خان صاحب! مجھے آپ پر اعتبار نہیں - احسن سرفراز

کسی وقت میں بھی خان صاحب کے سحر میں مبتلا تھا، 2011ء جلسہ سے پہلے ہی ان کی یو ٹیوب پر تقاریر گھنٹوں دیکھا کرتا تھا۔ پھر 2011ء کا جلسہ ہوا اور خان صاحب کے رنگ ڈھنگ اس جلسے کے بعد بدلنے لگے، تبدیلی کا نعرہ بدنام زمانہ الیکٹیبلز کے ہاتھوں پامال ہونے لگا، ایمپائر کی انگلی تھام لی گئی، 2014ء کے معروف دھرنا کے بعد تو خان صاحب سے رومان تقریباً ختم ہو گیا۔

خان صاحب سے رومان ختم ہونے کی بنیادی وجوہات میں ان کا عادی جھوٹا ہونا اور کہہ مکرنیوں کا شاہکار ہونا ہے۔ انھوں نے تبدیلی کا نعرہ لگایا، کرپشن ختم کرنے کی بات کی لیکن دائیں بائیں چن چن کر کرپٹ الیکٹیبلز کا ڈھیر لگا لیا۔ جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ اس کا پارٹی میں اتنا ہی اونچا عہدہ۔ یہاں تک کہ پارٹی الیکشن میں جب کارکنان کی شکایات پر پارٹی الیکشن کمیشن سربراہ جسٹس وجیہ الدین نے علیم خان، پرویز خٹک، جہانگیر ترین، اعظم سواتی وغیرہ کو ووٹ خریدنے پر پارٹی کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کی سفارش کی تو خان صاحب صاف مکر گئے اور الٹا جسٹس وجیہ ہی کو مستعفی ہونا پڑا۔ اگلی بار پارٹی میں انٹرنل الیکشن کی قانونی ضرورت کو ڈمی الیکشن کروا کر پورا کیا گیا۔ پارٹی کے بانی رکن نے الیکشن کمیشن میں پارٹی فنڈنگ خورد برد سے متعلق رٹ درج کی، جس کا جواب دینے سے خان صاحب آج تک قاصر ہیں اور اس کیس کو حیلے بہانوں سے مسلسل ٹالا جا رہا ہے۔

اقتدار کے حصول کے لیے ایمپائر کی انگلی تھامنے سے بھی جب دل کو قرار نہ آیا تو توہم پرستی کی معراج پر پہنچ کر پانچ بچوں کی ماں اپنی پیرنی کو طلاق دلوا کر خفیہ نکاح رچایا اور اس پر پہلے جھوٹ بولا اور بعد میں نکاح کا ڈرامہ کیا۔ مزار پر جا کر سجدہ ریز ہو گئے اور بعد میں اس کی تاویلیں کرتے رہے۔ یہ خان صاحب کے فکری بانجھ پن کا عروج تھا جب میرے دل سے وہ یکسر اتر گئے۔

اقتدار ملنے کے بعد بھی خان صاحب قطعاً نہ سدھرے، پہلے وکٹری خطاب میں ہی جو وعدے کیے چند ہی دن بعد ہر عمل اس کے الٹ کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہنے اور سادگی اپنانے کی ٹرک کی بتی کے پیچھے قوم کو لگایا اور آخر میں تان وزیراعظم ہاؤس میں موجود ملٹری سیکرٹری کے گھر رہنے سے ٹوٹی، جن گورنر و وزراء اعلیٰ ہاؤسز پر اقتدار ملنے سے پہلے بلڈوزر چلانے کی باتیں کرتے رہے، آج ان کی حکومت کے گورنرز و وزراء اعلیٰ انھی گھروں میں براجمان ہیں۔ ہالینڈ کے وزیراعظم کے سائیکل پر دفتر جانے کی باتیں کیا کرتے تھے لیکن عمل کی دنیا میں خود اور ان کے وزراء اعلیٰ سرکاری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں پر گھوم رہے ہیں اور حکومتی نمائندے اس کی بھی مضحکہ خیز تاویلیں کر رہے ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ڈاکو، بھتہ خور اور قاتل قرار دیتے رہے، آج انھی سے مل کر حکومت بنانے پر مجبور ہیں، ق لیگ و MQM اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ بہرحال جن نان ایشوز کو یہ خوبیاں بنا کر پیش کرتے رہے، آج وہ سب کام کرنا ان کے گلے پڑ رہے ہیں۔

دھاندلی کے اعتراضات پر انھوں نے اپوزیشن کو جتنے مرضی حلقے کھلوانے کی آفر دی اور جب سعد رفیق نے خان صاحب کے ہی حلقے میں گنتی کی درخواست کی تو اپنے وکیل بابر اعوان کو اس گنتی رکوانے کے لیے بھیج دیا، بعد میں خان صاحب کی آفر کو چیف جسٹس نے سیاسی بیان قرار دے دیا۔ اپنے دھرنے کے دور میں جس مرتد قادیانی مبلغ کو وزیر خزانہ بنانے کی بات کی تھی اور شدید تنقید کے بعد اس کی ختم نبوت قانون کے خلاف لابنگ سے لاعلم ہونے کا کہہ کر اس کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا، لیکن حکومت ملنے کے بعد اسی عاطف میاں قادیانی کو اکنامک ایڈوائزری کونسل میں مشیر لگا دیا۔ شدید اعتراضات کے بعد ان ا وزیر اطلاعات، اعتراض کنندگان کو انتہا پسند کہہ کر بڑھکیں مارتا رہا اور جب اعتراضات کا دائرہ غیر معمولی حد تک پھیل گیا تو بادل نخواستہ اس فیصلے کو واپس لینا پڑا۔

ان کا ارسطو وزیر خزانہ جو پہلے پٹرول ٹیکسز پر بھی الیکشن سے چند ماہ پہلے اعتراض کیا کرتا تھا اور عوام کو ریلیف دینے کی بات کرتا تھا، اب اس نے الیکشن جیتنے کے بعد پہلا ڈاکہ ہی بجلی، گیس، ایل این جی، ٹول ٹیکس، شناختی کارڈ کی فیسیں اور کھاد کی قیمتیں بڑھا کر عام آدمی کی جیب پر ڈالا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز بند کر دیے گئے ہیں، ٹرین اور میٹرو کے کرائے بھی بڑھنے کی شنید ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کے دعویداروں نے ڈیلی ویجرز کو نکال کر ان کا چولہا سرد کر دیا ہے۔ اس حکومت کی بدحواسیاں اور سیاسی لطیفے تو اب ضرب المثل بنتے جا رہے ہیں۔ امریکہ و بھارت سے سفارتی رابطوں میں کنفیوژن سامنے آئی، فرانسیسی صدر کا فون نہ سننے والی جھوٹی بات کو پھیلنے کا موقع دیا گیا اور بالآخر اس کی تردید کرنا پڑی۔

آج خان صاحب کی کابینہ پرویز مشرف کے دور کا چربہ ہے، تبدیلی کا نعرہ مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ایک غیر معروف شخص کو ایمپائر کی سفارش یا کسی روحانی ٹوٹکے کے نتیجہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیر اعلیٰ لگا دیا گیا ہے، آتے ہی خاتون اول کے سابق شوہر کے قضیے پر اس نے اپنا روایتی حکمرانوں والا رنگ ڈھنگ واضح کیا۔ خود خان صاحب الزام تراشیوں کی بنیاد پر مخالف سیاستدانوں کی تضحیک کرنے، ہنڈی سے پیسے بھیجنے اور بل جلانے سے لیکر سول نافرمانی کی اپیل کرنے تک ملک میں سیاسی رواداری کو پامال کرنے کی بدترین تاریخ رکھتے ہیں۔ تو جسے ایمپائر کی مہربانی سے بدترین پری پول و آفٹر پول دھاندلی کے بعد اقتدار دلوایا گیا ہے اور مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر خود اس کا ماضی و حال جھوٹ اور یوٹرنز کا مرقع ہے تو ایسے فرد پر اس کے مخالفین کیسے اعتبار کر سکتے ہیں؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈیم بنانے جیسے اہم معاملہ کو پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں میں لایا جاتا، اس پر کھلی بحث کروائی جاتی، سب سے تجاویز لی جاتیں۔ اگر سب مل کر فیصلہ کرتے کی ڈیم بنانے جیسی ناگزیر ضرورت کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ چندہ بھی اکھٹا کرنا ہے تو پارلیمنٹ کے نام پر ہی اکاؤنٹ کھولا جاتا، ہر جماعت کا سربراہ ذرائع ابلاغ پر اس فنڈ میں دل کھول کر عطیات جمع کروانے کی اپیل کرتا اور ہم ایک قوم بن کر اس مقصد کو لے کر چلتے۔ اب میرے جیسے لوگ جو خان صاحب کی لیڈرشپ کو مشکوک سمجھتے ہیں، ان کی پارٹی کو مفاد پرستوں کا ٹولہ اور واحد خوبی اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر ہونا گردانتے ہیں، کیسے ان پر اعتبار کر لیں؟

کیا نواز شریف، بلاول بھٹو، سراج الحق، فضل الرحمٰن وغیرہ میں سے کوئی حکمران ہوتا اور تحریک انصاف کو اعتماد میں لیے بغیر یہ اپیل کرتا تو انصافی بھائی و ان کا لیڈر عمران خان ان کا ساتھ دیتے یا سرعام اس فیصلے پر کیچڑ اچھالتے؟ اگر انصافی مندرجہ بالا سیاسی لیڈران پر اعتماد نہیں کرتے تو اسی طرح عمران خان کے مخالفین بھی بوجوہ اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ لہذا اگر ڈیم کے لیے فنڈ لینا ہے تو حکومت کو قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا اور اپنے مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا، وگرنہ عمران خان جن کا لیڈر ہے وہی اس کی اپیل پر ساتھ دیں، ہم تو خان کو عمل کے میدان میں ابھی ناکام پاتے ہیں، الا یہ کہ وہ اپنے شاندار کارکردگی سے ہمیں غلط ثابت کر کے ہمارا ذہن ایک دفعہ پھر بدل ڈالیں۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */