قادیانیت سے واپسی - در صدف ایمان

عبد الرحمان! کل میں تمہیں ایک سوشل ویب پر قادیانیوں کے حق میں بولتے دیکھا، یار تم اپنے ایمان سے کیوں کھیل رہے ہو؟ جانتے ہو نا قادیانی غیر مسلم و مرتد کے ضمن میں آتے ہیں۔
عبد الرحمن مسکرایا اور بولا بھائی جان قادیانی مسلمان ہی ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی مانتے ہیں۔
کیا تمہارا دماغ چل گیا، فوزان کو جیسے جھٹکا سا لگا۔
ہاں! کچھ غلط نہیں کہا لیکن مرزا غلام احمد بھی مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ عبد الرحمن نے اطمینان سے جواب دیا
فوزان تو جیسے یہ الفاظ سن کر گنگ ہوگیا، دل پر جیسے کسی نے تیز دھاری آلے سے وار کر دیا ہو۔ آنکھوں میں شدت غم سے آنسو آگئے۔
میرے بھائی! ایسا نہیں بولو، مسلمانوں کے لیے غیر نبی کو نبی ماننا بھی گناہ ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی خاتم النبین ہیں۔
فوزان بھائی پلیز بند کریں یہ اپنی فرسودہ باتیں، ایسا کچھ نہیں ہے اور میرا دماغ خراب نہیں کریں۔ عبد الرحمن یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
فوزان نے اسے دیکھتا رہا۔ شاید نوکری نہیں مل رہی، اس لیے غصہ کر گیا، شام میں آرام سے بات کروں گا۔ میرا اچھا بھائی ہے، اپنے رویہ پر شرمندہ ہوگا۔ یہ سوچ کر فوزان کو اطمینان ہوا اور کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔

عصر کے وقت نماز کے لیے مسجد گیا نماز کی ادائیگی کے بعد گھر کی طرف آرہا تھا۔ راستے میں فوزان کو عبد الرحمان کا بچپن کا دوست کاشف ملا جو ایجوکیشنل ڈیپارٹمنٹ میں اچھے عہدے پر فائز تھا۔ فوزان نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا کیونکہ عبد الرحمن کے دوست کی حیثیت سے کاشف سے فوزان کی بھی اچھی دوستی تھی، مگر اسے شدید حیرت ہوئی جب کاشف نے اسے دیکھا، پھر بھی بنا بات کیے آگے بڑھنے لگا۔
کاشف، کاشف! بات سنو کیا ہوا ہے؟ عبد الرحمن سے کوئی جھگڑا ہوا ہے کیا؟
نہیں۔ اس نے یک لفظی جواب دیا۔
پھر کیا ہوا؟
فوزان بھائی! یہ کہتے ہوئے کاشف فوزان کے گلے لگ گیا۔
کاشف کیا ہوا ہے؟
فوزان بھائی عبد الرحمن..
ہاں کیا ہوا عبد الرحمن کو؟
کاشف کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ فوزان بےچین ہوتا جارہا تھا۔
مجھے بتاؤ کیا ہوا عبد الرحمن کو؟ وہ تو گھر تھا۔
اچھا گھر چلو، بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ فوزان کاشف کو لے کر گھر آگیا۔
ثوبان بیٹا کاشف انکل کے لیے پانی لے کر آؤ۔ ثوبان نے اپنے بیٹے کو آواز دے کر کہا۔ کچھ ہی دیر میں ثوبان پانی کی بوتل اور گلاس لے کر آگیا۔ کاشف کو سلام کیا، مصافحہ کرکے پانی دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ پانی پی کر کاشف کی حالت کچھ سنبھلی۔ فوزان نے دیکھا تو دوبارہ استفسار کیا۔
کاشف نے ایک لمبی سانس لی جیسے ہمت جمع کر رہا ہو، اور گویا ہوا،
''فوزان بھائی آپ جانتے ہیں نا عبد الرحمن میرا بچپن کا دوست ہے، بھائیوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں اس سے۔ اتنا کہہ کر کاشف کا لہجہ پھر بھرانے لگا۔
فوزان نے دیکھا تو کہا، دیکھو کاشف! جو بھی بات ہے تم کہو، میں جانتا ہوں تم عبد الرحمن سے زیادہ محبت کرتے ہو۔
کاشف کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔
فوزان بھائی مجھے معاف کردیں میں عبد الرحمن کی حفاظت نہیں کرسکا۔ نہ جانے کب کیسے اسے مجھ سے اچھے دوست مل گئے اور وہ ان کا عادی ہو کر ان کی روش پر چل نکلا۔ وہ قادیانی ہوگیا، وہ مرتد ہوگیا۔ اتنا کہہ کر کاشف پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور فوزان کو یہ سن کر لگا جیسے قیامت آگئی ہو۔ وہ وہیں ڈھے گیا۔ خالی نظروں، گنگ زباں سے کاشف کو دیکھتا رہ گیا۔ بنا آواز کے دل سے نہیں نہیں کی تکرار بلند ہوتی رہی۔ کافی دیر گزر نے کے بعد جب کچھ ہمت مجتمع ہوئی، فوزان نے کاشف سے تفصیل لی، جس سے معلوم ہوا کہ ملازمت کی تلاش کرتے کرتے وہ ان لوگوں سے جا ملا جو ایمان خرید کر دنیا دیتے ہیں اور پھر انھوں نے ملازمت نہ ملنے سے ہونے والی ذہنی کوفت کا خوب استعمال کیا اور دنیاوی رنگین خواب دکھائے، یہاں تک کہ وہ ان کی امیدوں پر پورا اتر گیا۔

فوزان نے پورا معاملہ سننے کے بعد کاشف کو تاکید کی کہ عبد الرحمن سے کوئی ذکر نہ کرے، وہ خود اس سے بات کرے گا۔ کاشف اجازت لے کر رخصت ہوا تو فوزان نے دو رکعت نماز حاجت کی نیت کی اور نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد سجدے میں گر کر خالق کائنات سے اپنے بھائی کے لیے دعا کرنے لگا اور رو رو کر اس کے حضور ایمان مانگتا رہا۔ ہدایت کی دعا گڑ گڑا کر مانگی۔ عشاء کی ادائیگی کے بعد گھر لوٹ کر آیا اور عبد الرحمن سے بات کرنے کے لیے اس کے کمرے کی جانب بڑھا۔ دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا عبد الرحمن جائے نماز پر ہے اور چہرہ آنسوؤں سے تر ہے۔ فوزان خاموشی سے وہیں بیٹھ گیا۔ کافی دیر بعد جب عبد الرحمن کی گریہ و زاری سے سانس اکھڑنے لگی تو فوزان اٹھا اور گلاس میں پانی لے کر اس کے قریب پیٹھ تھپتھپائی، پانی پلایا، جب کچھ سنبھلا تو فوزان کے آگے ہاتھ جوڑدیے۔
میں بہک گیا تھا، میں بھول گیا تھا۔ یہ عارضی سکون ہے۔ میں بھول گیا تھا کہ ملازمت نہ ملنا بھی رب کی طرف سے آزمائش ہوسکتی ہے۔ کتنا سستا ایمان بیچا میں نے؟ کتنا سستا بھائی؟ کیا منہ دکھاؤں گا اپنے رب کو؟ رب کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو؟ میں کتنا بڑا منکر نکلا؟ سب کچھ ہوتے ہوئے صرف ایک آزمائش پر سب کچھ داؤ پر لگانے چلا گیا تھا۔ میں قرآن کا انکار کرنے چلا تھا جس میں فرمایا گیا:
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاo (الاحزاب، 33 : 40)
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبيين ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

بھائی مجھے ماریں۔ ماریں مجھے، میں ان لوگوں کی حمایت کے لیے کھڑا ہوا جو ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ سے بدتمیزی کی، غیر نبی کو نبی ماننے چلا، کذاب کو..... آہ! میں نے کتنا بڑا گناہ کردیا، کتنا بڑا؟ میں کیا کروں؟ قرآن کا انکار جس کی سچائی کا انکار غیر مسلم نہیں کر پائے، اور میں مسلمان ہوکر قرآن کی ان سو سے زیادہ آیات کا انکار کر رہا تھا جو عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے، سب کا انکار کرتا چلا گیا۔ کیا جواب دوں گا میں؟ میں نے تو اپنے ماں باپ کی تربیت تک کو شرمندہ کردیا۔ جس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر مؤمن جان قربان کرتے ہیں،
اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ
’’میں خاتم النبیّین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔‘‘
اس کا ہی انکار کرنے چلا تھا، مجھے مرجانا چاہیے بھائی، مجھے مرجانا چاہیے۔

معاف کردے یارب العالمین! مجھے معاف کردے ،میں بہت گناہ گار ہوں، نا اہل ہوں، معافی کے قابل نہیں، مولا میں اپنے گناہ سے توبہ کرتا ہوں، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
آنسو قطار در قطار بہتے جارہے تھے۔
عبد الرحمن کے شرمندہ آنسو فوزان کے دل میں سکون اتارتے چلے گئے۔ اس نے عبد الرحمن کو دل کھول کر رونے دیا یہاں تک کہ عبد الرحمن کے دل کو سکون آنے لگا اور بہتے آنسو رکنے لگے۔ تب عبد الرحمن نے وہی سب بتایا جو کاشف سے معلوم ہوا تھا مگر پشیمانی اور احساس کی وجہ فوزان کی دعائیں بنیں جو عبد الرحمن نے بیان کی۔ جب شام میں گھر سے باضابطہ طور پر قادیانی ہونے کے لیے نکلا تو پوسٹ مین ملا جو ہمارا ہی گھر ڈھونڈ رہا تھا، اور مجھے دینے کے لیے لیٹر جس میں مجھے ملازمت مل جانے کی نوید تھی۔ مجھے وہ اپائنمنٹ لیٹر لے کر ایسا محسوس ہوا جیسے کائنات کا ذرہ ذرہ مجھ پر لعنت کر رہا ہے، میری عبادات منہ پر پھینکی جا رہی ہیں۔ مجھے لگنے لگا میرا دم گھٹ رہا ہے اور میری جان نکل رہی ہے۔ پھر جیسے تیسے گھر پہنچ گیا۔
سر جھکائے پشیمان شرمندہ عبد الرحمن کو دیکھ کر فوزان نے بےساختہ اپنے رب کا شکر ادا کیا اور شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے رب نے اسے مایوس نہیں لٹایا تھا بلکہ ایمان کو دگنا فرمادیا تھا۔ وضو کرتے ہوئے مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔