کیا ہم نارمل ہیں؟ سخاوت حسین

کافی عرصے بعد میری خواہش پوری ہو رہی تھی۔ میں نارمل لوگوں میں رہتے رہتے تھک گیا تھا۔ اب میں نے فیصلہ کیا تھا کہ پاگل خانے کا دورہ کروں۔ ایک دوست این جی او میں تھا لہذا اس کی مدد سے این جی او کی طرف ایک دن کے لیے پاگل خانے کے تفصیلی دورے کا پروگرام بن گیا۔ میری خوش قسمتی کہئے کہ بالاخر مجھے بھی پاگلوں کے دیدار کا موقع مل گیا۔

آج آسمان صاف تھا۔ بادل کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ نومبر کا آخری ہفتہ چل رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں دل میں ہلچل مچا رہی تھیں۔ تبھی ہم ایک پرانی خستہ گاڑی میں سوار پاگل خانے جا پہنچے۔ گیٹ پر موجود گارڈ نے ہنس کر سلیوٹ کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ایسے نمونے آتے رہتے ہیں جو خود کو آفیسرز سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ ہمیں پاگل سمجھ رہا تھا۔
ڈاکٹر سے ملے تو وہ بھی ذرا کھسکے سے لگے۔ بات بات پر کمرے سے کھسک جاتے تھے۔ بعد میں پتہ چلا وہ مریض کی عیادت کو جاتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہمارا گروپ پاگلوں کو دیکھ رہا تھا اور پاگلوں کا گروپ ہمیں غور سے۔

سب سے پہلے جس سیل میں ایک پاگل نظر آیا، وہ سر کے بل لیٹا ہوا تھا۔ ٹانگیں ہوا میں ایسے لہرا رہی تھیں جیسے کسی زمانے میں شبنم کا دوپٹہ لہراتا تھا۔
یہ ایسے کیوں لٹک رہا ہے۔؟میں نے سوال کیا؟
جی یہ خود کو فین سمجھتا ہے۔ مختصر سے ڈاکٹر نے اس سے بھی مختصر جواب دیا۔
تبھی مجھے یاد آیا کہ ہماری دنیا میں بھی تو ایسے فین پائے جاتے ہیں۔ جو سیاسی پارٹیوں کی حمایت میں شدید حد تک لٹک جاتے تھے۔ بلکہ لٹک کر لفظوں کی الٹیاں کرنا ہمارے ھاں عام تھا۔ یوں ہمیں اپنی دنیا اور پاگلوں کی دنیا میں پہلی مماثلت نظر آئی۔
تبھی ہم دوسرے پاگل کی جانب بڑھے۔
وہ مسلسل تھوک رہا تھا۔ کبھی اس دیوار پر کبھی اس دیوار پر۔
یہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ میں دوبارہ گویا ہوا۔
جی اس کا مرض ہی تھوکنا ہے۔ اسے لگتا ہے ساری دیواریں اور فرش تھوکنے کے لیے بنی ہیں لہذا ہر جگہ اسے تھوکنا چاہیے۔ اس نے تھوک تھوک کر گھر کو فوارے میں بدل دیا تھا لہذا گھر والے اسے یہاں چھوڑ گئے۔
اوہ خدایا! تبھی ہمیں چشم تصور میں اپنے چند عدد چشمے سے نکھرے دوست نظر آئے جو راستوں اور بازاروں میں ساتھ چلتے اور کبھی پان کھاتے ہر سڑک اور دیوار پر بے دھڑک تھوک دیا کرتےتھے اور بعض اوقات چلتی گاڑی سے ٹھیک نشاے پر کسی سادھو پر تھوکنے کو اپنا ٹیلنٹ سمجھتے تھے ،تو کیا وہ دوست بھی نارمل۔۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ اس حد تک مماثلت کیوں کر ہوسکتی ہے۔

میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔
ایک پاگل دوسرے شخص کو اپنی گھٹری پکڑا رہا تھا جب کہ دوسرا اکتا کر اسےدور پھینک رہا تھا۔
اسے کیا ہوا ہے۔؟ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
ڈاکٹر نے ناخن سنوارتے ہوئے کہا۔
یہ خود کو کوڑا چننے والا سمجھتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ دوسرے شخص کو پورے کمرے میں اس کی گھٹری کو بکھیرنا چاہئیے تاکہ یہ صاف کرے۔ جب کہ دوسرا شدید صفائی پسند ہے اور اسے گند کرنا بالکل نہیں پسند۔
کیا! میری تقریبا چیخ نکل گئی۔ مجھے یاد آنے لگاکہ ہم بھی تو چن چن کر کوڑا کوڑے دان کی بجائے ہمساے کے بشیر صاحب کے گھر کے آگے پھینکتے تھے۔ یہ سوچ کر کہ یہ ہمارا ابدی حق ہے۔ پوری گلی کو گندہ کرنا ہمارا شیوہ ہوتا تھا جسے کوئی صفائی والا اگلے دن صاف کر جاتا تھا جسے گندگی سے خاصی چڑ ہوتی تھی تو ہم بھی پاگل۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔
میرے تو جیسے ہوش اڑ رہے تھے۔

مجھ سے رکا نہیں گیا۔ تبھی ہم آگے بڑھے۔ آگے ایک پاگل بیت الخلا سٹائل میں بیٹھا ہوا تھا۔
یہ ایسے کیوں بیٹھا ہوا ہے۔؟
جب یہ شروع میں آیا تھا تب اسے لگتا تھا کہ پوری دنیا بیت الخلا ہے۔ کافی علاج کے بعد اب یہ اس بات پر متفق ہوگیا ہے کہ یہ دیوار ہی دراصل دیوار خلا ہے۔
مجھے جیسے چکر آرہے تھے۔ کیا کوڑے دان، کیا دیواریں اور کجا میٹرو کے نیچے کا احوال۔ ہم تو پوری ریاست میں، جہاں دل چاہے، پاگل والا کام کر آتے تھے۔ خصوصا ایسی جگہیں جہاں ایسی حرکت کرنے والے کو کتے اور گدھے اور دیگر قابل اعتراض گالیوں سمیت مختلف القابات سے نوازا جاتا تھا وہاں ایسے افعال کو ہم فرائض منصبی سمجھ کر انجام دیتے تھے۔
کیا ہم پاگل تھے؟
میرا سر گھوم رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے تاریکی چھا رہی تھی۔ تبھی ڈاکٹر بولا آگے بڑھیں۔
چاروناچار ہم آگے بڑھے۔

آگے ایک پاگل کو بالکل الگ سیل میں رکھا گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک سے بنا ہلکا ڈنڈا تھا جسے وہ بار بار بے ساختہ دیوار پر مارتا تھا۔
اسے کیا ہوا ہے ۔؟ مجھے امید ہو چلی تھی شاید اس بار پاگل کا تعلق عقل والوں کی دنیا سے نہیں ہوگا۔
یہ خطرناک پاگل ہے۔ یہ سب کو پاگل کہتا تھا اور جو اس کو پاگل کہتا اور اس سے اختلاف کرتا یہ ڈنڈوں سے اس کا سر پھاڑ دیتا تھا۔ یہاں بھی اسے سب سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے ۔ یہ خطرناک پاگل ہے۔
اے رب میں کہاں ہوں۔ کیا یہ پاگل خانہ ہی ہے۔ عقل والوں کی دنیا میں بھی اختلاف رائے پر مختلف القابات اور آخر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور مستزاد یہ کہ ایسا کرنے والوں کو الگ بھی نہیں رکھا جاتا تھا۔
مجھے لگ رہا تھا تھوڑی دیر میں، میں ڈھے جاؤں گا۔

شدید ٹوٹے دل کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ایک اور سیل میں ایک پاگل کو دیکھا جو بری طرح ہاتھ ہلا کر اونچی آواز میں تقریریں کر رہا تھا۔ اس کی آدھی تقریر گالیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ اردگرد بیٹھے پاگل کبھی اسے سنتے کبھی منہ دوسری طرف کرکے اپنی حرکتوں میں مصروف ہو جاتے تھے۔
مجھے یاد آنے لگا فیس بک پر اور ہماری عملی دنیا میں ایسے لوگ کثیر تعداد میں پائے جاتے تھے۔
میں مزید پاگل خانے میں نہیں رک سکا۔ آخر ان کو پاگل کیوں قرار دیا گیا تھا اور آخر باہر پھرنے والوں کو نارمل کیوں سمجھا جا رہا تھا۔
جب میں دروازے پر پہنچا تبھی ایک ملازم کو اپنے پیچھے آتے دیکھا۔
اس نے ہنستے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا:
"جناب ابھی اور بھی سیل باقی ہیں۔ کیا آپ اتنی جلدی پاگلوں کی دنیا سے تنگ آگئے اور نارمل لوگوں میں جانا چاہتے ہیں۔"
کون سا پاگل خانہ اور کیسے نارمل اور کس دنیا کی تم بات کررہے ہو۔؟ میں نے زور دار قہقہ لگایا اور ایک انجان دنیا کی طرف بڑھنے لگا۔

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.