عقیدہ ختم نبوت کی ضرورت و اہمیت - مولانا محمد جہان یعقوب

عقیدہ ٔ ختم نبوت اسلام کے اہم ترین عقائد میں سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمدۖ کی ذاتِ اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ۖپر نبوت ختم ہوگئی، آپ ۖکے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔البتہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قریبِ قیامت میں ضرور نازل ہوں گے، لیکن رسول اللہ کی شریعت پر ہوں گے، اس لیے نزول عیسی سے رسول اللہ ۖ کے خاتم النبیین ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ ایک توحضرت عیسٰی علیہ السلام شریعتِ محمدیہ ۖپر ہوں گے، دوسرے اس کے علاوہ حضرت عیسٰی کو تو رسول اللہۖ سے پہلے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپۖ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔ (سورہ توبہ:33) اسی طرح قرآنِ کریم میں حقِ جل شانہ نے تمام پیغمبروں سے اس بات کا عہد لیا کہ اگر محمدۖ کا زمانہ پا لو تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت اور پاسداری کرنا۔ (سورہ آلِ عمران:81) یہی وجہ ہے کہ آنحضرتۖ سے پہلے تمام انبیائے سابقین آپۖ کی آمد کی بشارت دیتے رہے، آپ ۖکا خاتم الانبیا ہونا تورات اور انجیل اور تمام انبیائے سابقین کے صحیفوں میں مذکور تھا، جو علما اہلِ کتاب دینِ اسلام میں داخل ہوئے، انھوں نے بیک زبان ہوکر اس امر کا اقرار اور اعتراف کیا کہ ہم نے آنحضرتۖ کو اسی صفت پر پایا جیسا کہ ہم نے تورات اور انجیل میں دیکھا اور پڑھا تھا، اس کے علاوہ آپ ۖ کی مہرنبوت بھی آپ کے خاتم النبیین ہونے کی حسی دلیل تھی، جسے دیکھ کر علمائے یہود اور نصاری آپۖ کی نبوت اور ختمِ نبوت کی شہادت دیتے تھے۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے، جن میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے، اور آپۖ خاتم الانبیاء اور آخرالانبیاء ہیں، آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے:''نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات (سچے خوابوں )کے''۔ (صحیح بخاری و مسلم)

حضور اکرم ۖ فرماتے ہیں: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، جہاں کچھ نہ رکھا، لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں، لیکن کہتے ہیں: کیاہی اچھا ہوتا کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پر کر لی جاتی، پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔ (مسندِاحمد)

حضوۖر ایک حدیث میں فرماتے ہیں: میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا تھا، اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پورے طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اور حدیث میں ہے میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں، اللہ تعالی میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں، تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہوگا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ایضاً)

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :حضورۖنے فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔ (ابوداؤد ، جلد 2 صفحہ127)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا : رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہی ہے اور نہ نبی۔

ختمِ نبوت کا یہ عقیدہ اجماعی عقائد میں سے ہے، عہدِنبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرتۖ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیاتِ کریمہ رحمتِ عالم ا کی احادیثِ متواترہ بھی اس پر شاہد عدل ہیں، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے مطابق عقیدہ ختم نبوت کی احادیث روایت کرنے والے جید صحابہ کرام ہیں، جن میں : حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا حذیفہ بن ایمان رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا ابوھریر ہ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔

امت کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ۖ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر اجماع کا منکر ہوگا۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ123)

امام العصر حضرت مولانا سید محمد انورشاہ کشمیری اپنی آخری کتاب میں تحریر فرماتے ہیں: سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا، وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا۔ جس کا سبب صرف اس کا دعویٔ نبوت تھا۔ (خاتم النبین ص:76 ترجمہ ص:791)

قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں: ان تمام فرقوں کے کفر میں کوئی شک نہیں، بلکہ ان کا کفر قطعی طور سے اجماعِ امت اور نقل یعنی کتاب وسنت سے ثابت ہے۔

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے تحریر فرمایا ہے کہ آنحضرتۖ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کی کل تعداد 295 ہے، اور عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ و دفاع کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر کے عہدِ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرام اور تابعین کی تعداد بارہ سو (1200) ہے، جن میں سے سات سو (700) قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔ (مسک الختام فی ختم نبوۃ سیدالانامۖ)

اس سے ختمِ نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ انہی حضرات صحابہ کرام میں سے ایک صحابی حضرت خبیب بن زید انصاری خزرمی بھی تھے، ان کی شہادت کا واقعہ بڑاایمان افروز ہے:
حضرت خبیب بن زید انصاری کو آنحضرتۖ نے یمامہ کے قبیلہ بنوحنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا۔ مسیلمہ کذاب نے حضرت خبیب سے کہا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت خبیب نے فرمایا: جی ہاں! مسیلمہ کذاب نے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہوں؟ اس پرحضرت خبیب نے جواب میں فرمایا: میں بہرا ہوں، تیری یہ بات نہیں سن سکتا۔ مسیلمہ باربار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا، حتیٰ کہ خبیب کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کر دیا گیا۔

یہی جذبہ ایمانی ہمیں تابعین میں بھی نظر آتا ہے۔ آنحضرتۖ کی حیاتِ طیبہ کے آخری وقت میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہو،جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لیے مجبور کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابومسلم خولانی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ تابعی حضرت ابومسلم خولانی نے صاف انکار فرما دیا۔اس پر اسود عنسی نے ایک خوف ناک آگ دہکائی اور حضرت ابومسلم کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالی نے ان کے لیے آگ کو بےاثر فرما دیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسودعنسی اور اس کے رفقا پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ اسے جلاوطن کر دو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروکار بھی اسلام قبول نہ کرلیں،چناں چہ انھیں یمن سے جلا وطن کردیا گیا، یمن سے نکل کر یہ جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت وصال فرماچکے اور حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ بن چکے ہیں، انھوں نے اپنی اونٹنی مسجدِنبوی کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آ کر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ وہاں پر حضرت عمر موجود تھے، انھوں نے ایک اجنبی مسافر کو دیکھا تو ان کے پاس آئے اور پوچھا : آپ کہاں سے آئے ہیں؟جواب دیا: یمن سے! حضرت عمر نے فورا ًپوچھا: اللہ کے دشمن اسودعنسی نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود عنسی نے کیا سلوک کیا؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا! ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمر کی فراست کام کرچکی تھی، انھوں نے فوراً فرمایا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ وہی صاحب ہیں۔ حضرت ابومسلم نے جواب میں فرمایا! جی ہاں۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرط مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ اور انہیں لیے ہوئے خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں پیش ہوئے، انہیں صدیق اکبر نے اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ کے اس شخص کی زیارت کرا دی، جس کے ساتھ اللہ تعالی نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا۔ (مسک الختام)

یہ تو دور صحابہ و تابعین کے دو بزرگوں کے جذبہ ایمانی کی ایک ہلکی سی جھلک تھی، ورنہ تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی دور میں امت مسلمہ نے اس اہم ترین مسئلے میں کسی قسم کے تساہل و تکاسل اور سستی وغفلت کا مظاہرہ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دور میں ختم نبوت کے عقیدے سے مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوئی کوشش کام یاب نہ ہوسکی۔ ایک طرف تو مسلمانوں کی صفوں میں موجود ناسور اس عقیدے پر نقب لگانے کی کوشش ہر دور میں کرتے رہے، دوسرے عالم کفر نے بھی ایسے عناصر کی ہمیشہ ہی پیٹھ ٹھونکی، حوصلہ افزائی ہی نہیں، پشت پناہی کی،جس کی وجہ سے ان فتنوں کا سلسلہ بھی روز افزوں رہا۔ اس پر فتن دور میں بھی اس اہم ترین عقیدے پر ضرب لگانے یا کم ازکم اس عقیدے کو بے اثر کرنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بات جان اور سمجھ لینی چاہیے کہ جو کوئی بھی نبی اکرم ۖ کی ختم نبوت کا انکار کرتا ہے، یا اس کی کوئی ایسی تعبیر و تشریح کرتاہے، جو امت مسلمہ کے متفقہ عقیدے سے ٹکراتی ہے، یا کسی بھی ولی، پیر، غوث، قطب، ابدال کو منصب نبوت پر کلی یاجزوی، ظلی یا بروزی غرض کسی بھی انداز میں بٹھانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ مسلمان نہیں، مرتد و زندیق ہے اور مسلمانوں کے ایمان کا ڈاکو ہے۔ یہ اس قدر حساس مسئلہ ہے کہ: امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں: اگر کسی نے کسی شخص کے سامنے نبوت کا دعویٰ کیا، اور اس شخص نے اس سے اپنے دعوے پر دلیل طلب کی، تو ایسا شخص بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

آئیے! عہد کریں ،کہ ہم کسی بھی قیمت پر عقیدہ ختم نبوت کے دفاع وتحفظ اور اس کی ترویج واشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس عقیدے کے خلاف کی جانے والی بڑی سے بڑی کوشش کو ناکام بنانے میں اپناایمانی کردار ادا کریں گے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.