عمران خان ہوش کے ناخن لیں - ابو محمد

یہ وہی عاطف میاں ہیں جن کے بارے عمران خان نے دھرنے میں کہا کہ میں انہیں وزیر خزانہ بناؤں گا تو چہار عالم شور مچ گیا کہ یہ قادیانی ہیں، وہی قادیانی جو بحیثیت جماعت ملک پاکستان کے آئین و قانون کے باغی ہیں۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ ان کے قادیانی ہونے کی بات میرے علم میں نہ تھی، اگر ہوتی تو میں ایسا نہ کہتا۔ اس کے باوجود عنان اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد ہی وزارت خزانہ سے وزیراعظم کی طرف ایک نوٹیفیکیشن موو ہوتا ہے، جس میں اسی عاطف میاں کو مشاورتی کمیٹیِ میں شامل کرنا تجویز کیا جاتا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ نوٹیفیکیشن غالبا اب تک وزیراعظم کی ٹیبل پر صرف یہ انتظار کر رہا ہے کہ عوامی ردعمل کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔

آج ملک خداداد پاکستان پر یہ وقت آ گیا ہے کہ تحریک انصاف سے فواد چوہدری، پیپلز پارٹی سے شہلا رضا، اور نون لیگ کے احسن اقبال، جو ماضی قریب میں سب کے سب ایک دوسرے کے شدید مخاالف رہے ہیں، ایک دم اپنی سیاسی دشمنیاں بھلا کر قادیانی حکومتی مشیر بنانے کے مسئلے پر متفق ہو چکے ہیں۔

آج کے دن نوائے وقت میں "شہدا و غازیانِ جماعت احمدیہ" کے نام سے اشتہار چھپتا ہے، جب سوشل میڈیا پر اس کے بارے مہم چلی تو اخبار نے لاہور ایڈیشن کا صفحہ نمبر 11 ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔ آج ہی کے دن جنگ اخبار میں بلال غوری کا کالم "شکریہ عمران خان" کے نام سے چھپتا ہے جس میں عاطف میاں کی حمایت میں دلائل دیے جاتے ہیں۔ آج ہی کے دن ایکسپریس اخبار میں جاوید چوہدری صاحب کا کالم "کیا قائد اعظم کو نہیں پتہ تھا" کے عنوان سے چھپتا ہے جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کے حوالے سے لکھا گیا کہ انھوں نے سر ظفراللہ خاں کو وزیر خارجہ تعینات کیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ قادیانی ہے۔ سب اطراف سے یہ بے سروپا دلائل اس لیے دیے جا رہے ہیں کہ عاطف میاں قادیانی کی تقرری کو عظیم الشان بنا کر دکھایا جائے۔

لگتا ہے حکومت کی یہ مجبوری کوئی نئی نہیں، اسے پچھلے دور حکومت سے کنیکٹ کر کے دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں کہا تھا، کہ امریکہ اس کے لیے تیار ہے کہ اگر قادیانیوں سے متعلق ترمیم آئین سے ختم کر دی جائے تو ہمارے سارے قرضے معاف ہوجائیں گے۔ اس پر جناب راجہ ظفرالحق صاحب ڈٹ گئے کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو آپ نے کہا اس کے ردِعمل کا بھی آپ کو اندازہ ہے؟ تو اس پر نواز شریف صاحب طرح دے گئے کہ نہیں، وہ تو میں نے ویسے ہی کہا۔ جس عبدالسلام قادیانی نے پاکستان کی سرزمین کو لعنتی کہا، جناب میاں محمد نواز شریف نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحق فزکس کے ادارہ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھا اور عمران خان کی حکومت اسی کے قبیلے کے فرد کو ایوان اقتدار کا راستہ دکھا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترک صدر رجب طیب اردوان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب ....صبا احمد

علامہ اقبالؒ نے جواہر لال نہرو کو یہ کہا تھا کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں، قادیانیوں کے بارے میں علامہ اقبال کے فرمان اور ان دونوں لیڈران کے عمل میں اتنا واضح تضاد آخر کیوں؟

اب سوچنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں ایسا کیا ہوا کہ قومی اسمبلی سے انتخابی اصطلاحات کا جو بل منظور کرایا گیا، اس میں سے اسمبلی الیکشن کے لیے امیدواران کا حلف نامہ بدل کر اقرار نامہ بنا دیا گیا۔ آخر ایک قانون میں ایسی چار مختلف جگہوں پر ہی غلطیاں کیسے ہوئیں جو ختم نبوت سے متعلق تھیں۔ سابقہ دور حکومت میں ختم نبوت کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور پھر اس حکومت میں عاطف میاں، یہ سب کے سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس میں یہ بہت واضح پیغام ہے کہ ملک میں ایک گھمبیر پلان کا آغاز ہو چکا ہے جس کا کم از کم مقصد قادیانیت نوازی ہے۔ یہ ایک گہری سوچ اور خطرناک چال کا حصہ لگتا ہے۔

آئیے اس بات کو بھی واضع کر لیتے ہیں کہ آخر پاکستان کے عوام اس قادیانی اقلیت کو ایوان اقتدار کے قریب کیوں نہیں پھٹکنے دینا چاہتے۔ ذاتی حیثیت میں جہاں قادیانیوں کی بےشمار مثالیں اسرائیل نوازی و مسلمان دشمنی کی ہیں، وہاں ممکن ہے کہ چند اچھی مثالیں بھی ہوں، لیکن یہاں مسئلہ ذاتیات کا نہیں، بلکہ معاملہ ملکی سلامتی کے لیے بہترین پالیسی بنانے کا ہے۔ شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ "وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے"۔

مشہور قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کا ذکر بارہا کیا جاتا ہے، یہ وہی ہیں جنہوں نے 10 فروری 1987ء کو امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ''آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔"

اسرائیل کے معروف یہودی سائنس دان یوول نیمان کے ڈاکٹر عبدالسلام سے دیرینہ تعلقات رہے۔ یہ وہی یوول نیمان ہیں جن کی سفارش پر تل ابیب کے میئر نے وہاں کے نیشنل میوزیم میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ یادگار کے طور پر رکھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے ایٹمی دھماکے اسی یہودی سائنس دان کے مشورے سے کیے جو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یوول نیمان امریکہ میں بیٹھ کر براہ راست اسرائیل کی مفادات کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم کی عالمی برادری سے مایوسی - مفتی منیب الرحمن

ماضی کی دوسری مشہور شخصیت جن کا آج جاوید چوہدری صاحب نے ذکر کیا اور قادیانی بھی بارہا ذکر کرتے ہیں، پہلے پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ صاحب ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جنھوں نے قائد اعظم کا جنازہ یہ کہہ کر نہ پڑھا کہ مجھے کافر ملک کا مسلمان وزیر خارجہ سمجھیں یا پھر مسلمان ملک کا کافر وزیر، اور یہ کہ قائد اعظم مرزائی نہ تھے اس لیے میں ان کے جنازے میں کیوں شامل ہوں؟

دسمبر 2015ء میں قادیانیون کا 124 واں تین روزہ سالانہ اجتماع قادیان، بھارت میں منعقد ہوا۔ قادیانیوں کے اس سالانہ اجتماع میں پاکستان کے خلاف بھرپور انداز میں زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجتماع میں پاکستان سے جانے والوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد تھی، جس کو مرزائی جماعت کی جانب سے بڑی کامیابی قراردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سے جانے والی قادیانیوں نے بھارت کو اپنی پناہ گاہ قراردیا، جبکہ بھارتی اخبارات نے بھی پاکستان سے آنے والے قادیانیوں کو مظلوم ظاہر کیا۔

اس سالانہ اجتماع میں دنیا بھر کے 44 ممالک سے 20 ہزار قادیانی شریک ہوئے۔ اس موقع پر قادیانی لیڈروں نے پاکستان کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کیا۔ انڈین ایکسپریس نے اپنی 29؍دسمبر کی اشاعت میں سرخی جمائی کہ ’’ہم احمدی اپنے بانی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے ہاں آتے ہیں تو اپنی مشکلات بھول جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم اپنے گھر میں آئے ہوں‘‘۔ اخبار نے قادیانیوں کو ’’امن پسند‘‘ ثابت کرنے کے لیے قادیانیون کے ایک مبلغ، غنی تنویر احمد قدیم کی تقریر کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ''وہ ملک (پاکستان) چھوڑ دو، جہاں پر تمہیں امن سے رہنے نہیں دیا جاتا۔ اور اس ملک (بھارت) میں چلے آؤ جہاں پر تمہیں پناہ دی جاتی ہے۔''

یہ سب جاننے کے بعد اگر ایک ایسی کمیونٹی کو آپ پاکستان کے کسی بھی سرکاری عہدے پر بٹھانا چاہیں تو اس کے لیے کم از کم مضبوط ترین قانون سازی، حلف نامے اور ہموار رائے عامہ کی ضرورت ہوگی۔ آپ بھلا ایسے کیسے ایک پاکستان دشمن لابی کو اوپر لا سکتے ہیں۔

جناب وزیر اطلاعات صاحب!
میں اپنی بات کروں تو ذاتی طور پر چھ سات سال سے الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر تحریک انصاف کے وژن کے لیے متحرک ہوں۔ عاطف میاں کی تقرری کے معاملے پر ریاست مدینہ کے وزیراطلاعات کو یہ زیب نہیں دیتا کہ میڈیا کے سامنے کھڑا ہو کر بیک جنبش زبان حکومت پر تنقید کرنے والوں کو مذہبی جماعتوں کا کارکن قرار دے دے، شاید یہ سوچ کر کہ ایسے بات دب جائے گی۔

اسدعمر، فواد چوہدری اور عمران خان!
اب بھی وقت ہے۔ آپ تینوں یاد رکھیں، یہ بہت سنجیدہ موضوع ہے، آپ ٹھنڈے پانی میں نہیں کھڑے ہوئے۔

Comments

ابو محمد

ابو محمد

ابو محمد وکیل و مینیجمنٹ پروفیشنل ہیں، حالات حاضرہ اور ملکی و بین القوامی سیاست پر نظر رکھے ایک جہاں گرد ہیں دلیل کےلیے لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.