عمران خان کی بھٹو، ضیاء اور قائداعظم سے ملاقات کا احوال - اسامہ الطاف

پر تکلف ہال میں موجود آرامدہ کرسیاں تقریبا بھر چکی تھی، حاضرین تقریب گفت وشنید میں مصروف تھے جس سے ہال میں ہلکا سا شور برپا تھا۔ ہال کے مرکزی دروازے کے بالکل سا منے ایک آرام دہ کرسی پر ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخصوص انداز میں براجمان تھے، ان کے چہرے کی چمک کچھ مدھم تھی لیکن وہ پرسکون اور مطمئن تھے، ان کی کرسی کی پشت کے سہارے بینظیر کھڑی اپنے والد سے محو گفتگو تھیں، ان کا موضوع گفتگو غالبا بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر کی ضیا باقیات کے خلاف جدوجہد تھی۔
بھٹو کی نشست سے کچھ آگے ایک طرف صوفہ پر ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق لاپرواہی سے مشروبات سے لطف اندوز ہورہے تھے،گاہے وہ گویا بھی ہوتے، ایوب کے جملوں پر بعض اوقات ضیا کا قہقہہ بھی گونجتا۔ان کے عقب میں بیٹھے سکندر مرزا لاتعلقی کی اداکاری کرتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم تھے، لیکن ان کے کان ضیا اور ایوب کی جانب متوجہ تھے، وہ شاید ابھی تک ایوب خان سے خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے۔

ہال کے اخیر میں ایک مخصوص مسند بناہوا تھا، نفیس و پرکشش صوفہ تھا جس پر تین افراد با آسانی سما جائیں، تاہم ایک ہی شخص اس پر بارعب انداز میں براجمان تھے، ان کے ہاتھ میں انگریزی اخبار تھا جس کو وہ انہماک سے پڑھ رہے تھے، چہرہ تاثرات سے بالکل خالی، حاضرین تقریب سے ایسی لاتعلقی، گویا وہ ہال میں نہیں، اپنے ذاتی دفتر میں انفرادی وقت گزار رہے ہوں، یہ کوئی اور نہیں، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ تھے، جو اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے۔

تقریب کا ماحول پرسکون تھا، اچانک نہ جانے ضیا صاحب کو کیا سوجھی کہ وہ ڈرامائی انداز میں کھڑے ہوئے اور تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے سیدھا قائداعظم کے سامنے جا کھڑے ہوئے، تمام شرکا کے نظریں ان کی طرف تھیں، قائداعظم بدستور اخبار پڑھنے میں مگن تھے، ضیا نے جب دیکھا کہ ان کی "انٹری" کا نوٹس نہیں لیا گیا تو مزید آگے بڑھے اور ان کے پہلو میں جابیٹھے۔ "یہ ابھی تک ویسا ہی ہے" بھٹو نے بینظیر کے کان میں سرگوشی کی۔ قائداعظم کی نگاہیں بدستور اخبار پر جمی ہوئی تھی۔ ضیاء الحق نے باآواز بلند کہا، قائد! کیا یہ زیادتی نہیں؟؟ قائد نے بالکل بھی التفات نہ کیا۔ ضیا نے اپنی بات جاری رکھی، قائد! کیا یہ ملک آپ نے اسلام کے نام پر حاصل نہیں کیا تھا؟ کیا اس کے قیام کا واحد مقصد اسلام اور مسلمانوں کا تحفظ نہیں تھا؟ یقینا ایسا ہی تھا، میں نے صرف اس ملک کو اس کے مقصد وجود کے قریب کرنے کی کوشش کی، اگر سیاستدان جمہوریت کے خاطر ہر اصول کو توڑ سکتے ہیں اور ہر جائز و ناجائز طریقہ کار اپنا سکتے ہیں تو مقصد وجود پورا کرنے کے لیے اگر میں نے کچھ سمجھوتے کر لیے تو کیا مضائقہ تھا؟ قائد! کیا میری یہی غلطی تھی کہ میں نے "نفاذ شریعت" (جو آزادی کے اہداف میں شامل تھا) کو ایسے وقت میں عملی شکل دینے کی کوشش کی جب اس کا نعرہ بلند کرنا بھی جرم سمجھا جانے لگا؟؟ پھر ضیا صاحب قائد کو اپنے کارنامے گنوانے لگے، ابھی ان کی بات جاری تھی کہ ہال کا دروازہ کھلا اور شیروانی میں ملبوس عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہال میں داخل ہوئے، تمام حاضرین مجلس اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے، ضیا صاحب کو بھی مجبورا اپنی تقریر ختم کرنی پڑی۔ وہ اٹھنے لگے تو قائد نے ان سے آہستگی سے کہا، شریعت کے نفاذ کی ابتدا اپنی ذات سے ہوتی ہے، اسلام نے جو حکمرانی کے اصول بتائے ہیں، آپ کے دور میں ان پر کتنا عمل ہوا؟ یہ استفہامیہ سوال نہیں تھا، لہذا ضیاء الحق خاموشی سے اپنی نشست کی طرف بڑھ گئے۔
ادھر عمران خان حاضرین سے فردا فردا مصافحہ کر رہے تھے، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے گرم جوشی سے مصافحہ کیا، بینظیر بھٹو یونیورسٹی دور کی بےتکلفی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسکرا تے ہوئے خان سے ملیں اور کچھ دیر تک غیر رسمی گفتگو کرتی رہی۔ بھٹو صاحب نے خان سے کہا، ''آپ نے ہمیں غلط ثابت کر دیا، اب اپنا آپ ثابت کیجیے،'' خان مسکرا دیے اور آگے بڑھ گئے۔ عمران خان جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق سے بہت احترام سے ملے، ایوب خان نے مصافحہ پر اکتفا کیا جبکہ ضیاء الحق نے عمران کے کان میں کچھ سرگوشی کی جس کو خان نے سنجیدگی سے سنا۔ قائد سے ملاقات سے قبل عمران نے مفتی محمودؒ سے بھی مصافحہ کیا، عمران سر جھکا کر احترام سے مفتی صاحب سے ملے، مفتی صاحب نے کہا، علماء کو اپنے سے دور نہ رکھنا، بڑا قدم اٹھانے سے قبل ان کی رائے نہ سہی اسلام کا مؤقف ان سے ضرور پوچھ لینا۔ عمران کو اچانک مذاق سو جھا، اس نے کہا لیکن علما تو اپنی دونوں نشستوں سے شکست کھا کر پارلیمان سے باہر ہوچکے ہیں!! مفتی محمود مسکرا دیے، پھر سنجیدہ ہوکر بولے، آپ غلط سمجھے، ان علما سے مشورہ کریں جن کی زندگیاں دری پر بیٹھ کر قرآن و سنت کی روشنی پھیلانے میں صرف ہوگئیں، اور وہ اپنی کسمپرسی کے باوجود کسی معاوضہ، نمود نمائش یا شہرت کے طالب نہیں، خان نے حامی بھری اور قائدؒ کے مسند کی طرف بڑھ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   آصف زرداری اور عمران خان نے کیا سکھایا؟ محمد عامر خاکوانی

قائد نے عمران سے مصافحہ کیا، عمران نیچے ہی بیٹھ گئے، قائد نے کہا، اوپر بیٹھیے، آپ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں۔ خان قائد کے بغل میں بیٹھ گئے۔ قائد پہلی مرتبہ کسی کی جانب پوری طرح متوجہ ہوئے، قائد نے کہا: مسٹر پرائم منسٹر! میں نے لوگوں کے چہروں پر وہی امید اور آس دیکھی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی، تمھارے حامی اور مخالف سب ہی پر امید ہیں، سب کی ایک ہی تمنا ہے، یہ ملک بہتر ہو جائے، یہ تمھارے لیے خوشی سے زیادہ فکر کی بات ہے، یہ امید تمہارے گلے کا طوق ہے، اگر تم نے ان کی امیدیں پوری نہ کیں تو یہ طوق لازوال ہار بن جائے گا، اور اگر تم ناکام ہوئے تو یہی طوق پھندا بھی بن سکتا ہے۔ کامیابی کی ایک ہی راہ ہے، لگن سے ان وعدوں کی تکمیل کی کوشش جو عوام سے کیے گئے تھے، روز اول سے، بلا تاخیر و تعطل کے، ہر وعدہ پر عمل درآمد شروع ہوجائے تو ایک سال میں ہی ملک اپنی منزل کی جانب گامزن ہوجائے گا اور پانچ سال میں اس ملک کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔ مسٹر خان! ہر کسی کی بات سننے کا حوصلہ رکھو، اس صفت نے تمھارے حریف کو تین مرتبہ وزیر اعظم ہاؤس پہنچایا، اور غیر ضروری طور پر اپنے دشمن نہ بناؤ تاکہ اپنے حریف کی طرح اقتدار سے محروم نہ ہوجاؤ،گڈ لک مسٹر خان !!!