عاطف میاں کی تقرری، چند بنیادی باتیں - آصف محمود

کیا عاطف میاں کی بطور مشیر تقرری کی مخالفت اس لیے کی جا رہی ہے کہ وہ قادیانی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ان کی مخالفت کی وجوہات کچھ اور ہیں اور خلط مبحث سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ان وجوہات کو چھی طرح سمجھ لیا جائے۔

وجوہات پر بات کرنے سے پہلے یہ بات جان لی جانی چاہیے کہ اس وقت پاکستان میں آئینی اور قانونی پوزیشن کیا ہے؟

دستور پاکستان کے آرٹیکل 260 کی ذیلی دفعہ 3 میں مسلمان کی تعریف کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلمان وہ ہو گا جو اللہ وحدانیت پر ایمان رکھتا ہو اور نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو ۔ او ر کسی ایسے شخص کو پیغمبر یا مذہبی مصلح نہ مانتا ہو جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوی کیا ہو ۔ اسی آرٹیکل میں قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔

جب آئین میں یہ ایک بات طے ہو گئی تو پھر لازم تھا کہ اس کی روشنی میں کچھ ذیلی قانون سازی بھی ہوتی ۔ چنانچہ تعزیرات پاکستان میں کچھ باتیں طے کر دی گئیں ۔ ان باتوں کا بھی ایک عام آدمی کو اچھی طرح علم ہونا چاہیے ۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 سی نے آئین کے آرٹیکل 260 کو عملی صورت میں نافذ کر دیا ہے ۔ اس دفعہ کے مطابق قادیانی یا لاہوری گروپ کا کوئی فرداپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش نہیں کر سکتا ۔ سیکشن کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ وہ Directly یا Indirectly کسی بھی طرح خود کو مسلمان POSE نہیں کر سکتا ۔ مسلمان کہلانے یا کہلوانے پر ضد کرنا تو دور کی بات وہ ایسا pose بھی نہیں کر سکتا ۔ اس دفعہ میں دوسری بات یہ کی گئی ہے کہ وہ قادیانیت کو اسلام نہیں کہ سکتا ۔ یعنی یہ جو احمدی مسلم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اس کی ممانعت ہے۔ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ جرم ہے اور اس کی سزا تین سال تک قید ہے اور ساتھ ہی جرمانہ بھی۔

دفعہ 298 بی میں کیا لکھا ہے، اس کا بھی آپ کو علم ہونا چاہیے ۔ اس میں قادیانیوں پر پانچ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے امیر المومنین ، خلیفۃ المومنین ، خلافت المسلمین ، صحابی اور رضی اللہ عنہ کہنا منع کر دیا گیا ہے۔
2۔ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے علاوہ کسی اور کے لیے ’ ام المومنین ‘ کا لفط استعمال نہیں کرے گا۔
3۔ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ’ اہل بیت ‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جائے گی۔
4۔ قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام نہیں دے سکتے۔
5۔ قادیانیوں پر یہ بھی پابندی ہے کہ وہ مسلمانوں کے کلمات والی اذان بھی نہیں دے سکتے۔
ان پبندیوں میں سے کسی کو اگر کوئی پامال کرتا ہے تو اس کے لیے تین سال تک قید کی سزا ہے اور ساتھ ہی جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   شیخ رشید کو جینے دو - محمد حنیف

اب ذرا عاطف میاں کے خیالات پڑھ اور سن لیجیے۔ عاطف میاں پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر کیسے بن سکتے ہیں جب کہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ 298 بی اور سی کے تحت وہ جرم کر چکے ہیں اور اس کا ارتکاب مسلسل کرتے آ رہے ہیں؟

فواد چودھری صاحب اس نکتے کی وضاحت فرما دیں کہ نئے پاکستان میں کیا تعزیرات پاکستان کی یہ دفعات ساقط ہو چکی ہیں ؟ اور اگر یہ موجود ہیں تو ان کے تحت صریح جرم کا مسلسل ارتکاب کرنے والا شخص آپ کس قانونی جواز کے تحت مشیر بنا رہے ہیں ؟ انتہا پسندی آپ کے رویے میں ہے یا آپ کے ناقدین کے رویے میں ؟

آئین پاکستان میں قادیانیوں پر ایم پی اے ، ایم این اے ، مشیر اور وزیر بننے کی کوئی پابندی نہیں ۔ بطور اقلیت ان کا حق ہے وہ پارلیمان میں آئیں اور اپنا کردار ادا کریں ۔ وہ اگر پارلیمان میں نہیں ہیں تو یہ ان کی ضد ہے ۔ وہ خود کو مسلمان سمجھے جانے پر اصرار کرتے ہیں اور بطور اقلیت انتخابات میں حصہ لینے کو تیار نہیں۔

ریاست نے ان کے ساتھ جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ غیر معمولی ہے۔ ریاست نے ان سے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے پیشوا کو نبی مانو گے تو جیل جاؤ گے۔ ریاست نے صرف یہ کہا کہ اسے نبی ماننا چاہو تو بے شک مانو ، تمہاری مرضی ، تم سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے بعد تم مسلمان نہیں ہو گے۔

ریاست نے یہ نہیں کہا تم عبادت گاہ نہیں بنا سکتے اور بناؤ گے تو مسمار کر دی جائے گی۔ ریاست نے صرف یہ کہا کہ تم بے شک عبادت گاہ بنا لو مگر تم اسے مسجد کا نام نہیں دو گے کیونکہ ختم نبوت کے انکار کے بعد تم مسلمان نہیں۔

انہیں اپنا عقیدہ رکھنے کی آزادی ہے۔ پابندی صرف اتنی ہے کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کے لیے جو خاص الفاظ ہیں ان کا اپنے پیشواؤں کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ ختم نبوت کے انکار کے بعد کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں نے صرف ختم نبوت کے عقیدے کا دفاع کیا ہے ۔ کیا مسلمان اب عقیدہ ختم نبوت سے بھی دست بردار ہو جائیں ؟

قادیانیوں کا معاملہ اس ملک کی پارلیمان ہی کوطے کرنا تھا ۔ انفرادی طور پر کسی کی تکفیر نہیں ہو سکتی ۔ یہ اعتراض بے معنی ہے کہ ریاست کا کسی کے عقیدے سے کیا لینا دینا۔

یہ بھی پڑھیں:   بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے گزارش - احسن سرفراز

پاکستان کی ریاست کی ساخت سمجھ لیجیے ۔ یہاں مذہب انفرادی معاملہ نہیں ہے۔ آرٹیکل 2 کے مطابق اسلام کو پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دیا گیا ہے۔ جب ریاست کی شناخت ہی اسلام ہے تو اس شناخت کے بارے میں ریاست فیصلہ کیوں نہ کرے؟

آرٹیکل 31 نے ریاست پر ایک اور ذمہ داری عائد کر رکھی ہے۔ اس میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزارنے کے لیے سہولیات کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے ۔ یہی نہیں ریاست کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کرے کہ عوام قرآن و سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں ۔ اب آپ بتائیے کہ ختم نبوت کے تصور کو سمجھے بغیر ایک مسلمان زندگی کا مفہوم کیسے جان سکتا ہے۔

یہ معاملہ قومی اسمبلی کے سامنے آیا تو کھڑے کھڑے عجلت میں فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ کمیٹی نے دو ماہ میں 28 اجلاس منعقد کیے جو 96 نشستوں پر محیط تھے۔ پانچ اگست سے گیارہ اگست اور پھر بیس اگست سے اکتیس اگست یعنی کل گیارہ روز مرزا ناصر پر جرح ہوئی ۔ جرح کا دورانیہ 42 گھنٹے تھا ۔ مرزا کو نہ صرف بات کہنے کی آزادی تھی بلکہ شرکاء میں لٹریچر تک تقسیم کرنے کی اجازت تھی۔

قادیانیوں کو بطور اقلیت تمام حقوق حاصل ہیں۔ لیکن وہ ختم نبوت کے تصور کی نفی کا حق چاہتے ہیں۔ یہ حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ معاملہ یہ نہیں کہ عاطف میاں قادیانی ہے اس لیے اس کی تقرری کی مخالفت ہو رہی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے قانون کو مسلسل پامال کر کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے اور ایک ایسا مجرم جو ریاست کی مبادیات پر حملہ آور ہو اور اس کی فکری شناخت کے درپے ہو وہ اس ریاست کے وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

قادیانیوں اور مسلمانوں میں تناؤ کی وجہ بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کی ضد ہے ختم نبوت کے منکر کو بھی مسلمان سمجھا جائے ۔ یورپ میں تو ہولو کاسٹ کی نفی پر سزا ملتی ہے۔ پاکستا ن کا قانون تو ختم نبوت کی نفی پر بھی سزا نہیں دے رہا ، صرف یہ کہہ رہا ہے کہ اس نفی کے بعد آپ کو الگ شناخت کے ساتھ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق تو ہے لیکن ختم نبوت کے انکار کے بعد آپ مسلمان نہیں رہتے۔ اب اگر ایک گروہ کے لیے یہ بھی قابل قبول نہیں اور وہ سماج کی حساسیت کی مسلسل توہین کر رہا ہو تو اس پر آپ بھلے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی اور سی کا اطلاق نہ کریں لیکن زہریلے لہجے میں قوم کو انتہا پسند ہونے کا طعنہ بھی مت دیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.