تقلید کیوں ضروری ہے - سلمان اسلم

مسلم برادی کا یہ معمہ رہا ہے کہ جب یہ علم کے اسناد سے معراج پہ تھی تب خرافات و ذہنی فتور کا دور دور تک شاید ہی کوئی نشان موجود ہو۔ لیکن جیسے جیسے مسلم امہ اپنے زوال کی طرف لڑکنا شروع ہوئی تو ویسے ویسے ذہنی فتور کا بھی اجتماع شروع ہوا ۔ اسکی سادہ وجہ یہ تھی کہ اوائل میں مسلم امہ کا مقصدحیات اللہ اور اسکے رسول کی اتباع تھی۔ تبھی وہ نہ صرف دین کو عملی طور پر اپناتے تھے بلکہ انہوں نے بدلتے وقت کے ساتھ ، بدلتی ہوئی دنیا کی نئ جہت کے ساتھ دین کے تجدید کے فرائض بھی بخوبی نبھائے۔ جس کو ھم آج آسان الفاظ میں "جدید دور کے (تقاضوں کے موافق ) جدید طرز کے فقہی مسائل" کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

لیکن آج ہمارے ذہنی فتور کے بہتات کی وجہ ہی فقط یہی ٹھہری کہ ہمارا مقصد حیات دین اسلام ، اللہ اور رسول پاک مبارک کی خوشنودی کے حصول و اتباع سے دور کہیں جا بھٹکا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے آج مسلم دنیا ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ لیکن اسکا نقصان یہیں پہ بس نہیں ہوتا بلکہ آپ دیکھ لیں ہم اغیار دین کے ہاتھوں بھی مر رہے ہیں اور اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں بھی۔ مگر جتنا آج کل اپنے ہی مسلمان بھائی کے ہاتھوں اللہ اور اسکے رسول پاک علیہ الصلوات والسلام کے نام پہ مرتے اور مارے جاتے ہیں شاید ہی غیر مسلم کے ہاتھوں اتنا مرتے ہوں۔

عجیب نفسیاتی ملیریا دور حاضر میں امت کو یہ لاحق ہے کہ صحیح کس کو جانیں اور غلط کس کو؟ حق پرست کس کو کہا جائے اور باطل کس کو ٹھہرائیں؟ کیونکہ یہ تو مرنے والا بھی اللہ اور اسکے رسول کا نام لیوا ہے اور مارنے والا بھی نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرتا ہے۔ یہ اک ایسا نفسیاتی المیہ بن گیا ہے کہ نہ چین سے مرنے دے رہا ہے اور نہ جینے۔ اس ساری کہانی اور معمے کے پیچھے اک ہی وجہ کار فرما ہیں یا اسکی وجہ تصلیب بنا ہے ، اور وہ ہے بے لگام علم۔

پچھلے کچھ دہائیوں میں جب سے عصری زندگی کے انصرام و انتظام میں تکنیکی، معلوماتی، ٹیکنالوجی و انفارمیشن کی دنیا میں داخل ہوچکی ہے جسکو ( سپیس ایرا space era ) بھی کہتے ہیں ۔ جیسے سوشل میڈیا اسکی اک بڑی مثال ہے اور مارکیٹ بھی۔ تب سے فلسفہ دانی اور عقل دانی کا بے جا اور بے ڈھنگ اضافہ پیدا ہوکر اور بےلگام آگے بڑھنے لگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟ - محمدجمیل اختر

اسی دور دورے میں کچھ ایسے کردار بھی سامنے آگئے جنہوں نے دین کے دامن میں عقل و دانش کے نام سے رسمی پھول چن کر اپنی دھاک انسانی نفسیات پہ بٹھانے لگے۔ جیسے اوائل عصر میں بادشاہت کے ادوار میں جایئداد ، غلام دولت انبار سے اک شخص اپنے ماتحتوں پہ اپنی دھاک بٹھاتے ہوتے تھے پھر وقت طاقت و پاور کے ضمیمے میں داخل ہوا۔ ٹھیک اسی طرح پچھلے کئی دہائیوں سے اب وہی پرانی بادشاہت کے مثل پہ دوبارہ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے دین کو زیر استعمال لایا گیا ۔ اور یہ کوئی نئی بات بھی نہیں تاریخ کے اوراق میں اس باب کے حوالے سے بہت سارے ناموں میں دو تین بڑے ناموں کا تذکرہ سرفہرست آتا ہے کہ کبھی شاہجہاں جیسے مکروہ لوگ دین الہی کے نام سے سامنے آئے تو کبھی غلام قادیانی کی طرح پلید کردار بھی رسالت کے دعوی سے ملعون ہوئے۔
ان فرعونوں کے مقابلے میں پھر موسوی علم کے سپہ سالار حضرت شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی محدث دہلوی جیسے معتبر شخصیات بھی ان کا ملیا میٹ کرنے کے لیے اللہ نے پیدا فرمائے۔

اب کے بار بھی دین کے نام پہ اسی ہی طرز کا استعمال اپنایا گیا ہے مگر اس بار کمال ہوشیاری سے عملی میدان میں اترآئے ہیں۔۔ اس معلوماتی اور خلائی ٹیکنالوجی کے دور میں جب انسان بلاشبہ عقلی ذہانت کے بل بوتے پہ ترقی کے زینے چڑھتا گیا اور غار و پتھر کی زندگی سے خلائی کرے پہ زندگی آباد کرنے کی سعی تک کا سفر طے کرتا گیا اور بدستور کر رہا ہے وہاں انسان اپنے ناک میں اپنی پہچان ، اپنا خلق مادہ اور وقعت کا لگام لگانا بھول گیا۔ جو کہ اب سرکشی کی طرف دوڑتا ہوا محسوس ہو رہا ہے.دور حاضر میں جہاں کتاب ریڈنگ کی عادت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔تو وہاں اک طرف سوشل میڈیا کے مسیحا نے ابھرتی ہونی نئی نسل میں لکھنے کی صنف سے سانسیں گنتی ہوئی کتاب ریڈنگ میں پھر سے اک نئی زندگی کی روح پھینکی۔ مگر ھر چیز کے سیکھنے اور سکھانے کے کچھ کنٹرول کرنے والے آلات ، یا مخصوص پوائینٹس یا پھر لگام ہوتے جو کہ حد سے باہر جانے پہ نقصان سے، بے راہ ہونے سے بچاتے ہیں۔ اسی طرح علم کے حصول کے لیے بھی لگام کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ مگر دور حاضر میں ھر طرح سے حصول علم والے اپنے علم کے صحیفے میں اتالیق و مربی کا لگام کوئی لگانا بھول گیا تو کسی نے لگایا ہوا لگام اتار کر پھینک دیا۔ اور اسکا اثر یہ ہوا کہ اپنے وقت کے اکابرین علم و فہم کے فقیھہ ، عجز اور تقوی کےپیکر اہل علم ہستیوں پہ بے لگام انگلیاں اٹھانے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   کلیدی عہدے پر کسی قادیانی کی تقرری کا جھگڑا - ابوبکر قدوسی

ایسی شخصیات جنہوں نے اپنی زندگی دین الہی اور اتباع محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بجز اسلیے وقف کرکے صرف کی کہ آنے والے عصروں میں امت مسلمہ کبھی تذبذب کا شکار ہوکر ، یا دین کے فہم کو مشکل مان کر ، عملی زندگی میں بددل ہو کر دین سے متنفر نہ ہوجائیں۔ لیکن عصر حاضر کے معلوماتی دور کے اہل علم ، سوشل میڈیا کے سقراطوں و بقراطوں نے تفریقات کا واویلا برپا کیا ہوا ہے۔ اور تاسف کا دقیق نکتہ تو یہ کہ ہر کوئی اپنی بے لگامی کو درست ، حق پرست ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے اور دوسرے اہل علم ، فقہ ، تصوف ، طریقت و شریعت کے پیکر ہستیوں کو اور ان کے طریق کو غلط ثابت کرنے کے تیر ہوا میں مار رہے ہیں۔ اسی بے ادبی ، گستاخی ، کم علمی اور کج فہمی کی بنا پر ہم چاہے انفرادی زندگی ہو ، عائلی زندگی ہو یا اجتماعی کسی بھی حال میں پرسکون و خوشحال ہیں اور نہ محفوظ ۔ ان بے لگامیوں میں سب پہلا سوال ، بنیادی اور زیادہ دوہرایا جانے والا سوال یہ ہوتا ہے کہ ۔۔۔ "جو قرآن و احادیث میں ہے اسکو مانو ۔" یا ھر بات پہ رٹ یہ ہوتی ہے "قرآن و احادیث سے حوالے دے کے ثابت کرو۔" اور کچھ حضرات تو واضح الفاظ میں یہ تک کہتے ہیں کی تقلد شخص پرستی کفر ہے وغیر وغیرہ ۔۔۔ اس تصور نے اس سوال نے ذہنی دنیا کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

اور ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کوئی دو تین موٹی موٹی دلیلیں پیش کریں تو ہمارا ذہن فکری نظر بندی کے جال میں جکڑ جاتا ہے اور یہی حال مرے ساتھ ذاتی طور پر بھی بڑا ہوتا رہا ہے ۔ اس نظری بندی کے دائرے سے باہر ہمارا ذہن فکری تصور کی تخلیق و تحقیقی شعورکا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور کبھی کبھی تو یہ تناو اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ انسان کو اپنے ایمان پہ خزن محسوس ہونے کی وجہ سے اسکی نفسیاتی توازن میں بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ (جاری ہے ۔۔۔)