حرم میں صلاۃ الکسوف - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ہم نے بڑی سرعت سے عمرہ کا پروگرام بنایا تھا، حج سے پہلے عمرے کی سعادت پانا ہماری بہت بڑی خواہش تھی، ذی القعدہ میں حاجیوں کی آمد کے بعد مقیمین کا عمرہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، ہم 26 جولائی کو بس میں سوار ہوئے تو اندازہ ہوا کہ یہ آخری ٹرپ ہے، اس کے بعد حج کے بعد ہی عمرہ کے لئے جایا جا سکے گا، راستے میں جہاں بھی رکے مسجد اور اور میقات میں اسی کا احساس ہوا، مکہ میں نماز ِ فجر سے پہلے طواف اور بعد از نماز سعی کی۔ کچھ دیر آرام کے بعد دوبارہ جمعہ کی ادائیگی کے لئے حرم کی جانب جا رہے تھے، کسی ٹیکسی کو روکنے سے پہلے اندر سے آوازآئی، ’’بس موجود‘‘، ہم باہر کھڑی بس میں بیٹھ گئے، کچھ اور زائرین بھی، بس ڈرائیور نے کمال مہربانی سے شاہراہ الھجرہ ختم ہونے پر اتار دیا، ہم حیرت سے ایک دوسرے کو اور کبھی اپنے تھکے ہوئے قدموں کو دیکھ رہے تھے، اب افسوس ہو رہا تھا کہ ٹیکسی کیوں نہ لی۔ چلنا شروع کیا توآہستہ آہستہ قدموں میں تیزی بھی آہی گئی، راستے میں جگہ جگہ پانی کی بوتلیں بانٹیں جارہی تھیں، ایک جانب سے کھجور کا پیکٹ بھی ملا، جو باقی سب کو بوجھ میں اضافہ ہی لگا، بوجھ تو پانی کی بوتلیں بھی تھیں مگر سر پر چمکتا اور حرارت بکھیرتا سورج انکی ضرورت کا احساس دلا رہا تھا، مسافرت جتنی شدید ہو مسافر ضرورت کا تعین اسی حساب سے کرتا ہے، صحرا عبور کرتے ہوئے پانی کی چھاگل سے کوئی بھی بے نیاز نہیں رہ سکتا، اور حرم کے راستے کا مسافر یوں بھی اللہ کی رحمتوں کے سائے میں ہوتا ہے، پسینہ جسم کو بھگونے لگتا تو کبھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر تک تروتازہ کر دیتا اور کبھی کوئی نامعلوم ابر سر پر سایہ کر دیتا، حرم کے خادموں نے بھی جگہ جگہ چھاتوں کا انتظام کر رکھا تھا۔

صحن ِ حرم میں پہنچے تو کئی دراوازے نو انٹری کا بورڈ آویزاں کئے ہوئے تھے، باب الفہد کی بیرونی سیڑھیوں سے ہم پہلی منزل کی جانب بڑھے تو سیڑھیوں نے خود کار انداز میں دوسری منزل پر پہنچا دیا،تنگیء داماں کا احساس ہوا، مگر ہم چل دیے، میں اور بیٹی خواتین کے حصّے میں پہنچ گئے اور میاں اور دونوں بیٹے مردوں کی صفوں میں، جہاں بھی گنجائش نظر آتی ہماری درخواست پر خواتین کچھ اور پھیل کر بیٹھ جاتیں ، بس اسی تگ و دو میں ایک ستون کے قریب بیٹی کے لئے جگہ بنائی، تو پچھلی صف میں ایک فلپینی بہن نے خود کو سکیڑ کر ہمیں جگہ دے دی، ساتھ بیٹھی چٹاگانگ کی بہن نے بھی حرکت کی اور ہمارے لئے جگہ بن گئی، تحیۃ المسجد ادا کر کے سورہ الکہف کی تلاوت کی، اور پھر دونوں سے ٹوٹی پھوٹی زبان اور اس سے بڑھ کر اشاروں میں تعارف حاصل کیا، خطبہ سنا اور پھر نماز جمعہ جس میں بالترتیب سورہ الاعلی اور الغاشیہ پڑھائی گئیں،اپنے پیارے اور روح پرور ماحول میں ہم وہیں دوپہر گزارنے کا پروگرام بنائے ہوئے تھے، مگر بیٹے کی کال آگئی، ہم حرم ٹاور میں پہنچ چکے ہیں آپ بھی آجائیں، ہم تپتے صحن سے گزر کر حرم ٹاور میں پہنچ گئے، کھانا کھا کر بدن میں طاقت کا احساس بڑھ گیا، اور ہم جو ظہر سے عصر آرام کرنے کا سوچ رہے تھے، بیٹی کو ہوٹل بھجوا کر پھر خانہ کعبہ کی جانب بڑھ گئے، کہ ٹھنڈے اور پرسکون حرم میں بیٹھ کر اﷲ کے گھر کا نظارہ کریں گے، اس کے گرد پروانہ وار گھومتے پروانوں کو دیکھیں گے، باب عبد العزیز سے اندر داخل ہوئے تو مطاف میں رش کافی کم تھا، ہمارے قدم بے اختیار اس جانب اٹھ گئے، ان پروانوں میں شامل ہونے کا فیصلہ لمحوں میں ہی ہو گیا، ایک چکر دوسرا اور تیسرا ۔۔۔ اذان ِ عصر سے پہلے ہم سات چکر پورے کر کے مقام ِ ابراہیم کی دو رکعت بھی ادا کر چکے تھے، اور اب نماز کے لئے حرم میں ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں مطاف ہی نہیں خانہ کعبہ بھی بالکل سامنے تھا۔اور جب خانہ کعبہ سامنے ہو تو آپ اس کی جانب دیکھ کر بھی قیام کر سکتے ہیں،اﷲ کے گھر کی کیا رونق؟!!

عصر کے بعد حرم کے ایک قالین پر خواتین کے حصّے میں آرام کی غرض سے لیٹ گئی، مغرب تک کافی ٹائم تھا، اب اندازہ ہوا کہ بدن تھکن سے چور ہے، کل سے سفر، عمرہ اور پھر لمبی واک کے بعد طواف، جسم کا برا حال تھا تھکاوٹ سے، جب کہ روح شاد تھی، ہلکی پھلکی!! اپنے ہی ہاتھوں سے ٹانگیں اور پاؤں دبائے، تازہ وضو کیا اور مغرب کی نماز کے لئے برقی سیڑھیوں سے پہلی منزل پر چلی گئی، اس حصّے میں ابھی کافی گنجائش موجو د تھی، مجھ سے آگے بنگالی بہنیں بیٹھی تھیں، اور ایک سعودی منتظمہ انہیں با جماعت نماز اور نمازِ جنازہ کا طریقہ بتا رہی تھی، میں نے موقع پا کر دو سوال پوچھ لیے :
۱۔ باجماعت نماز میں سلام ہمیں امام کے ساتھ پھیرنا چاہیے یا مکبر (دوسری آواز، جو امام کے بعد حرم میں سنائی دیتی ہے) کے ساتھ؟ اس کا جواب تھا کہ مکبر کے ساتھ ادائیگی کا زیادہ ثواب ہے۔
۲۔ عمرے کے مختصر سفر میں یہ سوال کئی مرتبہ ذہن میں آتا ہے کہ یہاں قصر نماز ادا کی جائے یا مکمل؟ کیونکہ حرم کی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ فرض نماز امام کے طریقے پر ادا کی جائے، اور باقی سب نفل ہے، جو بھی زائد پڑھیں گے اس کا ثواب ملے گا، حرم کی برکتوں کے حساب سے۔

یہ بھی پڑھیں:   دادی اماں کھیل کو جائیں - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

میرے ساتھ بیٹھی خاتون مسلسل ایک بڑی سی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھی، مختلف رنگوں کی پنسلوں سے صفحات کو جگہ جگہ ہائی لائٹ کیا ہوا تھا، ہاتھ میں چھوٹی سی بیاض تھی، جس میں وقفے وقفے سے نوٹس لئے جا رہے تھے، اس نے کتاب بند کی تو میں نے جھانک کر نام بھی دیکھ لیا، ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ مصنف اسماعیل بن کثیر۔ میرا خیال تھا کہ وہ کوئی استاد یا طالبہ ہو گی، مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بتایا کہ وہ تو ’’ہاؤس وائف‘‘ ہے ، اور اتنی عرق ریزی سے نوٹس بنا کر محض شوقیہ مطالعہ کر رہی ہے، ہمارے سعودین کے بارے میں عمومی تصور کہ تیل کی دولت نے انہیں محض سہل پسنداور عیش پرست بنایا ہے، میں کافی بڑی دراڑ آگئی۔ میں نے بتایا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ خالص علمی انداز میں اس کی زمین، محل ِ وقوع، ہمسایہ ممالک ، بودو باش اور نجانے کیا کیا سوال کرنے لگی، کچھ جواب دیتے ہوئے ہمارا دماغ بھی پسینہ پسینہ ہو گیا، ہم نے بات کا رخ موڑا اور اسے اپنے ریسرچ کے موضوع کا بتایا تو وہ اسی اشتیاق سے جاحظ اور توحیدی اور انکی کتب کے بارے میں پوچھنے لگی، بلکہ اب کہ اس نے اپنی کتاب میں چوتھی صدی کے مشاہیر کی لسٹ نکال لی، جہاں عباسی دور میں تلاش بسیار کے باوجود ابوحیان توحیدی کا نام نہ مل سکا، کیونکہ اس کے ہم عصروں نے اس کے حسد میں اس کا تذکرہ اپنی کتابوں میں بھی نہ کیا تھا، جو خلفاء اور وزراء کے عیوب بیان کرتا تھا، بڑی منصوبہ بندی سے اسکے نام کو تاریخ سے مٹانے کی کوشش کی گئی تھی، ہماری پہلو کی ساتھی نے اسکا مختصر تعارف اور کتابوں کے نام لکھے، اس ارادے سے کہ وہ بھی اس کی کتاب پڑھے گی۔

نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد ہمارے گھر والوں نے ہمیں بن داؤد کی سائیڈ پر بلایا، یہیں سے ہم نے پاکستان سے حج کے لئے آنے والی اپنی ساتھی آمنہ قاسم سے رابطہ کیا، کچھ دیر میں ہم باب عبد العزیز کے سامنے ان سے مل رہے تھے، آمنہ بہن پہلی مرتبہ یہاں آئی ہیں، اورپہلی محبت کے سرور میں اپنی کیفیات بتا رہی تھیں، اﷲ کے گھر کے گرد دیوانہ وار چکر لگانے کا فلسفہ ۔۔ ہر چیز میں اﷲ کی رضا کو پیش ِ نظر رکھنے کا جذبہ، اور اس کی راہ میں جان و مال کی تجارت!! اگر یہ سارے مسلمان متحد ہو جائیں تو اﷲ کی اس فوج کا پوری دنیا میں کوئی بال بیکا نہ کر سکے، مگر یہ دیوانے اس دیوانگی کو یہیں چھوڑ کر صرف ثواب اور مغفرت کی پوٹلیاں ساتھ لے کر جاتے ہیں، یہاں سے باہر نکلتے ہی انہیں اپنے اختلافات یاد آ جاتے ہیں ۔۔ المیہ ہی المیہ!!

عشاء کی نماز ختم ہوتے ہی ہم حرم ٹاور کی جانب چل پڑے جہاں مرد حضرات کھانے کا آرڈر دے چکے تھے، بس ہمارا انتظار تھا، کھانا سامنے تھا ، اور ہماری باتیں ۔۔ ہمیں گزشتہ سال حج کی باتیں کسی فلم کے مناظر کی طرح یاد آ رہی تھیں اور اپنی دانست میں اسی کے مطابق آمنہ بہن کو مشورے دے رہے تھے، کھانا کھا کر صحن ِ حرم میں پہنچے تو آمنہ نے قاسم بھائی سے کہا: ’’اب ان سے اجازت لیں‘‘، وہ بولے: ’’یہ ہمیں اجازت دینے ہی آ رہے ہیں‘‘۔ انہیں رخصت کر کے ہم ٹیکسی کے لئے بن داؤد کی جانب بڑھے تو قدم بھاری ہو رہے تھے، آنکھوں میں غنودگی تھی، اور جسم کا انگ انگ شکوہ کر رہا تھا، ہم نے بیٹے سے کہا: ’’ٹیکسی تک پہنچنے کا شارٹ کٹ بتاؤ‘‘، میاں بولے: ’’کبوتر چوک تک تو چلنا ہی پڑے گا‘‘، ہم نے سارے جسم کی ہمت جمع کی اور ابھی چند قدم بھی نہ چلے تھے کہ خانہء خدا سے آنے والی پکار نے ہمارے قدم روک لیے: ’’الصلوۃ جامعۃ‘‘۔

یہ عید، استسقاء اور کسوف اور خسوف کی نمازوں کی پکار ہے، (ان نمازوں سے قبل اذان نہیں دی جاتی)۔ ہمارے قدم بے اختیار واپس صحن کی جانب گھوم گئے، ہمیں یاد آگیا کہ ہمارے موبائل پر دن کو اس صدی کے سب سے طویل مدت کے ’’چاند گرہن‘‘ کی پوسٹ آئی تھی۔جس کے مطابق ۲۷ جولائی بروز جمعہ المبارک رات کو اس صدی کا سب سے طویل چاند گرہن ہو گا، جو آٹھ بجے سے صبح چار بجے تک جاری رہے گا، اور اس میں ۱۰۳ منٹ مکمل چاند گرہن ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق : ’’چاند اور سورج گرہن آثار قدرت ہیں، کسی کے مرنے جینے سے نمودار نہیں ہوتے، بلکہ اللہ اپنے بندوں کو عبرت دلانے کے لئے ظاہر فرماتا ہے۔ اگر تم ایسے آثار دیکھو تو جلد از جلد دعا، استغفار اور یاد ِ الہی کی طرف رجوع کرو۔ (صحیحین)

ہم نے میاں صاحب سے اجازت چاہی: ’’میں ذرا صلاۃ الکسوف پڑھ آؤں‘‘، اور ان کے کسی جواب سے پہلے ہی وضاحت کی: ’’میں نے تمام عمر کبھی نہیں پڑھی یہ نماز، بس میں دو منٹ میں پڑھ کر آتی ہوں‘‘، (قارئین کرام اسے حقیقی دو منٹ نہ سمجھ لیں، دو منٹ میں تو کوئی بھی نماز مکمل نہیں ہوتی، یہ ایسا ہی جملہ تھا جو بیوی پڑوسن کے ہاں جاتے ہوئے کہتی ہے، میں ذرا دو منٹ کے لئے جا رہی ہوں ، آدھ گھنٹے بعد چولھا بند کر دیجئے گا‘‘)، ہمارے اس دو منٹ سے میاں صاحب نے کیا مراد لیا ہمیں معلوم نہیں، کہنے لگے میرا وضو بھی ہے، بیٹا بولا: میراااا خیال ہے۔ ‘‘، اگر خیال ہے کہ ہے تو آ جاؤ ۔۔ ‘‘، دوسرا بیٹا جھٹ بولا: ’’میرا وضو نہیں ہے ‘‘، اسے سامان کے پاس بٹھا کر ہم تو امام صاحب کی پکار کا جواب دینے بھاگے، یہاں وہاں صفیں بننی شروع ہو گئی تھیں، اگرچہ عشاء کے ڈیڑھ گھنٹے بعد زیادہ تر لوگ اپنی رہاش گاہوں میں جا چکے تھے۔ ہم نے امام صاحب کی اقتداء میں نماز شروع کی، انہوں نے جہری نماز پڑھائی، اور پہلی رکعت میں سورۃ الکہف شروع کی، ہم ہر رکوع کے اختتام پر سوچتے کہ شاید اب رکوع کیا جائے مگر قیام طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا، حتی کے سورۃ کے مکمل کرنے کے بعد رکوع آیا، یعنی بارہ رکوع کے بعد، رکوع بھی طوی ی ی یل تھا، کم از کم ۵۰ مرتبہ تسبیح کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ کا مقام آیا، اور اسکے بعد پھر سورہ الفاتحہ اور پھر طویل قرأت یعنی سورۃ الزخرف جس کے سات رکوع ہیں، اسکے بعد طویل رکوع اور اسکے بعد دو سجدے، ہر سجدے میں لمبی تسبیحات اور اسکے بعد تشہد۔ پھر قیام اور سورہ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاحقاف، ۴ رکوع ، پھر طویل رکوع مگر پہلے سے کم، پھر سمع اللہ کے بعد سورۃ الفاتحہ اور اسکے بعد سورۃ الواقعۃ تین رکوع، اب رکوع جو پچھلے تین رکوع سے کم طویل، اور پھر دو سجدہ جو طوالت میں پہلے سے کم، اور پھر قعدہ ثانیہ کے بعد سلام۔ اور سلام کے بعد خطبہ جس میں عبرت اور نصیحت۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز میں استقامت کیسے؟ رومانہ گوندل

صلاۃ الکسوف اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک چاند گہن سے باہر نہ نکل آئے، اس میں سورۃ البقرۃ و آل عمران اور النساء جیسی طویل سورتیں پڑھنا ضروری نہیں ہے، مگر آپ ﷺ نے طویل تلاوت فرمائی ہے اور اتنا طویل قیام کہ بعض صحابہ غش کھا کر گر پڑے۔ اس کی سورتیں متعین نہیں ہیں لیکن ان کا طویل ہونا اور ان میں جھنجھوڑنے کا انداز ہوتا ہے، سورۃ الاسراء کا پڑھا جانا بھی منقول ہے۔

ہم صلاۃ الکسوف کو چار رکعت سمجھ رہے تھے لیکن یہ دو رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں دو قیام، دو رکوع اور دو سجدے ہیں، یہ بندے کے اللہ کی جانب رجوع اور استغفار کی علامت ہے۔

ہم نمازمکمل کر کے ٹیکسی کی جانب چلے تو خلاف ِ توقع ٹانگیں سیدھی ہو چکی تھیں، بلکہ کمر کے کس بل بھی نکل چکے تھے، اللہ کرے کہ دل کی ٹیڑھ بھی ختم ہو چکی ہو۔ ٹیکسی میں بیٹھے تو پاکستانی ڈرائیور موبائل پر پاکستان محو گفتگو تھا، اور پاکستان کا گرما گرم موضوع عوامی الیکشن کے نتائج تھے، جہاں الیکٹیبلز کے برج زمین بوس ہو چکے تھے، اور پی ٹی آئی اور آزاد امید وار نمایاں طور پر کامیاب ہو گئے تھے، دھاندلی کی اکا دکا خبریں تھیں، مگر ابھی فارم نمبر ۴۵ کا رونا رویا جا رہا تھا۔
ہم ہوٹل پہنچے تو چائے لیکر پہنچے، تاکہ باقی کی تھکاوٹ بھی اتر جائے، مگر یہ رات بہت سکون کی رات تھی، ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب‘‘۔

صبح فجر کے بعد مدینہ روانگی تھی، بیٹوں اور میاں نے قریب ہی کوئی مسجد تلاش کر لی تھی، اس دوران ہم نے تمام سامان پیک کر لیا، راستے میں ایک جگہ رک کر ناشتہ بھی کر لیا، اور گیارہ بجے ہم مدینہ پہنچ چکے تھے، مدینہ کی پرنور فضاؤں میں کچھ دیر بہت سکون سے بیٹھنا میسر آ گیا، وہیں ہماری بیٹی کی سہیلی اور ان کی والدہ سے ملاقات ہو گئی، وہ حج کے لئے آئیں تھیں، اور حاجیوں کے شوق اور جزبے کا کیا کہنا!!

نماز پڑھ کر ہم نے بس سٹاپ کی طرف باقاعدہ دوڑ لگائی، کیونکہ مدینہ اتارتے ہوئے حملہ بس کے ڈرائیور وقت کی پابندی کے بارے میں ڈرا کر رکھتے ہیں، پھر کتنے ہی دوستوں کی کہانیاں قدموں کو کچھ اور تیز کر دیتی ہیں جنہیں بے رحم ڈرائیوروں نے مدینہ ہی چھوڑ دیا تھا، ہماری بس’’ البیک ‘‘ کے قریب مسجد بلال بن رباح کے قرب میں کھڑی تھی، اور ہم تپتی ہوئی فولادی سیڑھیوں اور ہیڈ برج کو پار کرتے ہوئے مسلسل اﷲ کا ذکر کر رہے تھے، سانس پھول رہی تھی، ہمارا دستی سامان بچوں کے ہاتھ میں تھا، ہم ٹارگٹ سے دو چار منٹ زائد پر بس میں بیٹھ چکے تھے، اور اس کے بعد ہمارے مہربان ڈرائیور صاحب دو خاندانوں کا انتظار کر رہے تھے، تقریباً آدھ گھنٹے بعد وہ اپنے کھانے کے لوازمات تھامے اندر داخل ہوئے تو بس چلی۔

واپسی کا سفراونگھتے سوتے گزرا، بس جہاں رکتی، پانی اور ہلکے پھلکے سنیکس کے ساتھ ہم پھر اونگھنے لگتے، عنیزہ کے آثار نظر آئے تو گھر پہنچنے کی خوشی چہروں پر آگئی، ہم’’ آئبوں، تائبون، عابدون، لربنا حامدون‘‘ پڑھتے اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔
٭٭٭