ڈیم کا بیڑہ اٹھانا ہے، غرق نہیں کرنا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جدید عدالتی نظام میں "Maintainable" اور جدید پالیسی سازی میں "Sustainable" دو کلیدی اصطلاحات ہیں۔

"مینٹین ایبل" یعنی ایک ایسا قضیہ، پیٹیشن، یا درخواست جس پر مروجہ قوانین اور طے شدہ طریقہ کار کے دائرہ میں مقدمہ چلایا جانا ممکن ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر بظاہر معاملہ کیسا ہی اہم کیوں نہ نظر آتا ہو، اس پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ ٹھوس تکنیکی معاملہ ہوتا ہے، ایک ایسی کسوٹی جس سے گزرنے کے بعد ہی مدعا نمٹانے کے لیے نظام انصاف کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس لیے خاص کر اعلی عدلیہ میں مینٹین ایبلٹی پر بھی بسا اوقات بہت اہم اور طویل مباحث ہوتی ہیں ، عدالتیں ماہرین قانون کی مدد حاصل کرتی ہیں تاکہ کسی ایسی روایت کی داغ بیل نہ ڈل جائے تو نظام انصاف کی استعداد اور ثقاہت کو کمزور کر دے یا اس سے غیر سنجیدہ مقدمہ بازی کا رجحان جڑ پکڑنے لگے۔

اسی طرح جدید ریاست اور بزنس میں پالیسی سازی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اسی پر ریاست یا کاروبار کی کامیابی اور اہداف کے حصول کا انحصار ہوتا ہے۔ مالی وسائل و افرادی قوت کا درست استعمال تب ہی ممکن ہے اگر پالیسی بناتے وقت تمام جزئیات کی نوک پلک خوب دیکھ بھال کر درست کر لی گئی ہو۔ اس ضمن میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا پالیسی میں پلاننگ، سرمایہ اور ماہرانہ معیار اس درجہ کا ہے کہ وہ اہنے متوقع نتائج سے ہمکنار ہو سکے۔ اس کے لیے "سسٹین ایبل" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی کیا پالیسی ایسی ہے جو ان تمام یا بیشتر چییلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو مجوزہ منصوبے کی تکمیل تک اس کی راہ میں قدم بہ قدم پیش آئیں گے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اہداف کا حصول بھی ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے ۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان صاحب نے اپنے ہموطنوں، بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کی کمی کے خدشات کے پیش نظر ملک میں ڈیمز کی فوری تعمیر کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔ اس کے لیے انہوں نے تجویز کیا کہ تارکین وطن میں سے ہر فرد کم از کم 1000 امریکی ڈالر "ڈیم فنڈ" میں جمع کروائے۔ ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف آبپاشی کے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی بلکہ سستی بجلی بھی میسر ہوگی اور ساتھ ہی یہ فائدہ بھی ہوگا کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔

بادی النظر میں ایک عمدہ تجویز نظر آنے کے باوجود اس میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ بظاہر یہ سسٹین ایبل نہیں۔

کیلکولیٹر پر یہ اندازہ لگا لینا کہ نوے لاکھ تارکین وطن ہیں اور فی کس 1000 ڈالر دے رہے ہیں تو فلاں حاصل ضرب ہمارے پاس آ جائے گا، محض سادہ لوحی کی بات ہوگی ۔ بالعموم ایسی اپیل کا اثر رقم کے حجم اور اثر پذیری میں استقلال کے حوالہ سے نہایت محدود ہوتا ہے۔ یہ ضرور ہو سکتا ہے حکومت کو چند سو ملین ڈالر مل جائیں۔ لیکن اس سے نہ تو زرمبادلہ کے ذخائر پر کچھ خاص اثر پڑے گا اور نہ ہی ڈیم کی تعمیر کسی جانب بڑھے گی۔ دوسری جانب یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری بھی نہیں رہتا۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ بہت جلد لوگوں کا جوش و ولولہ ٹھنڈا پڑنے لگتا ہے اور وہ Donor Fatigue کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف حکومت کا پہلا سال۔چند سوال ، جواب - محمد عامر خاکوانی

سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس ڈیم بنانےکا یہی آپشن بچا ہے ؟

اگر عوام کی اس طرح سے شمولیت ضروری ہے تو کیا بہتر نہ ہوتا کہ اسے ایک پارٹنرشپ کی طرح پیش کیا جاتا کہ ڈیم کے اتنے شئیرز ہیں اور ایک شئیر کی مالیت یہ ہے۔ اس کے عوض بجلی کی پیداوار سے آپ کو اتنا منافع دیا جائے گا۔ یا طویل المدتی بانڈز فلوٹ کیے جائیں جن پر منافع نہ ہو، صرف اصل رقم کی واپسی ہو، ان کی میچیورٹی کی تاریخ ڈیم کی تعمیر کے بعد کی ہو اور یکمشت نہ ہو، اقساط میں ہو تاکہ لوگوں کو ان کا پیسہ واپس مل سکے۔ عوام کی جانب سے یہ تعاون ہی بہت ہے کہ انہوں نے اپنے پیسے کی واپسی کے لیے صرف ایک قومی مقصد کے واسطے اتنا انتظار کیا۔

جب بھی پیسے پر منافع یا اس کی واپسی کی امید ہو تو سرمایہ کاری کی سطح میں ڈرامائی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ کم افراد سے بھی مطلوبہ رقم پوری کر سکتے ہیں۔ لیکن اس میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت لوگوں سے رقم کی واپسی کے وعدہ کا رسک لینا چاہے گی؟ اگر وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کے پیسے کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں تو مندرجہ بالا طریقہ سے بہتر شاید ہی کوئی اور طریقہ ہو اس ضمانت کو پورا کرنے کا۔ جب بجلی بننے لگے تو اس سے لوگوں کے پیسے واپس کریں، جیسا کہ کسی بھی اور قرض خواہ ادارے کے کرنا ہوتے ہیں۔

ماڈرن اسٹیٹ اسٹرکچر میں حکومت اسی لیے وجود میں آتی ہے کہ وہ بذریعہ قانون سازی و انتظامی اختیارات عوام سے باقاعدگی سے محصولات جمع کرے جس میں شرح اور حجم کا تعین ہو اور پھر اس سے امور مملکت چلائے اور منصوبے وضع کرے۔ یہ باتیں کبھی کسی رضاکارانہ فعل سے ممکن نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ اس طرح آپ نہ متوقع رقم کے بارے میں تیقن سے کچھ کہ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو خرچ کرنے کا کوئی پلان بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے عوام سے مالی وسائل جمع کرنے کا ایک جامع طریقہ کار طے کیا جاتا ہے اور واضح اہداف مقرر ہوتے ہیں۔

بہرحال ۔۔۔ اگر ایسے بھی چلنا ہے تو پھر حکومت کو خود بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ حکومت بتائے کہ اسے بجلی کے بلوں کی مد میں کیا رقم ملتی ہے اور کتنی رقم ان بلوں پر مختلف ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہوتی ہے۔ جتنی رقم ٹیکسوں کی ہے وہ سب ڈیم کی تعمیر میں جائے گی اور اس سے حکومت دیگر کاموں کے لیے کچھ نہیں منہا کرے گی۔ یہ ایک بڑی رقم ہوگی اور اس رقم سے ڈیم کی تعمیر زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بوٹے مراثی دا پرنہ - خالد ایم خان

پھر یہ امر بھی حکومت کے دیکھنے کا ہے کہ اس ڈیم کا سب سے بڑا فائدہ زرعی شعبہ کو پہنچے گا۔ پاکستان کی جی ڈی پی کا لگ بھگ 21 فیصد یہی شعبہ ہے۔ لیکن اس شعبہ کا قومی محصولات میں کیا حصہ ہے؟ سارے ٹیکس گزار اسی شعبہ کی وجہ سے جی ڈی پی کے مقابل کم محصولات کا طعنہ سنتے ہیں۔ اس شعبہ پر اگر ٹیکس کا نفاذ سنجیدگی سے کیا جائے اور اس رقم کو بھی فی الحال ڈیم کے لیے وقف کر دیا جائے تو اس سے بھی اس قومی ہدف کے حصول میں حقیقی مدد مل سکے گی۔ ڈیم بننے سے اس شعبہ کو دہرا فائدہ ہوگا، زیادہ فصل اور سستی بجلی ان ہی کو حاصل ہوگی۔

چند تجاویز اور بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ نوٹ چھاپ کر ڈیم کے لیے فنڈ حاصل کیے جائیں۔ اس کے نتیجہ میں روپے کی قدر کم ہگی اور مہنگائی بڑھے گی۔ افراط زر کے نتیجہ میں عوام خود بخود اس فنڈنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ یاد رہے یہ سارے نوٹ ایک دن میں نہیں چھاپنے اور نہ ہی صرف نوٹ چھاپ کر کام چلانا ہے، دیگر ذرائع پر تو کام ہو ہی رہا ہوگا۔

پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم عالمی ساہوکاروں سے بات کر کے سالانہ debt servicing کو اس طرح ری شیڈول کر سکیں کہ قریب 16 ارب ڈالر کے بجائے یہ حجم 12 یا 13 ارب ڈالر ہو جائے اور اس رقم سے ہم ڈیم کی تعمیر کا کام چلا لیں۔ چین سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ برادر آپ کو ورلڈ پاور بنانے کے چکر میں ہم تو رل گئے ۔۔۔ اب اپنے 2000 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 22 ارب ڈالر کے دو ڈیم بنا دو ہمیں ۔۔۔۔ ان کا منافع تم کھاتے رہنا۔

غرضیکہ طریقے بہت ہیں ڈیم بنانے کے، سب پر کام ہونا چاہیے۔ تاہم، معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اس میں سب سے کم مؤثر طریقہ وہ ہے جس کا اعلان کل وزیر اعظم صاحب نے کیا۔ جو تقاضا کیسی حجم یا مدت کا تعین نہیں کرتا، وہ سسٹین ایبل نہیں ہوتا، جو اسسٹین ایبل نہیں وہ قابل عمل نہیں اور اگر قابل عمل نہیں تو پھر ڈیم تو نہیں بنے گا لیکن خدشہ ہے کہ "قرض اتارو ملک سنوارو" کا حصہ دوم ضرور بن جائے گا !

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.