آدم کا پہلا قدم - مہران درگ

اوپر کے سانس بہت سخت تھے، مگر چڑھائی پر سورج ابھی حتمی مستطیل سے پرے تھا۔ اس کی تندی بغل سے کترا کے نکلتی تھی۔ پنڈلیوں تک مارکو پولو بھیڑ کے چمڑے کے خشک نمک میں سَنے ہوئے دستے چڑھا رکھے تھے۔ ایڑی سے انگوٹھے تک باریک باریک بانس کی گیلی کمانیوں کو جوڑ جوڑ اس نے تلوے لگائے تھے۔ داڑھی حلق تک آتی تھی اور وہیں سے الٹے پُر پیچ لے کر کان کی لؤوں کو چھوتی تھی۔ بڑے پہاڑ کے مستطیل کی بلندی پر پہنچ کر اس نے خچر کی رسی سے پنڈلی کو کھونٹے کی طرح کسا، اور مہرے پر ہاتھ رکھتا ہو اٹھ کھڑا ہوا۔

اک چیٹی کو اک ہاتھی کے حجم پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ وہ چھوٹی نہ ہوتی وہ بڑا نہ ہوتا۔ جامنی پھولوں کی پھبن، اس پھبن کے مکعب کے مکعب معکوس ہوتی ڈھلانوں کو دوڑتے تھے۔گہرے مستطیل کے اس طرف، سفید کافور اور زنجبیل کے ہلکورے لیتے جھرن آتے تھے، اس نے دیکھا، اس نے دیکھا۔ جی نہیں بھرا، تو اور دیکھا.
الہا! الہا!
کیا جانیے میں اتنی دور، بہت اوپر حُسن کی موت مرنے آگیا ہوں۔
بہت نیچے رہ گئے مینوفستو سے چند مبہم یادیں، مٹھی بھر کسک، مقدور بھر تاسف، بساط بھر پرمژدگی کی پچک، اک لٹھ جو آدھی بانسُ سُری اور آدھا عصاء اور اک خچر جو نہ پورا مرد ہے نہ پوری عورت، اور اک ذرا سی اپنی ذات اٹھا لایا۔
کسی گلفشار کے دامن میں اتنا زاد ِسفر بہت رہا ہوگا۔
اس نے جامنی پھولوں کی پھبن کو دوبارہ دیکھا، جس پہ اب آفریں شورش کی سِلی سِلی پووَن تیرتی تھی۔

جب وہ پہاڑ پر چڑھ رہا تھا، اس نے گٹھڑی سے بہت پہلے عہد باندھا تھا۔ میں اب اُن شہر والوں کے پاس واپس نہیں آؤں گا۔ ان بے مایا بستیوں سے دور چلا جاؤں گا۔ دور کہ میری سوچ ان کی مسافتوں سے ٹکرائے نہ بنے گی، میں تنہائی کے کسی اک ایسے سماج میں اتروں گا جہاں جنس، انس اور قیمت و نقصان کا تصور نہ ہو۔ میں اک ایسے سماج میں اتروں گا کہ جہاں چہار سو لیونارڈو، رافیل، مائیکل اینجلیو، پکاسو، آذر اور پروردگار کے کنپٹیوں کی کلاسیکی اگ رہی ہو، اور وہ کلاسیکی اپنی تمام تر دل آویز نگہت کے پرکار کٹاؤ سے لحظہ لحظہ مجھے مجسمہ حیرت میں بدلتی جائے۔ میں ناظر نہیں منظر ہوجاؤں۔
میں نہیں بدلوں
اس نے جامنی پھولوں کی پھبن کو دوبارہ دیکھا، جس پہ اب بھی آفریں شورش کی سِلی سِلی پووَن تیرتی تھی۔

میں تمہیں یاد کرتا ہوں. اس نے یاد کیا، ملٹن، بلھا، اسماعیل قادرے، جان کیٹس، ارنیسٹ ہیمنگوئے، شاہ وارث، حمزہ رُسول، گارسیا مارکیز، میلان کندیرا، یارشا کمال، یاسمین خدرا، ہوسے سراماگو، اور تم او بوڑھے ٹالسٹائی تم، تم سب کے سب مل کر اس مرتی ہوئی عورت کے ماتھے کی لٹ، وہ آخری نشانی جو اس کی کلائی پہ تھی، اس پہ کچھ لکھو۔
اس نے اپنی کلائی پہ گیسؤں کی منڈھی ہوئی پٹڑی کے کالے بال کے تاگے کو چھوا۔ عورت، مجھے یاد کر، اس بڑے مستطیل کے شرقاً غرباً پہاڑ ہی پہاڑ تھے، جن کے ماتھے ماتھے سفید دھنک کے چھٹے ہوئے برفیلے گگن تیرتے تھے، اور ان سب کے بیچ اک بڑے پتھر پہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے سہولت کا سماج چھوڑ دیا تھا۔ اک خچر، اک دل، اور اس دل میں جواز پانے کی جستجو ڈوب رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کا خدا اور انسان سے تعلق - خلیق کوہستانی

اس چوٹی پر صرف ایک درخت تھا، اخروٹ کا۔ اور پتھر پہ نہایت ایکتا، سامنے سے یوں لگتا جیسے شاخوں میں لدا ہوا اک تیر انداز ترکش کو کھینچ کے ابھی گھٹنے ٹیکے ہی رہا تھا کہ اسے کسی بہت یاد کے ہسٹیریا نے آ لیا۔
خچر کی باگ کھینچتا ہوا درخت کے نزدیک پہنچا۔
میں اُس مجبوری کے صدقے جب اک سچا آدمی جھوٹ بولتا ہے۔ اور اس کی کم سے کم سزا، جھوٹ کی وجوہات یعنی "رشتوں اور ناتوں" سے آزاد کر کے اس کو اسی کسی ایسے گلفشار کے دامنِ تنہائی میں چھوڑ دینا چاہیے، اور یہ کچھ بھی حد سے متجاوز تو نہیں ہے۔ ایسا میرا دل کہتا ہے۔
اس نے خچر سے زین کھینچی اور اس کو گھاس کے ہرے ہرے مکعب پہ چرنے کے لیے آزاد کر دیا۔ اخروٹ کے تنے سے ٹیک لگا کر برفیلے گگن پہ نظریں پھیلانے لگا۔
اک بڑے سبز رنگ دھبے پہ آنکھیں مرکوز کیے اسے اونگھ آگئی۔
اس نے دیکھا۔ ہیر رادھا کی مینڈھیاں گتتی تھی، رانجھا شام کی دھنیں ترتیب دیتا تھا، سسی جیولٹ کے سرسوں کرتی تھی۔ پنوں مہیوال کے انگورے خرگوش ہانکتا تھا۔ بدھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ رام پروردگار کے ساتھ تھا، اصحاب کہف کا کتا غار میں چونک کر اٹھ بیٹھا تھا۔

اس کی آنکھ کھلی تو رات اتر آئی تھی۔ چاند داہنے ہاتھ پہ تھا۔ تارے و مہ ستارے سیہ شہنیل پہ چمکیلے مکیش کے دانوں کی طرح پھیلے تھے۔ جن پہ کہر کی دودھیا بھاپ اڑا کرتی تھی۔ ابر کے چھدے ہوئے لیرے جب چاند پر سے ہو کے گزرتے تو لگتا یہ دودھیا چاند، یہ مستطیل، یہ اخروٹ، یہ اس کے سبز سبز مکعب جگہ چھوڑ رہے ہیں، اور اس کے ایڑیوں سے کچھ پرے پتھر کے concave زاویوں نے اک چھاگل سی بنا دی تھی، جس میں پتلے پانیوں کی سطح تیرتی تھی۔گھاس نئے نئے اگے ہوئے بالوں کی طرح چھاگل کو گھیرے ہوئے تھی۔ جس پہ اخروٹ کے پھولوں کی لدی شاخ، چاند، ابر کے لیرے، مہ ستارے اور دودھیا کہر کی بھاپ کے الوہی عکس تیرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانیت کے معمار - مقصود حسین

اس نے اخروٹ کے تنے سے ٹیک اٹھائی تو تھرتھراہٹ سے اخروٹ کے فیروزی پھولوں کی پتیاں، پتلے پانیوں کی سطح پہ حسب ذائقہ ہوگئیں، اور اس اک سی آہٹ سے چاند اور کہر کے میلان سے پھوٹتی ایل ای ڈی لائٹس کی سفید روشنیوں میں گھرے جھاڑیوں کے سلسلے، جو ڈھلان کی نچلی منزلوں تک جاتے تھے، ان سے موٹی دموں والے جگنوں کا اک سوتا ہوا غول اٹھا۔ لاکھوں میں ایک اور وہ سینکڑوں میں تھا۔
جن میں سے کئی پتلے پانیوں کی چھاگل کے پاس پاس ہری ہری گھاس کی نوکوں پہ آ بیٹھے، جن پہ ابھی سفید پانیوں کے قطرے منہ ول تھے، اب وہ دائرہ جس میں پتلے پانیوں کے دیرینہ حجم تیرتے تھے، جس کے گھاس کی گوٹہ کناریوں کو جگنوؤں کے سفید سفید دَبکوں نے آلیا تھا، وہ اک ایسے آبنوسی درپن کی ابھری ہوئی بیضوی فریم تھا جس کے ساحل بہت دما دم تھے، قم قم تھے، جامِ جم جہاں نما کا وہ چراغ ج سمیں قدرت کا ہر جزو پڑ کر اگ رہا تھا۔

آخرش شب، رات جب بہت گہری ہوگئی تو ثقیل کھائیوں سے گرم گرم پانیوں کے دھیمے دھیمے غبار اٹھنے لگے، جس نے اخروٹ، چھاگل کی جھاڑیوں، بڑے پتھروں کے اطراف کی تمام تر ہئیتوں کو اپنے کاسنی دائروں میں کر لیا۔
اپنے اکلاپے سے گھبرایا ہوا اک نر اینٹی لوب ہرن جو بڑی آہستگی سے گھاس چرتا چرتا چھاگل پہ جھک آیا تو پانی کے تیز دھندلکے کے عکس میں اسے نامانوس چہرہ کی جھلک نظر آئی، تو اس غزال شب نے اک چہک لگائی اور ہڑبڑا کے الٹا، لڑھکتا ہوا گہرائیوں میں ڈوب گیا۔

اخروٹ کے پھولوں کے جھکے جھکے فانوس کے گولے رم جھم کرنے لگے، اس کی کنپٹیاں بھیگنے لگیں۔
حالات کے سبھی نفی جمع، ضربے تقاسیم، قدرت کے ہزار ناظر و مناظر کا عورت ہی " ذو اضافیہ کل " ہے۔
اس نے اپنی کلائی پہ گیسؤں کی منڈھی ہوئی پٹڑی کے کالے بال کے تاگے کو چھوا۔ عورت، مجھے یاد کر،
اس کا خچر دور دھند میں لپٹے مکعب کے ہرے ہرے گھاس چرتا تھا، ہنہنایا
اس نے مستطیل سے نیچے جاتی پتھریلی پگڈنڈی پہ پہلا قدم رکھا، تو اس نے کہا
رب! جس سماج میں عورت نہیں، وہ سماج سماج ہی نہیں، اور ضرور جس سماج میں عورت نہیں وہ سماج ہی مخنث ہے۔

Comments

مہران درگ

مہران درگ

بنیاد مکران کیچ پُنل سے، مقیم شہر، گور گرد گرما و گدا ملتان، تعلیم زرعی گریجویٹ، شاعر اور شاعری، درویش اور درویشی دونوں پسند، جدید نظم، جدید و قدیم نثر، فکشن، افسانوی ادب، تصوف، رد الحاد، دلچسپی کے موضوع تھے، ہیں اور رہیں گے. ابھی بھی سمجھتا ہوں کوکھ مادر میں ہوں کہ بہت سی گرہیں ابھی باقی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.