کیکر سلامت تھڑا قائم - دعا عظیمی

میں روز اسی سڑک پر نکلتا تھا، دھول دھوپ اور دوڑ میں سب پیچھے رہ گیا۔ مگر اس کیکر سے اپنی پرانی دوستی تھی۔ کسی بھلے مانس نے کچے پکے روڑوں کو ٹکا کر ایک مسافر کے سستانے کو تھڑا بنا ڈالا تھا، لاری اڈے سے تانگے مل جایا کرتے تھے، مگر میرے جیسے تھوڑ پونجیے اپنی طاقت پر ہی بھروسہ کرتے اور چند کوڑیوں کو اور بھی زور سے بھینچ لیتے۔

لاڈلوں کی فرمائش کو ابھی پاؤں نہیں لگے تھے، پر دوا دارو کے لیے بھی تو پیسوں کی ہی ضرورت پڑتی، سرکاری ہسپتال جانا پڑ جاتا تو پرچی کے پیسے کس سے مانگتا؟ باپ سے جو برتن بنا بنا کے مٹی تلے جا سویا، اور جاتے جاتے مجھے کولہو سے باندھ گیا۔ کتنا بولا تھا کہ مجھے اس جھنجھٹ سے دور رکھ، پر اماں کے سوئے ارمان بھی پوری طاقت سے جاگ اٹھے تھے۔ مجھے ابا نے ہنر تو سکھایا تھا پر اب کچے برتنوں کو منہ کون لگاتا ہے؟ اسی لیے نیک پروین مجھے دیسی پھولوں کے ہار بنا دیتی، انھیں شہر لے جا کر بیچ آیا کرتا، اور گھر کا چولہا لکڑیوں کے بالن سے بھرا رہتا۔

اس کیکر سے اپنی دوستی آج کی نہیں تھی، بارشوں کے بعد جب بھی تھڑا تڑخ جاتا، ابا مٹی اور چھانی لیے اس کی لیپاپوتی کرتا، اور میں مٹی گھلی تگاری اس کےقریب کرتا جاتا، تاکہ وہ اپنا کام آسانی سے کر سکے۔ آج اسی تھڑے پر سستا رہا تھا، ہوا ایسے چل رہی تھی جیسے اس کی چنری میں کوئی پیغام ہو۔ پہلے بچے کی باری اپنی نیک پروین بھی ایسے ہی چلا کرتی تھی، ذرا تھم تھم کے بدلتے موسموں کی نوید اور سندیسہ جس کے وجود میں پلنے لگے، کیا وہ ایسے ہی تھم تھم کے چلتا ہے، کیکر کی چھال بھی بارشوں میں بھیگ بھیگ کے سنوری سنوری لگ رہی تھی، خاص کر پیلے پیلے پھولوں کے بور سے کیکر پہ کھل کے جوبن آیا تھا۔ ساون کی ٹھہری ہوا پھولوں سے اٹھکیلیاں کرتی تو وہ نئی نویلی ووہٹی کی طرح ہوا کو ساجن مان کے ماپوں کو چھوڑ کر، شاخ سے ٹوٹ کے، اس کے ساتھ ہی ہو لیتیں۔

ابھی پیلے بور کو انگلیوں سے چھو رہا تھا کہ اتنے میں ایک سوٹڈ بوٹڈ بابو تانگے سے اترا اور قریب آیا،
کہنے لگا آپ کون ہو؟
میں نے کہا میں ایک زمانہ تھا۔ جب میں تھا ہی نہیں، پھر ایک وقت تھا جب میں اپنے ابا کی مٹی بھری انگلی پکڑ کے چلتا تھا، پھر ابا مٹی تلے جا سویا، اور اب میں اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کے چلتا ہوں، پھر میں بھی مٹی تلے جا سوؤں گا۔ اس لیے مجھے کیا معلوم؟ مجھے اس کیکر کا پتہ ہے، اس کے تھڑے کا پتہ ہے، اس پہ یہ چھال کا مصلہ ہے، جس پہ لوگ آتے ہیں، سستاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
آپ کون ہو؟
بابو بولا، میں محکمہ مردم شماری والا ہوں۔
مطلب اس کی بات میری سمجھ سے باہر تھی اور میری بات اس کی سمجھ سے باہر، میں چاہتا تھا کہ اگر وہ گاؤں کے لوگوں کی گنتی کرنا چاہتا ہے تو وہ پہلا نمبر کچے تھڑے اور پیلے بور والے کیکر کا لکھے۔ وہ یہاں رکا نہیں، جلدی جلدی گاؤں کی طرف جانے والی سڑک کو ہو لیا۔

اسی رات میں نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا، شہر سے کچھ لوگ آئے، انھوں نے سڑک ماپی، وہ اسے چوڑا اور پکا کرنے آئے تھے جس کے لیے انھوں نے تھڑا توڑ ڈالا، اور میرے دوست کیکر کو جڑوں سمیت وہاں سے اکھیڑا اور دوسرے کنارے جا لگایا۔ انہیں کیا معلوم، پچھلے قتل کے بعد اس گاؤں کا پنچھی بھی شاہانہ کے ڈیرے پہ پر نہیں مار سکتا۔ اس صبح جب جاگا تو دل بہت اداس تھا، لیکن سب کچھ حسب معمول تھا، ہوا اسی طرح پیلا بور اڑائے تھم تھم کر چل رہی تھی۔
کیکر سلامت، تھڑا قائم اور میری کھڑاواں تیز اور تیز۔

ٹیگز

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.