عبادات میں تنوع کے فوائد اور مقاصد - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے مسجد نبوی میں 27 ذوالحجہ 1439 کا خطبہ جمعہ " عبادات میں تنوع کے فوائد اور مقاصد" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی بے پناہ نعمتوں میں سے اسلام ایک عظیم ترین نعمت ہے، اور اسلام میں متنوع عبادات بذات خود بہت بڑی نعمت ہیں، اللہ تعالی کی طرف جانے والے راستے میں یہ تمام تر عبادات شامل ہیں، متنوع عبادات مومن کا امتحان ہوتی ہیں اور ایک عبادت سے دوسری عبادت میں منتقل ہونا حقیقی مومن کی علامت ہے، عبادات میں تنوع کی طرح ان کے الگ مقاصد بھی ہیں چنانچہ نماز ، زکاۃ، روزہ، اور حج کے الگ الگ مقاصد بھی شریعت نے بتلائے ہیں، اسی طرح عبادات کا طریقہ کار اور ان میں ملنے والی سہولتیں بھی الگ الگ ہیں یہ سہولتیں سفر، بیماری، غربت اور کمزوری جیسی افراد کی حالت کو مد نظر رکھ کر دی گئی ہیں تاہم سہولت کے باوجود اجر پورا ہی ملتا ہے جو کہ اللہ کا خاص فضل ہے۔ ان سہولتوں میں خواتین کی کمزوری کو بطور خاص مد نظر رکھا گیا اور ذمہ داریوں کے نبھانے پر انہیں جنت کا مستحق قرار دیا۔ عبادات کا اجر بھی مختلف اقسام کا ہے جو کہ گناہ مٹا نے، دولت میں اضافہ، جنت میں داخلہ، جہنم سے بچاؤ اور جنت میں رفاقتِ رسول ﷺ پر مشتمل ہے، اس لیے انسان کو ہر قسم کے اجر والی عبادت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ عبادات میں تنوع کے باعث دل میں اکتاہٹ نہیں آتی۔ نیز انہوں نے کہا کہ: نماز اور حج وغیرہ اجتماعی جبکہ صدقہ، دعا، اور اللہ کے سامنے آہ و زاری انفرادی عبادات میں شامل ہیں، ان عبادات کے بھی الگ الگ فوائد ہیں، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اللہ تعالی حج اور دیگر تمام عبادات کو آسان بنایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اسی کا فرمان ہے: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} جن لوگوں نے اچھے کام کئے ان کے لیے ویسا ہی اچھا بدلہ ہوگا اور اس سے زیادہ بھی ۔[يونس: 26]، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نے امت کو قیادت و سیادت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور بلند درجات تک پہنچنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہو؛ کیونکہ تقوی بہترین زاد راہ اور روز قیامت نجات کا باعث بنے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

اللہ تعالی کی بندوں پر بے پناہ نعمتیں ہیں، اگر کوئی انہیں شمار کرنا چاہے تو بھی نہیں کر سکے گا ؛ انہی نعمتوں میں سے اسلام اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت ہے، اس نعمت کے زیر سایہ نومولود فطرت سلیم پر پیدا ہوتا ہے، اور پھر ایسے ماحول میں پروان چڑھتا ہے کہ جہاں اللہ کی بندگی کی جاتی ہے، جہاں اذان کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، قرآن پڑھا جا تا ہے، اس لیے ہم اللہ کی حمد خوانی کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا۔

نعمت اسلام کے عظیم ترین نمایاں اثرات میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلام میں مختلف اقسام کی عبادات موجود ہیں، متنوع عبادات بذات خود ایک ایسی نعمت ہیں جس میں بہت سی ربانی حکمتیں پنہاں ہیں۔

اللہ تعالی تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہے جس میں اللہ کو راضی کرنے والے تمام افعال شامل ہیں۔ اللہ تعالی کو راضی کرنے والے افعال وقت، جگہ، افراد اور حالات کے مطابق متعدد بھی ہیں اور متنوع بھی؛ کیونکہ افراد کی استعداد اور قابلیت یکساں نہیں ہوتی، نیز عبادات میں تنوع کے باعث لوگوں کو سہولت بھی ملتی ہے اور چستی یا سستی کے مطابق آسانی بھی ۔

متنوع فرائض اور واجبات میں مومن کا امتحان ہوتا ہے کہ مومن اپنی خواہشات پر غلبہ پائے، حصولِ رضائے الہی کیلیے کوشش کرے؛ کیونکہ بندے کا مخصوص اوقاتِ عبادت میں ایک بندگی سے دوسری میں منتقل ہونا اس بات کی دلیل بن جاتا ہے کہ وہ واقعی اللہ کا بندہ ہے، اور رضائے الہی اس کا ہدف ہے۔

ہر عبادت کے مقاصد بھی الگ الگ ہیں؛ اس طرح ہر عبادت اللہ تعالی کی مخصوص حکمت اور تربیتی ہدف کو پورا کرتی ہے چنانچہ نماز کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ [العنكبوت: 45] اسی طرح زکاۃ کے بارے میں فرمایا: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} ان کے اموال میں سے زکاۃ لے، اور زکاۃ کے ذریعے انہیں پاک کر اور ان کا تزکیہ کر۔[التوبہ: 103] اور اسی طرح روزے کی فرضیت کے بارے میں فرمایا: {لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183] پھر حج کے متعلق فرمایا: {لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ} تا کہ وہ اپنے فوائد کا مشاہدہ کر لیں اور معلوم دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں۔ [الحج: 28]

ہر عبادت کے ارکان اور طریقہ کار بھی متنوع ہے؛ چنانچہ اگر کوئی شخص بیماری، سفر ، غربت، یا کمزوری کے باعث عبادت سے محروم رہا تو اسے شرعی رعایت یا حالتِ مکلف کا لحاظ رکھتے ہوئے جاری کی گئی عبادات کا اجر ملے گا؛ صرف اس لیے کہ مکلف کو پریشانی نہ ہو، مکلف آسانی اور سہولت کے ساتھ عبادت کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ} اللہ تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے بارے میں تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ [البقرة: 185]

اسلام نے تو ایسے غریبوں کا بھی خیال کیا ہے جنہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اصحاب ثروت اپنے مال و دولت کی وجہ سے صدقات میں آگے نکل جائیں گے؛ چنانچہ ایک بار غریب صحابہ کرام نے کہا: "اللہ کے رسول! اہل ثروت تو بہت زیادہ اجر لے جائیں گے، وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ اسی طرح روزے بھی رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، لیکن ساتھ میں وہ اپنا اضافی مال صدقہ کر دیتے ہیں" تو اُنہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (کیا اللہ تعالی نے تمہارے لیے صدقہ کرنے کا طریقہ نہیں بنایا؟! بیشک سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے۔ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے۔ الحمدللہ کہنا صدقہ ہے۔ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ برائی سے روکنا صدقہ ہے، بلکہ تمہارے عضو خاص میں بھی صدقہ ہے ) مسلم

اسلام نے مکلف افراد کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سہولت اور آسانی کو بنیادی اصول قرار دیا؛ چنانچہ ایک بار خثعم قبیلے کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: "اللہ کے رسول! اللہ کا فریضہ حج میرے والد پر انتہائی بڑھاپے میں فرض ہو گیا ہے، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (ہاں) اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے، اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج بدل کرنا جائز ہے۔

بعض احادیث میں اللہ تعالی کی وسیع رحمت اور فضل عیاں ہوتا ہے، ان میں مکلف افراد کے حالات کو مد نظر رکھا گیا؛ جیسے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جس وقت بندہ بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اس کیلیے اجر اتنا ہی لکھا جاتا ہے جتنا وہ حالت صحت اور اقامت میں عمل کیا کرتا تھا)

اسلام نے مکلف خواتین کے حالات کو بھی مد نظر رکھا؛ کیونکہ خواتین مردوں والے بعض افعال سر انجام دینے سے قاصر ہوتی ہیں؛ تو ان کی ذمہ داریوں پر اجر عظیم عنایت کیا تا کہ ان کے کردار کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کی ذمہ داریوں کی اہمیت واضح ہو، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب کوئی عورت پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا: جنت میں جس مرضی دروازے سے داخل ہو جاؤ)

عبادات کے فضائل بھی متنوع ہیں؛ چنانچہ ہر عبادت کی بدولت مسلمان کے نامہ اعمال میں بہت خیر لکھی جاتی ہے، نامہ اعمال میں ڈھیروں اجر و ثواب درج کیا جاتا ہے، کچھ عبادات ایسی ہیں جن سے گناہ اور خطائیں معاف ہوتی ہیں، چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ : (جو بھی مسلمان فرض نماز کا وقت ہونے پر اچھی طرح وضو کرے، نماز میں خشوع اور رکوع اچھے انداز سے بجا لائے، تو یہ نماز سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کیا ہو، اور یہ ہر وقت ہوتا رہے گا)

کچھ عبادات ایسی ہیں جو مالی اضافے کا باعث بنتی ہیں، جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی مال صدقے کی وجہ سے کم نہیں ہوتا) اور کچھ عبادات ایسی ہیں جو جنت میں داخلے کا باعث بنتی ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہی ہے) جبکہ کچھ عبادات مسلمان کو جہنم کے عذاب سے بچاتی ہیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی بھی اللہ کے خوف سے رونے والا اس وقت تک جہنم میں نہیں جائے گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس چلا جائے۔ اور نہ ہی جہاد فی سبیل اللہ کی غبار اور جہنم کا دھواں یک جا ہو سکتا ہے) کچھ عبادات کے فضائل ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے مسلمان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جس کا کوئی ثانی نہیں، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (روزِ قیامت تم میں سے میرا محبوب ترین اور میرے قریب ترین وہ بیٹھے گا جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو گا)

عبادات کے مختلف اوقات اور متنوع فضائل مسلمان کو عبادات کے گلستان و چمنستان میں خوشہ چینی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالی کسی بندے سے محبت فرمائے تو اسے فضیلت والے اوقات میں فضیلت والی عبادات میں مصروف فرما دیتا ہے، اور جب اللہ تعالی کسی سے ناراض ہو تو افضل اوقات میں بھی برے اعمال میں مصروف کر دیتا ہے۔

نیکیوں کی جتنی بھی بہاریں ہیں ان میں کوئی نہ کوئی ایسی بندگی ہے جن کے ذریعے قرب الہی تلاش کیا جا سکتا ہے، پھر اس بہار میں اللہ تعالی کی خصوصی برکھا ہوتی ہے ، جو اللہ تعالی جسے چاہے اپنے فضل و رحمت سے عطا کر دیتا ہے۔

متنوع عبادات کی وجہ سے اکتاہٹ نہیں ہوتی اور دل بھی نہیں بھرتا، اس طرح انسان چست رہتا ہے، اور عبادت میں لذت اور حلاوت ملتی ہے۔

اور کچھ عبادات انفرادی ہیں جن کی فضیلت اور حکمت الگ ہی ہے، ان کی بدولت اللہ تعالی سے ناتا مضبوط ہوتا ہے، یہ انسان کو اخلاص پر اور ریاکاری سے احتراز پر پروان چڑھاتی ہیں، ان سے روحانی صفائی اور اللہ سے لگاؤ بڑھتا ہے، جیسے کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے جس وقت پوچھا گیا کہ: "کیا وجہ ہے کہ قیام اللیل کرنے والوں کے چہروں پر نور ہوتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیونکہ وہ تنہائی میں رب کو یاد کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے انہیں اپنے نور سے نواز دیا"

گڑگڑا کر اور خوف کھاتے ہوئے اللہ سے دعائیں کرنا خوبصورت ترین انفرادی عبادات میں سے ہے؛ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً} اور اپنے رب کو اپنے دل میں گڑگڑا کر اور خوف کھاتے ہوئے یاد کر۔ [الأعراف: 205]

اللہ کے لیے روزہ بھی انفرادی عبادات میں شامل ہے؛ کیونکہ روزے کے علاوہ ہر عمل ابن آدم کے لیے ہے کیونکہ روزہ اللہ کے لیے ہے۔

خفیہ صدقہ بھی انفرادی عبادت ہے، مسلمان کا دایاں ہاتھ جب صدقہ کرے تو بائیں کو بھی خبر نہیں ہونے دیتا کہ کتنا صدقہ ہوا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی روز قیامت سایہ نصیب فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا) ان میں سے ایک یہ بھی ذکر کیا کہ: (اور ایک وہ آدمی جو صدقہ کرتے ہوئے اتنا چھپا کر دیتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے۔)

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

اللہ تعالی کی نعمتوں اور عنایتوں پر اسی کے لیے تعریفیں ہیں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالی نے ہمیں کائنات میں غور و فکر کی دعوت دی، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے ہیں، آپ نے ہمارے دلوں کو بیماریوں اور خرابیوں سے پاک صاف کیا، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور سیرت نبوی پر چلنے والے تمام صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد: میں آپ سب کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔

جس طرح انفرادی عبادات عظیم مقام رکھتی ہیں تو نماز اور حج جیسی عبادات جو کہ اجتماعی شکل میں ادا کی جاتی ہیں ان کے بھی عظیم مقاصد اور فضائل ہیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ : باہمی محبت اور انس پیدا ہو، ایک دوسرے کے حال احوال سے باخبر رہیں، مسلمانوں کی شان کا اظہار ہو، ایک دوسرے سے مل کر سیکھیں، اور امت اسلامیہ کو مل کر رہنے کی تربیت ملے، دور رہنے سے بچیں، باہمی اشک شوئی کریں، اور مساوات کے ساتھ رہیں، نیز معاشرتی رکاوٹوں کو گرا دیں۔

عبادات میں تنوع کا پایا جانا عملی زندگی کیلیے بہت وسیع میدان ہے؛ چنانچہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی مخصوص کام کرنے کی ہی توفیق ملتی ہے وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتے، اس طرح ہر شخص کو وہی کام کرنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کیلیے اس کی تخلیق عمل میں آئی۔ پھر علمائے کرام کے مطابق تمام لوگ اس تنوع میں بھی مختلف مقام رکھتے ہیں چنانچہ کچھ کیلیے حصول علم زہد سے آسان ہوتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں پر زہد حصول علم سے آسان، جبکہ کچھ کیلیے عبادت علم و زہد دونوں سے آسان ہوتی ہے؛ اس لیے شرعی طور پر ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ خیر و بھلائی کا وہی کام کرے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے، اور اللہ تعالی کا فرمان بھی ہے کہ: {فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} اپنی استطاعت کے مطابق تقوی الہی اختیار کرو۔[التغابن: 16]

جس وقت انسان کو علم اور ادراک ہو جائے کہ متنوع عبادات بھی ایک نعمت ہیں تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا لازمی ہو جاتا ہے؛ لہذا اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ان کو عملی جامہ پہنائے، جیسے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی کو بندے کی یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ وہ لقمہ بھی کھائے تو الحمدللہ کہے یا ایک گھونٹ پانی بھی پئے تو الحمدللہ کہے)

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود و سلام پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، اکرم الاکرمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے کوئی جلدی ملنے والی یا دیر سے، یا اللہ ! ہم تجھ سے معلوم یا نامعلوم ہمہ قسم کی برائی سے پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے۔ اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، نیز ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! توں ہی معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، لہذا ہمیں معاف فرما دے۔

یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے وہ سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔

یا اللہ! ہم تیری نعمتوں کے زوال، تیری طرف سے ملنے والی عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہمہ قسم کی ناراضی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات سنوار دے، ہمیں ہمارے یا کسی مخلوق کے رحم و کرم پر ایک لمحہ کے لیے بھی مت چھوڑنا۔

یا اللہ! ہمارے سب معاملات کے نتائج اچھے عطا فرما اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہماری عمر، عمل، رفیق حیات، اولاد، املاک، دولت، اور رشتہ داروں میں برکتیں فرما، یا اللہ! ہم جہاں بھی ہوں ہمیں بابرکت بنا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کی تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کے کام کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت کے نفاذ کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ [البقرة: 201]

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.