قادیانی ایشو سے ہم نے کیا سیکھا؟ محمد عامر خاکوانی

الحمدللہ حکومت پاکستان نے اپنی غلطی سدھارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عاطف میاں کے تقرر پر جو عوامی ردعمل سامنے آیا تھا، وہ رنگ لایا اور یہ فیصلہ واپس ہورہا ہے۔ آج رات عمران خان کا قوم سے خطاب ہے، ممکن ہے وہ اس حوالے سے بھی کچھ وضاحت دیں۔

عمران خان کی حکومت نے یہ غلطی کی تھی۔ عاطف میاں کا تقرر غلط تھا، اس کا مشورہ دینے والے مشیر کی نیت پر اگر شک نہیں تو کم از کم آئندہ کے لئے وزیراعظم کواس کی عقل پر ضرور شک کرنا چاہیے۔ اس پہلی غلطی کے بعد اس کا دفاع کرنا دوسری بڑی اور سنگین غلطی تھی۔ فواد چودھری جیسے دین سے نابلد، کھردرے ، درشت لہجے میں بات کرنے والے کو دفاع کی ذمہ داری دینا تیسری سنگین غلطی تھی۔ فواد چودھری نے پوری کوشش کہ کہ حکومت کو بحران میں دھکیل دے، خوش قسمتی ہے عمران خان کی کہ ان کےمشیروں میں کوئی معقول آدمی ہے، جس نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ کیا۔

اس ایشو سے دو تین باتیں ہم نے بھی سیکھی ہیں۔
ایک تو یہ کہ بار بار ایسا ہوگا، پلٹ پلٹ کر ’’وہ‘‘ حملہ آور ہوں گے۔ اس کے لیے تیار، مستعد اور لیس رہنا چاہیے، معلومات سے، علم سے اور دلائل سے۔

دوسرا یہ کہ اس کا دفاع اب صرف مذہبی طبقے یا عرف عام میں مولویوں کی ذمہ داری نہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگ زیادہ مؤثر اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ختم نبوت ﷺ ہر مسلمان کا بنیادی ایشو ہے، اسے اس حوالے سے ذمہ داری سمجھنی چاہیے ۔ کچھ کام چھوڑے نہیں جا سکتے، دوسروں کے ساتھ انہیں بھی لازمی کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی ایسا ہی ایشو ہے۔

تیسرا یہ کہ آپ دنیا جہاں کے موضوعات پر لکھتے رہیں، مگر اس حوالے سے کچھ ہوم ورک ضرور کر رکھیں، اب فیس بک نے پوسٹ سیو کرنے کی آپشن دے کر بڑی آسانی کر دی ہے۔ ایسی معلوماتی، مفید پوسٹیں سیو کر لینی چاہییں، اپنی وال، واٹس ایپ، ای میلز وغیرہ میں وہ ڈیٹا محفوظ کر لیا جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکے۔

چوتھا یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کچھ باتیں انڈرسٹڈ ہیں، لوگ انہیں سمجھتے ہیں، مگر ایسا ہوتا نہیں، ہر چند برسوں کے بعد نئی نسل آ جاتی ہے، جنہیں بہت سی باتوں کا علم نہیں، گھروں میں ہم اپنے بچوں کی اس حوالے سے تربیت نہیں کرتے۔ یہ سب کام اب کرنا ہوگا، بار بار دہرانے، حافظے میں محفوظ کرنے جیسی مشقت۔ اپنے بچوں، گھر والوں، دوستوں، دائیں بائیں والوں کی تربیت کریں، شائستگی، دلیل کے ساتھ انہیں اس پورے ایشو سے آگاہ کریں، ان کے سوالات سنیں، جھڑک کر چپ کرانے کے بجائے ان کے جواب دیں۔ اگر علم نہیں تو صاحب علم لوگوں سے رہنمائی لیں، بہت سا ڈیٹا فیس بک کے گروپس وغیرہ میں موجود ہے۔ وہ پڑھنے کو دیں۔ کوشش کر کے پی ڈی ایف بنا لیں اور پڑھنے کے لیے انھیں فارورڈ کرتے رہیں۔

ایک حلقہ ایسا ہے جسے یہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ آخر قادیانی ایشو ہے کیا، ہم لوگ قادیانیوں کے حوالے سے اتنے حساس کیوں ہیں؟ ان کی بات سن کر غصہ کرنے، ان پر کوئی لیبل لگانے کے بجائے ایشو سمجھائیں۔ انہیں بتائیں کہ آخر ایسا ردعمل کیوں آتا ہے؟ ہم دوسری اقلیتیوں کے حوالے سے اتنے جذباتی، ری ایکٹو نہیں تو قادیانیوں کے حوالے سے کیوں ہیں؟ یہ ایک پورا مقدمہ ہے، جسے ہمیں آگے بتانے، سمجھانے کی ضرورت ہے۔ خاص کر خواتین کو یہ سمجھانا چاہیے، تاکہ وہ اگلی نسل تک اسے منتقل کر سکیں۔ اووسیز پاکستانیوں، مسلمانوں کو اس حوالے سے زیادہ ہوشیار، مستعد اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے چیلنج زیادہ بڑے ہیں، لیکن اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے محنت کرتے رہیں، ان شاءاللہ اس کی نصرت ضرور پہنچے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.