جاوید چوہدری کی خدمت میں 12 گزارشات - فضل ہادی حسن

روزنامہ ایکسپرس میں آپ کا کالم پڑھا، اس پرتبصرہ چند سوالات اٹھانے کی صورت میں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جو نمبر وار آپ کے مضمون کے نکات کے لحاظ سے پوچھنے کی جسارت کروں گا۔

1. آئی ایم ایف دنیا اور ملکوں کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے والا ادارہ ہے یا قرضوں میں جکڑنے والا ادارہ؟ معاشیات کے حوالے سے اس کی فہرست زیادہ معتبر سمجھی جائی گی یا کسی اعلی تعلیمی ادارے یا اکنامس ڈیوپلمنٹ اور ریسرچ ادارے کی فہرست معتبر سمجھی جاتی ہے؟ ذرا سارک ممالک کی یونیورسٹیز وی سیز کانفرنس سامنے رکھ کر سوچیے گا۔

2. آپ نے عاطف میاں کے لیے "مسلمان" لفظ لکھا ہے، اس پر کچھ لکھنے سے بہتر ہے کہ آپ ہی پوچھوں کہ پوری دنیا قادیانیت کیساتھ مسلمانوں کا تنازعہ اس طرح سمجھتی جس طرح شیعہ سنی کے بارے میں جانتی ہے، آپ نے ایسا "لفظ" کیسے استعمال کیا؟

3. آپ کے بقول وہ 2002ء میں قادیانی جماعت میں شامل ہوگئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے دینِ اسلام کے برخلاف، سرورِکائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی دوسرے انسان کو نبی مانا ہے، جیسے قادیانی جماعت نبی تحت الرسول، امام مہدی اور عیسی مسیح سمجھتے ہیں {معاذ اللہ}۔ میں کسی فقہی اختلاف میں پڑے بغیر آپ سے یہی سوال پوچھوں گا کہ اسلام میں غیر مسلموں کے کیا حقوق ہے، اور اسلام نے "مرتد" کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟

4. مضمون پڑھتے پڑھتے ایک ضمنی سوال ذہن میں یہ آیا کہ ممالک کو زبردستی {سخت شرائط کے ساتھ قرضہ کے بعد} نجکاری پر مجبور کرنے والی "آئی ایم ایف" کی فہرست میں نمایاں مقام رکھنے والا اور "نجکاری" ہی میں پی ایچ ڈی کرنے والے عاطف میاں، معاشی اصلاحات کے مشورے دیں گے یا نجکاری کے فوائدپر سفارشات؟

5. جب دلیل نہیں باقی نہیں رہتی تو آپ جیسے بہت سارے یہی کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ان سے علاج کرا دیتے ہیں، ان کے جہازوں میں سفر کرتے ہیں، ان کے موبائل ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ جاوید صاحب یہ کیا مفت میں دیتے ہیں؟ بلکہ اس کے بدلے بہت بڑا سرمایہ ان کے پاس جاتا ہے، اسی لیے وہ دنیا کی معیشت پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، اگر یہ آپ جیسوں کے ہاتھ میں ہوتا تو جس طرح اپنے ملازم کو جائز تنخواہ {ان کا حق} دینے میں سختی اور لیت و لعل سے کام لیتے ہیں، یقیناً یہ سہولیات مسلمان تو درکنار، غریب پاکستانیوں پر بھی حرام کردیتے۔

6. کیا واقعی ہم نے ہندوؤں کو نکالا ہے، یہودیوں کو نکالا ہے، چن چن کر ماہر عسائیوں کو نکالا ہے؟ آپ کے مضمون سے یہی رائے بنتی ہے کہ ہم نے انھیں زبردستی نکالا ہے۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن ایسے لوگوں میں کوئی یورپ و امریکہ کی شہریت کی خاطر چلا جاتا ہے تو کوئی عاطف میاں کی طرح "منظم انداز" سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے نام پربلائے جاتا ہے۔ نیز ہمارے لوگ یا تو فوج بالخصوص آئی ایس آئی کی مخالفت پر اور مذہب کو گالی دیکر بیرون دنیا میں سیاسی پناہ کے درخواست گزار بن جاتے ہیں یا پھر شہریت کی خاطر ہم جنس پرست شادی، قادیانی یا اہل تشیع {صرف چند علاقوں سے تعلق رکھنے والے} بن کر۔

یہ بھی پڑھیں:   قادیانی رہنما مرزا ناصر نے پارلیمان میں کیا کہا؟ آصف محمود

7. قائد اعظم نے جس وقت سر ظفراللہ خان کو وزیر خارجہ مقرر کیا تھا، اس وقت پاکستان کے پاس آئین تک نہیں تھا۔ آپ بتانا پسند کریں گے اگر قائداعظم رحمہ اللہ کی زندگی میں متفقہ آئین کی منظوری ہوتی اور قادیانی / لاہوری گروپ غیر مسلم قرار پاتے، تو کیا ان جیسا عبقری، جمہوری اور اصولی شخص ظفراللہ خان کو وزیرخارجہ کا منصب دے دیتا؟ نیز قیام پاکستان کے بعد تو فوج کا سربراہ بھی غیر مسلم رہا، کیا اب کوئی غیر مسلم پاکستانی فوج کا سربراہ بن سکے گا؟

8. آپ جیسے مطالعہ اور کتابوں کے درمیان رہنے والے فرد سے یہ جملہ "۔۔۔جو 1947 تک پاکستان کے وجود کے خلاف تھے" پڑھ کر حیرت ہوئی۔ آپ بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان 1947 سے پہلے تھا یا اس کے بعد؟ اگر بعد میں تھا تو پھر ان لوگوں نے پاکستان بننے کے بعد ریاست کی کب مخالفت کی ہے؟ آپ کسی ایک ایسے مذہبی رہنما کی نشاندہی کرسکتے ہیں، صرف ایک؟ اور اگر پاکستان 1947 سے پہلے تھا اور ہمارے آباؤ اجداد نے اس جدوجہد کو بہت پہلے ہی انگریزوں کے خلاف مزاحمت سے شروع کیا تھا تو پھر حاجی صاحب ترنگزئی، فقیر ایپی اور خود ملا نے جن کے خلاف جنگیں لڑی تھیں، آج ان کے بارے میں آپ کی دلیل کیا ہوگی؟ اس تاریخ کی درستگی کہاں سے شروع کریں گے، آخر کہاں سے؟ مہمند رائفلز، ایف سی کو تاریخ کے کس باب میں رکھیں گے، پاکستان مخالف یا محب وطن؟

9. دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کسی مولوی یا مذہبی رہنما کا جعلی ادوایات کا کاروبار، رشوت خوری، کرپشن، ملاوٹ شدہ کھانے کا کاروبار وغیرہ ہو؟ لیکن جب مذہب کا ذکر یا کوئی دینی معاملہ سر اٹھاتا ہے تو ہمارے ہاں ایسے دلیلں پیش کی جانے لگتی ہیں جیسے پاکستانی سائنسدان تو چاند سے بھی آگے پہنچ گئے لیکن مولویوں نے ان کو روک لیا ہے، ان کی علمی ریسرچ میں مولوی رکاوٹ بن گئے، ورنہ پاکستان کو کئی "نوبل پرائز" ملنے تھے۔

10.ہمیں اس ملک میں غیر مسلم قبول نہیں، یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ شہروں کو توچھوڑیے، پختون اور دیہاتی ماحول اور پاکستان کے پسماندہ اضلاع، ضلع بونیر اور شانگلہ جا کر دیکھ لیجیے گا کہ وہاں ہندو اور سکھ برادری کس طرح رہ رہی ہے؟ ان کے کاروبار، مندر، شمشان گھاٹ اور گردوارہ ویران پڑے ہیں یا آزادی سے آباد ہیں؟ پاکستان میں غیر مسلم رہتے ہیں اور وہ پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔ لیکن قادیانی لوگ اپنے آپ کو غیر مسلم قرار تو دیں، اسمبلی میں ان کے لیے مخصوص نشست پر وہ آجائیں۔ نہ پاکستان سے کسی غیر مسلم کو جلاوطن کیا جائے گا اور نہ اس ملک میں ان کے لیے عدم براشت والی صورتحال ہوگی۔ امن و امان اور سیکورٹی سے ہر پاکستانی شہری متاثر ہوا ہے، چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم، دیوبندی ہو یا بریلوی اور شیعہ، عیسائی ہو یا کوئی دوسرا۔

یہ بھی پڑھیں:   عاطف میاں کی تقرری، چند بنیادی باتیں - آصف محمود

11. مذہب کو پرائیویٹ اسٹیٹس دلانے کی بات کرنے والے آپ اکیلے نہیں ہیں لیکن اس جملہ سے پہلے جس طرح بےبنیاد دلیل کا ذکر کے پاکستان کی مقصدیت کی نفی کر دی۔ اگر ہندوستان میں بھی سیکولرازم اور پاکستان والے بھی یہی نعرہ لگائے تو تقسیم کی ضرورت کیونکر پیش آئی؟

12. عبداللہ بن ابی کی مثال دے کر آپ نے تاریخی طور پر ایک رُخ پیش کر دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمررضی اللہ کو اس منافقِ اعظم کے بارے وضاحت کچھ اس طرح فرمائی "مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ عرب یہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں"۔ ایک وقت اس منافق کو قتل کرنے کا بھی آیا تھا لیکن ان کے مسلمان بیٹے نے خود پیش ہو کر اجازت مانگی کہ کسی دوسرے کے ہاتھ والد کے قتل کی صورت میں پدری عصبیت کے تحت کوئی غلط اقدام اٹھا کر جہنم میں نہ جاؤں، میں اپنے والد کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کروں؟ ان کے جذبہ ایمان اور قربانی کو دیکھ کر رسول اللہ نےفرمایا جب تک تمہارے والد میرے ساتھ ہیں، میں ان کے ساتھ حسن سلوک کروں گا، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاعمر اس منافق سردار کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا۔

اول سے آخر تک آپ کا کالم پڑھنے کے بعد یہ لگا کہ آپ نے نہ چاہتے ہوئے لکھا یا کسی سخت مجبوری کے تحت لکھا گیا ہے، ورنہ چند نکات لکھتے ہوئے ضرور ڈبل چیک {آپ کے لکھنے کا سٹائل ہے} کرلیتے۔ میں تو طالب علم ہوں لیکن اتنا ضرور بتا سکتا ہوں کہ کچھ موضوعات پر لکھنے یا ان کا دوسرا پہلو جاننے کے لیے (دینی مدارس نہ سہی) اسلامی نظریاتی کونسل، ادارہ تحقیقات اسلامی، شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سمیت دیگر علمی اور اسلامی تحقیقاتی اداروں سےرجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ شکریہ!

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.