اگر میں اس پہ کتاب لکھتی - نیر تاباں

اگر میں اس پہ کتاب لکھتی
سوال لکھتی، جواب لکھتی
وہ قربتوں کے قلیل لمحے،
تو فرقتوں کے عذاب لکھتی

چمکتی آنکھوں کی ہر شرارت
پکڑنا چپکے سے ہاتھ میرا
وہ دل کا اس پہ بہت دھڑکنا
وہ دن دیہاڑے کے خواب لکھتی

وہ اشک سارے وہ سب دلاسے
ہنسی کی باتیں وہ غم کے قصے
وہ روزوشب کی حسین یادیں
لڑائیوں کا حساب لکھتی

ہے سب رتوں کا تعلق اس سے
وہ دھوپ جیسا ،وہ چھاؤں جیسا
برس کے جل تھل کرے کبھی تو
تو پیاس کے پھر سراب لکھتی

گزر رہی تھی حیات یوں بھی
بغیر اس کے بھی کٹ ہی جاتی
یوں آ کے جانا نہ جا کے آنا
جو دل پہ گزرا عذاب لکھتی
میں وحشتیں بےحساب لکھتی
اگر میں اس پہ کتاب لکھتی

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.