ذہین اور عقل مند میں فرق - ضیغم قدیر

علی کو آج آفس میں بے تحاشا کام تھا، جس کی وجہ سے اسے آج چھٹی لیٹ ہونی تھی۔ اس نے پہلے سوچا کہ میں گھر فون کرکے بیوی کو بتا دیتا ہوں کہ میں آج لیٹ آؤں گا لیکن پھر وہ مصروف ہوگیا اور یوں بیوی کو بتانا بھول گیا۔ ادھر اس کی بیوی اس کا انتظار کرکر کے سوکھ چکی تھی۔ جب وہ رات دس بجے گھر پہنچا تو اس کی بیوی جو پہلے ہی اکتائی ہوئی تھی، اس نے اپنا لیکچر شروع کردیا کہ آپ ایسے ہیں، آپ فون کرکے نہیں بتا سکتے وغیرہ وغیرہ۔ علی جو پہلے ہی تھکا ہارا گھر پہنچا تھا، وہ یہ تقریر سن کر اور ڈاؤن ہوگیا اور اس کی تھکاوٹ بڑھ گئی لیکن اسے پتا تھا کہ اگر وہ بولا تو معاملہ بڑھ سکتا ہے، سو وہ چپ چاپ اپنی بیگم کو سنتا رہا۔ آخر کار جب وہ تھک ہار کر چپ ہو گئی تو علی بھاری دماغ کے ساتھ تھکن سے چور بستر پر ڈھیر ہوگیا۔
--------------
وہیں احسان کو بھی آج آفس سے لیٹ چھٹی ہونی تھی سو اس نے اپنی بیگم کو انگلش میں ایک میسج لکھ کر بھیجا ”Hey Hon. I'll be late tonight“ یہ میسج ٹائپ کرنے میں اسے فقط تیس سیکنڈز لگے اور کچھ ہی دیر بعد اس کی بیوی کا میسج بھی آگیا جس میں وہ کہہ رہی تھی کوئی بات نہیں، میں انتظار کرلوں گی۔ رات دس بجے احسان اپنے گھر لیٹ پہنچتا ہے تو اس کی بیوی مسکراتے ہوئے دروازہ کھولتی ہے اور اسے خوش آمدید کہتی ہے۔ یوں احسان کی دن بھر کی تھکن بیوی کی ایک مسکراہٹ دیکھ کر ختم ہوجاتی ہے، اور یوں وہ فریش ہوکر سونے کے لیے بیڈ کی طرف چل دیتا ہے۔
-------------
علی ذہین تھا سو اس نے بیوی کے سامنے بول کر بات بڑھانے سے گریز کیا، اور یوں مسلئہ حل کرلیا، لیکن وہیں احسان عقل مند تھا جس نے مسلئہ شروع ہونے ہی نہ دیا سو حل کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ یہی فرق ہے ایک ذہین اور عقلمند آدمی میں کہ ایک ذہین آدمی ہر وقت مسائل کی تلاش میں رہتا ہے. اگر نہ بھی ہوں تو خود بنا لیتا ہے اور پھر انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ ایک عقل مند آدمی مسائل کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتا اور اگر غلطی سے پیدا ہوجائیں تو پھر ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔