جاوید چوہدری صاحب! حدیث کو معاف رکھیں - حافظ یوسف سراج

جاوید چوہدری صاحب نے صحیح بخاری کی ایک حدیث کے متعلق فرمایا، وہ ضعیف ہے۔ مجھے سخت حیرت ہوئی۔ احادیث کو صحیح اور ضعیف کہنے کا فن اسلامیات کا مشکل ترین فن ہے، ہر عالم و مفتی بھی اس پر بات نہیں کر سکتا۔ بہت کم اور بہت خاص لوگ۔ مثلا تدوین حدیث کے سنہرے دور کے بعد چند ہی نام اس حوالے سے سامنے آ سکے۔ آخری بڑا نام محدث ناصرالدین البانی صاحب کا تھا۔ آخر جاوید چوہدری کیسے ایسا کہہ سکتا ہے؟
معلوم ہوا، وہ کہتے ہیں ان کے جاننے والے کچھ لوگ کلونجی کھانے سے بلڈ پریشر کے مریض بن گئے۔
مگر جاوید چوہدری کیسے طے کر سکتے ہیں کہ یہ بلڈ پریشر کلونجی سے ہوا؟
وہ ڈاکٹر ہیں نہ سائنسدان۔ جبکہ کسی چیز کو کسی بیماری کی وجہ بتانا تو بڑی طویل اور ہمہ جہت سائٹیفک تحقیق کا متقاضی ہے۔ چلیے ان پڑھوں کی طرح تکا ہی لگانا ہو تو جاننا چاہیے کیا اس دوران سوائے کلونجی کے انھوں نے کچھ نہ کھایا تھا کہ اور پھر ۔۔ کیا ان چند لوگوں کے علاوہ بھی دنیا بھر کے بلڈ پریشر کے مریض کلونجی ہی کھاتے تھے کہ اس مرض کا شکار ہوئے؟

اچھا چھوڑیے، دو واقعات سنیے۔
1- ایک شخص کشتی میں بیٹھا، دریا کی سیر کو نکلا۔ وقت گزاری کے لیے ملاح سے بات کرنے لگا۔ پوچھنے لگا،
تمھارے والد کیسے مرے؟
کہا ، کشتی میں!
پوچھا، دادا؟
کہا کشتی میں؟
پوچھا، پردادا؟
کہا، کشتی میں!
مسافر کہنے لگا، اتنے لوگ کشتی میں مر چکے، تم نے یہ کشتی چھوڑی کیوں نہیں؟
ملاح نے اس محقق کی بات سنی تو اس کی قابلیت سمجھ گیا۔
کہنے لگا، تمھارے باپ دادا کہاں مرے؟
کہنے لگا، چارپائی پر۔
ملاح کہنے لگا، تب تو تم نے چارپائی پر سونا چھوڑ دیا ہوگا؟

2- سائنس کے ایک طالب علم کو استاد کی یہ بات پسند آگئی کہ ہمیں سائنس میں محنت کی ضرورت ہے۔ اس نے چاہا مینڈک پر کچھ تجربہ کیا جائے۔ اس نے مینڈک پکڑا، آپریشن تھیٹر میں لٹایا۔ سیٹی پکڑی اور مینڈک کے پاس زور سے بجا دی۔ ظاہر ہے اس ناگہانی آفت پر مینڈک پوری قوت سے اچھل پڑا۔ اس نے کچھ سوچا اور مینڈک کی ایک ٹانگ کاٹ دی۔ پھر سیٹی بجائی تو مینڈک اچھلا مگر ایک ٹانگ پر اور پہلے سے کم۔ اس نے دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی۔ اب کے سیٹی بجائی تو مینڈک اچھل نہ سکا۔ کیسے اچھلتا، دونوں ٹانگیں کٹ چکی تھیں۔ اس نے نوٹ بک پکڑی اور اس میں اپنی تجربے کا نتیجہ کچھ یوں لکھا۔
مینڈک کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو وہ بہرہ ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اشکال کا جواب - حامد کمال الدین

جاوید چوہدری صاحب کو چاہیے، کالم لکھیں۔ باقی میدانوں میں تحقیق و تجربہ کرکے ایسے نتائج نکالنا انھی لوگوں پر چھوڑ دیں، جن کا یہ کام ہے۔
وگرنہ بخاری نے کیا ضعیف ہونا، خود چوہدری صاحب اپنا کالم ضعیف کرتے جائیں گے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • باکل بجا فرمایا ۔آج کل تو ہر کسی شعبے میں ماہرین چاہيے ،لیکن بد قسمتی سے دین ہی ایک ایسا شعبہ رہا ہے کہ جس میں الف ب تک نہ پڑھ سکنے والا بھی اپنی رائے دینا ہی نہیں بلکہ منوانا چاہتا ہے۔