنایا جائے گا۔ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ جب شہباز شریف پریس کانفرنس فرما رہے تھے کہ چندے سے ڈیم نہیں بنتے تو یہی شاہد خاقان عباسی ان کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ وہ شہباز شریف سے یہ بھی نہ کہہ سکے کہ عالی جاہ جو کام عمران خان کر رہا ہے، ہم بھی اسی نتیجے پر پہنچے تھے اور میں نے تو سمری پر دستخط بھی کر دیے تھے۔

اب عمران حکومت میں آئے تو ان کے سامنے جو منظر نامہ تھا وہ خوفناک تھا۔ ملک میں قحط کی صورت حال دستک دے رہی ہے ۔ ہم اپنے پانی کا صرف دس فیصد ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ ہمارا نوے فیصد پانی ضائع جاتا ہے۔ اس کی مالیت اکیس بلین ڈالر سالانہ ہے۔ کوئی نیا ڈیم نہیں بن رہا۔ باقی ڈیموں کو تو چھوڑیں راول ڈیم 2012ء میں ایکسپائر ہو چکا ہے۔ اپنی مدت پوری کر چکا ہے۔ اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت چالیس فیصد کم ہو گئی ہے۔ ہر پانچ سال بعد اس کا مکمل سروے ہونا تھا مگر 1997ء سے اب تک ایک سروے نہیں ہو سکا۔ ڈیم ہماری ضرورت ہیں۔ کالا باغ ڈیم جیسا منصوبہ یہاں متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اب عمران خان کے پاس وقت نہیں تھا۔ ڈیم دنوں یا مہینوں میں نہیں بنتے۔ اس کے لیے سالوں چاہیے ہوتے ہیں۔ ادھر خشک سالی اور قحط کا خطرہ سر پر ہے۔ عمران نے اب جو بھی کرنا تھا ہنگامی طور پر اور فورا کرنا تھا۔ لمبی لمبی میٹنگز کا وقت گزر گیا۔ یہ وقت سابق حکمران برباد کر چکے۔ اب مزید ضائع کرنے کو وقت نہیں تھا۔ عمران کے پاس دو ہی راستے تھے۔ آرام سے ملک کو تباہ ہوتا دیکھتے رہیں یا کوئی فیصلہ کر گزریں۔ عمران نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔

اس راستے میں چندہ مانگنا بلاشبہ واحد حل نہیں۔ اور اقدامات بھی ضروری ہیں۔ لوٹی ہوئی رقم نکلوانا بھی ضروری ہے اور چند اور اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب اقدامات چند دنوں میں نہیں ہو جانے۔ ان پر وقت لگتا ہے اور پانی کا بحران اتنا سنگین ہے کہ اب زیادہ وقت نہیں بچا۔ آپ غور فرمائیں تو نظر آ جائے گا کہ اور اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہباز شریف کے داماد تک بات پہنچتی ہے اور اس کے فرنٹ مین کی جائیداد ضبط ہوتی ہے۔ ایک روز معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے علی ٹاور میں دو منزلیں خریدنے کے لیے ادائیگیاں پلازے کی تعمیر سے قبل کر دیں اور اگلے روز اسی علی ٹاور میں آگ لگ جاتی ہے۔ جہاں تحقیقات کی آنچ پہنچتی ہے وہاں پراسرار آگ پہنچ جاتی ہے۔ یہ شکنجہ ٹوٹتے ٹوٹتے وقت لگے گا۔ لیکن کام شروع ہو چکا۔ برطانیہ میں جن کی جائیدادیں ہیں انہیں نوٹس بھیجنے کا عمل شروع ہو چکا ہے کہ ذرائع آمدن بتائیے۔ حکومتی اخراجات بھی کم کیے جا رہے ہیں۔ عطیات کی اپیل بارش کا پہلا قطرہ ہے اور قطرے بھی شامل ہوتے جائیں گے۔ عمران نے تین ماہ کی مدت مانگی ہے، ہو سکتا ہے اس عرصے میں بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں۔ لیکن ڈیم اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے اب انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔

بات بہت سادہ سی ہے۔ عمران نے نہیں، آپ کو آپ کے ملک نے پکارا ہے۔ ملک تو سانجھا ہے۔ یہ ڈیم ان شاء اللہ بنے گا اور دنیا دیکھے گی۔ آپ کا دیا ہوا چندہ بارش کا پہلا قطرہ ہوگا۔ اس کے بعد گھٹائیں بھی اٹھیں گی، برسات بھی ہوگی۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.