دس روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ؟ - سید سلمان رضا

"دس روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ؟"
"ہرگز نہیں..."
"مرضی ہے آپ کی... ورنہ اس سے زیادہ ہی پھینک دیتا ہے ہر کوئی... کبھی ہفتے میں... کبھی مہینے میں... وہ بھی جانتے بوجھتے..."
"کوئی نہیں... جانتے بوجھتے کون پھینکے گا بھلا؟"
"پھینکتے ہیں جناب... آپ بھی پھینکتے ہیں... آپ نے بھی بارہا پھینکے ہیں..."
"کب پھینکے میں نے؟"
"تین روپے تو ابھی چند منٹ پہلے پھینک کے آ رہے ہیں آپ!"
"ہیں! کہاں؟"
"سی این جی بھروائی تھی ناں ابھی آپ نے اپنی گاڑی میں، چار سو سینتیس روپے کی سی این جی آئی تھی... پمپ والے نے چار سو چالیس روپے لیے... آپ نے بھی اعتراض کیا نہ تین روپے واپسی کا تقاضا... تین روپے پھینکے آپ نے جانتے بوجھتے کہ نہیں."
"اوہ... اچھا... ہاں..."

"اور ایسا آپ ہر دوسرے دن کر رہے ہوتے ہیں... کبھی روپیہ کبھی دو روپے کبھی تین روپے... ہفتے دو ہفتے میں دس بیس روپے پھینک دیے..."
"ہاں یار یہ تو کبھی خیال ہی نہیں کیا میں نے... "
"جی بھائی صاحب! کوئی خیال نہیں کرتا...
اور یاد دلاؤں! وہ پرسوں پلے روز جو آپ کے ماموں نے ریمیٹنس بھیجی تھی امریکہ سے 23 ہزار بتیس روپے... کیشئر نے آپ کو کتنے دیے؟"
"23 ہزار تیس روپے..."
"دو روپے وہاں بینک میں پھینک آئے آپ..."
"ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی!"
"جی جناب ہم لوگ خیال نہیں کرتے ورنہ جوتا لینے جائیے تو قیمت 2499 روپے... دیے کتنے? 2500... چپل 799 کی دیے 800... موبائل کارڈ 599 کا دوکاندار نے وصول لیے 600..."

"اوہ بھائی یہ کیا گورکھ دھندہ لے بیٹھے... واقعی کتنے پیسے پھینک دیتے ہیں ہم... کبھی غور ہی نہیں کیا!"

"جی ی ی ی! اب بتائیے دس بیس روپے پھینکنا پسند کریں گے آپ؟ جانتے بوجھتے؟"
"مگر کہاں؟"
"چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں!"
"دس روپے سے کیا ہوگا؟"

"کیوں نہیں ہو گا... ایک چھٹانک لوہا تو آ ہی جائے گا... یا دس بیس گرام سیمنٹ... یا ایک مٹھی بجری... یا ڈیم پر کام کرنے والے مزدور کی ایک روٹی... کچھ نہ کچھ تو ہو رہے گا... قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے..."

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی اور لبرلز کی دُہائی - مفتی منیب الرحمن

"مگر ان لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں... لے کے ڈکار جائیں..."

"تو آپ کی کون سی قرقی ہو جانی ہے دس روپے سے... آپ نیک نیتی سے دے دیجیے... سوچیے اگر واقعی ڈیم بن گیا تو... نسلیں دعائیں دیں گی ان شاء اللہ... صدقہ جاریہ ہے صدقہ جاریہ... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق موٴمن کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے جس کا ثواب موٴمن کو اس کے مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے ان میں سے ایک ہے نہر جاری کرنا... اسی طرح ایک مرتبہ ایک صحابیؓ کے دریافت کرنے پر کہ کون سا صدقہ افضل ہے... اپؐ نے فرمایا: پانی پلانا."
"سبحان اللہ!"

"دیکھیے اللہ تعالی نے ہمیں فقط کوشش کرنے کو کہا ہے... نتائج نہیں مانگے... آپ اخلاص کے ساتھ دے دیجیے... اپنے حصے کا ثواب جھپٹ لیجیے... آپ کی قبر میں ان شاء اللہ سیلاب آ جائے گا، اجر و ثواب کا سیلاب... بڑا نادر موقع ہے اور بہت معمولی رقم... چلیں اپنا موبائل نکالیے اور DAM لکھ کر 8000 پر میسج بھیج دیجیے... اور اپنے احباب کو بھی اس نیکی پر اکسائیے... جزاک اللہ خیراً کثیراً"