ہاں! ہم شدت پسند ہیں - عالم خان

جب سے سوشل میڈیا پر عاطف میاں کی تقرری کا ایشو اٹھا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کی دفاعی پوزیشن اور دلائل کا رویہ تو قابل شرم وافسوس تھا ہی کہ رہی سہی کسر وزير اطلاعات فواد چودھری نے پوری کر دی اور ان لوگوں کو شدت پسند (extremists) قرار دیا جن میں تھوڑی بہت اسلامی غیرت ہے، اور عاطف میاں کی تقرری پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ليكن وزيرموصوف جان لیں کہ!
• جو رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے ہیں، اور اس ضمن میں موجود پاکستانی قانون کو کالا قانون کہتے ہیں۔
• جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ رکھنے والوں کو کافر اور یہود سے بدتر سمجھتے ہیں (انوار خلافت ص ٩٣)
• جن کے عقیدے میں مسلمان ان کے دشمن ہیں اور کافر ان سے ہزار گنا بہتر ہے۔ ( شہادۃ القرآن ص ۳)
• جن کے عقیدہ کا جزو لاینفک بریطانیہ سے وفاداری ہے۔ (تبلیغ الرسالہ ج١ ص١٢٣)
• جن کا پیشوا اپنے ہم وطن بھائیوں سے غداری کرتا تھا اور بقول اس کے برطانوی سامراج کے خلاف اواز نہ اٹھانے کے لیے (٢٠) سال لکھتا رہا۔ ( تریاق قلوب ص ٣٠٧)
• جن کے خلاف مصور پاکستان علامہ اقبال بولتے اور لکھتے رہے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے ( اقبال اور احمدیت ص ٥٩)
• جن کو علامہ اقبال اسلام کی اجتماعی زندگی کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ (اسلام اور احمدیت ص ٥،١٤)
• جو روز اوّل سے اپنی الگ ریاست قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں (علامہ اقبال اور فتنہ قادیانیت ص ٦٣٩)

اگر ان کے خلاف بولنا شدت پسندی ہے، تو کان كھول كر سن لو کہ ہم شدت پسند (Extremists ) ہیں رہیں گے، اور ہمیں اس شدت پسندی پر فخر ہے۔

ہاں!
جو لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ عاطف میاں تو ماہر اقتصادیات ہے اور پاکستانی شہری ہے اور یہ اس کا بنیادی حق ہے تو ان سے کوئی پوچھے زرا کہ پاکستان کے ادنی سے اعلی ملازم کی تعیناتی میں آئین پاکستان سے وفاداری شرط ہے، کیا عاطف میاں آئین کى ان شقوں کا وفادار ہے، جس کے مطابق قادیانی کافر ہے اور گستاخ رسول (ص) کی سزا قتل ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   لاک ڈائون اور کرفیو بدستور نافذ، ڈھیل جھوٹ ہے - عبدالرافع رسول

ہرگز نہیں!
کیونکہ میاں عاطف کے لیکچرز اور ٹویٹر پر بیانات کا تعاقب اگر کیا جائے تو موصوف وہ نام نہاد پاکستانی ایکٹویسٹ ہے، جو پاکستانی آئین سے ختم نبوت ﷺ ترمیم ختم کرنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں اور اس کام میں وہ قادیانیوں کے خلیفہ مرزا مسرور احمد کے مشیر ہیں۔

آپ عالمی سطح پر آئین پاکستان کے خلاف لیکچرز دیتے ہیں، اور قادیانیوں کے اقلیت قرار دیے جانے کے موضوع پر پاکستان کے خلاف امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر یورپی ممالک میں تھینک ٹینک کی حثیت سے تقریر کرتے رہے ہیں۔

آپ خود بتائیں کہ ایک ایسا شخص جو آئین پاکستان کو ہی تسلیم نہیں کرتا کیا، اسے اتنے اہم منصب پر فائز ہونے کا حق ہے؟
یہ وہی ماہر اقتصادیات ہے جس کے مطابق جوہری طاقت بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی ہے، اور موصوف كا خيال ہے کہ اگر پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو کشمیر کاز کو بھلانا ہوگا، اور ہاں! موصوف فوج کو ملکی معیشت پر بوجھ بھى سمجھتا یے۔

فواد چودھری صاحب!
آپ لوگوں کے نزدیک عاطف میاں ماہر اقتصاديات ہے، لیکن مصور پاکستان علامہ اقبال اور ہمارے نزدیک غدار اسلام اور غدار ملک ہے ، ہم ا سکے خلاف بولتے اور لکھتے رہیں گے اور آپ دفاع میں بولتے اور لکھتے رہیں۔

لیکن یاد رکھنا!
اگر اس نازک مسئلہ پر آپ لوگوں کا یہ رویہ اسی طرح جاری رہا تو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ سے آپ لوگوں کی شکایت کریں گے۔

سنو!
چند دن پہلے ختم نبوت پر تو بہت سیاست کی، لیکن قیامت کے دن کس منہ سے رسول اللہﷺ کا سامنا کرو گے، کیا کہو گے کہ نئے پاکستان میں اسلام اور عقیدہ ختم نبوتﷺ کا ہم نے کیا حشر کیا تھا۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے اور اسلام و ملک دونوں کی غدار ہے
    تحریر: احسن رضا

    قادیانیت کا دین اسلام سے کوئ تعلق نہیں:
    قادیانی اسلام کے اس بنیادی عقیدے کے منکر ہیں جس پر دین اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے یعنی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ قادیان (بھارت) کے دجال کذاب و ملعون شخص مرزا غلام احمد قادیانی (1908-1835) نے اپنی نام نہاد جھوٹی انگریز کاشتہ خود ساختہ نبوت کا اعلان کیا جسے قادیانی اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں اور پوری دنیا کو دھوکہ دہی سے یہ کفریہ عقیدہ اصل اسلام بتا کر تسلیم کروانے کیلیے ناپاک کوششوں میں لگے ہوۓ ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور جو شخص مرزا غلام قادیانی کو نبی نہیں مانتا اسے کافر اور کنجریوں کی اولاد کہتے ہیں۔ یہ دنیا کے عجیب و غریب اور بدترین کافر ہیں جو ایک جھوٹے کذاب اور ملعون شخص مرزا غلام قادیانی کو نبی مان کر بھی اپنے آپ کو زبردستی مسلمان کہلواتے ہیں۔

    پاکستان میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی:
    مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام سے پہلے اور بالخصوص قیام کے بعد تحفظ ختم نبوت کی ایک طویل جدو جہد ہوئ جس میں مسلمانوں نے ظلم و ستم سہے حتی کہ شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر کار پاکستان کے پارلیمنٹ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان 1974 میں سیر حاصل اور تفصیلی مباحثہ ہوا جس کی Proceedings کو انٹر نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھا جاسکتا ہے۔ دوسری آئینی ترمیم میں قادیانیوں کے کفر کیوجہ سے آئین پاکستان میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ 1984 میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت تعزیرات پاکستان کی شق 298B, 298C میں قانونی طور پر اسلامی اصطلاحات اور شعار (بلا واسطہ یا بالواسطہ قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلمان کہنے، قادیانیت کو اسلام کہنے، قادیانیت کی اسلام کے نام پر تبلیغ کرنے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے، لوگوں کو جمع کرنے کے اپنے طریقے کو اذان کہنے، مرزا غلام قادیانی سے منسلک لوگوں کیلیے صحابہ، خلفاۓ راشدین، امیر المومنین، خلیفتہ المسلمین، ام المومنین اور اہل بیت جیسے الفاظ) کا استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کی صورت میں مجرمانہ سزاؤں کا تعین کیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی شق 295 سی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی کسی بھی صورت میں کسی بھی قسم کی توہین کرنے والے گستاخ رسول کی سزا موت مقرر کی گئ۔ قادیانیت کے بارے اس قانون سازی کو پاکستان سپریم کورٹ، فیڈرل شرعی کورٹ، اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر ملکی قانون ساز اداروں نے بھی Endorse کیا۔ آئین و قوانین میں غیر مسلم اقلیتوں کی طرح بطور غیر مسلم اقلیت ان کے حقوق بھی متعین کر دئیے گئے۔

    قادیانیوں کی پاکستان کے آئین و قوانین سے غداری:
    1974 میں دوسری آئینی ترمیم سے لیکر 1984 میں امتناع قادیانیت آرڈیننس تک اور جب سے لےکر آج تک قادیانیت مسلسل پاکستان کے آئین و قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ علماۓ اسلام ہر فورم پر پہلے دن سے ان کی سازشوں اور ریشہ دورانیوں اور غداریوں سے صاحب اقتدار اور مسلمان عوام الناس کو باخبر کر رہے ہیں۔ تاہم قادیانی پاکستان کے آئین و قوانین کو سرے سے مانتے ہی نہیں ہیں بلکہ کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہیں اور آئین پاکستان کو ختم کرنے کے در پر ہیں۔ پاکستان کی دوسری آئینی ترمیم جس کے تحت انہیں کافر قرار دیا گیا تھا اس کا انکار کرتے ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی شق 298 کی قانونی طور پر دھجیاں اڑاتے ہیں جس کے تحت یہ مسلمان نہیں کہلوا سکتے، اسلامی اصطلاحات اور شعار کا استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ 295 سی کو ختم کرنے کےدر پر ہیں جس کے تحت گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ قادیانیت کے مرکزی رہنما آئین حتی کہ پاکستان کو توڑنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔

    قادیانیت دیگر غیر مسلم اقلیتوں سے مختلف:
    قادیانی دیگر غیر مسلم اقلیتوں سے مختلف اور بدترین ہیں کیونکہ یہ ختم نبوت کا انکار کر کے بھی اپنے اوپر اسلام کا ٹیگ لگاتے ہیں، اپنے آپ کو زبردستی مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی قادیانی شناخت کو چھپا تے ہیں حتی کہ مسلمانوں والے حقوق مانگتے ہیں۔ اس کی بلا تشبیہ مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئ ملعون شخص دھوکے سے حرم شریف میں شراب پر آب زم زم کا ٹیگ لگا کر بیچے اور منع کرنے اور قانونی چارہ جوئ پر جھگڑا کرے، مظلوم بنے اور اسے زبردستی شراب کو آب زم زم ہی کہے۔ جبکہ پاکستان میں کوئ دوسری غیر مسلم اقلیت مثلا ہندو، سکھ اور عیسائ وغیرہ ایسی نہیں ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے یا ظاہر کرتی ہے۔ وہ جو کرتے ہیں اپنی شناخت کو ظاہر کر کے ہی کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین و قوانین کی دھجیاں نہیں اڑاتے۔ اسلیے ملک میں ان سے ایسی کوئ نزاعی صورتحال بھی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ حتی کہ وہ بڑی پوسٹس پر بھی تعینات رہے ہیں مثلا چیف جسٹس پاکستان رانا بھگوان داس، PCB کوچز، دانش کنیریا اور کئی دیگر شخصیات وغیرہ۔

    قادیانیت اور پاکستان کے مفادات کا تصادم (Conflict of Interests)
    1. پاکستان کا سرکاری دین اسلام ہے۔ دین اسلام میں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور جو اس عقیدہ کا منکر ہے وہ کافر ہے۔ جبکہ دین قادیانیت میں کذاب غلام قادیانی نبی ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر حتی کہ کنجریوں کی اولاد ہے۔ قادیانی کسی شعبہ یا عہدہ میں ہو وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ اسی کفریہ عقیدہ کو منوانے کیلیے ہر لمحہ کوشاں ہے۔
    2. مسلمانان پاکستان 1973 کے آئین کو ملکی آئین تسلیم کرتے ہیں۔ جبکہ قادیانی آئین پاکستان کو سرے سے مانتے ہی نہیں بلکہ نہ ماننے کا بر ملا اعلان کرتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ حقوق بھی طلب کرتے ہیں اور وہ بھی مسلمانوں والے۔ جبکہ اصول یہ ہے کہ کوئ بھی شہری جو ملک کے آئین و قوانین کا سرے سے انکار کرتا ہو بلکہ دیدہ دلیری سے علی الاعلان ان کی دھجیاں اڑاتا ہو وہ اس ملک کے بڑے عہدہ پر تو درکنار چھوٹے عہدہ پر بھی فائز نہیں ہو سکتا۔ تمام دنیا میں اسے غدار، مجرم اور مستحق سزا کہا جاتاہے۔
    3. ملک کے اندرونی معاملات پر اگر تاریخی طور پر روشنی ڈالی جاۓ تو یہ تصادم اور غداری وہاں بھی نظر آتی ہے۔ مثلا پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان جو قادیانی تھا نے باؤنڈری کمیشن کر ذریعے مشرقی پنجاب کا علاقہ گرداسپور بھارت کے حوالے کروا دیا جہاں سے بھارت کو کشمیر میں دخل اندازی کا موقع مل گیا۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد کو ملک کے اقتصادی کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بنایا گیا مگر ان کے بارے میں مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کے رکن مولوی فرید احمد مرحوم اور دیگر ذمہ دار حضرات نے کھلم کھلا یہ کہا کہ وہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے خلیج بڑھانے کا باعث بنااور پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دینے کے مکروہ عمل میں ایم ایم احمد کا خاصا کردار رہا ہے۔ پھر ایک قادیانی سفارتکار مسٹر منصور احمد کا یہ کردار بھی پیش نظر رہے کہ جب جنیوا انسانی حقوق کمیشن میں حکومت پاکستان کے خلاف قادیانیوں نے اپنے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالہ سے درخواست دائر کی تو جنیوا میں پاکستان کا سفیر ہونے کے ناطے سے مسٹر منصور احمد حکومت پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر قادیانی ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے نمائندہ کے طور پر پیش ہوئے اور قادیانیوں کی درخواست کے حق میں فیصلہ دلوادیا۔ قادیانیوں نے پاکستان کے ایٹمی پرگرام کی مخبری کی حتی کہ یہ پاکستان کے آئین اور ملک کو توڑنے کے نظریات رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایسی تعیناتیاں قادیانیت پر قانون سازی سے پہلے کی ہیں تاہم در پردہ آج بھی یہ غداریاں جاری رکھے ہوۓ ہیں۔
    4. قادیانی مشنری ہیں اور ہر حال میں یہودیت کی طرز پر طاقت کا حصول چاہتے ہیں جس میں اکثریت اکثریت کے باوجود بھی اقلیت کی غلام بن جاتی ہے یعنی سسٹم پر قبضہ۔ یہ نظریاتی طور پر ملک کو کمزور کر کے اندرونی کیساتھ ساتھ بیرونی سازشوں اور عالم کفر سے ساز باز کر کے ہمارے اسلامی ملک اور سسٹم پر قابض ہونا چاہتے ہیں جیسا یہودیوں نے کفر کی سپورٹ سے فلسطین کے سسٹم پر قبضہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں ربوہ، چنیوٹ اور سرگودھا میں مہنگے داموں اپنی آباد کاری کیلیے زمینیں خرید رہے ہیں۔ اسرائیل جس کیساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں وہاں انکی فوج کا حصہ بن رہے ہیں اور تل ابیب میں اپنا مرکز چلا رہے ہیں۔ یہودیت کے ہالو کاسٹ واقعہ کی طرز پر پوری دنیا میں مظلومیت کا راگ الاپ رہے ہیں۔
    5. یہ ایک تباہ کن وائرس ہے جو پورے اسلامک سسٹم کو کرپٹ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی عوام ملک کو قائم رکھنے کیلیے کوشاں ہیں اور قادیانیت پاکستان کے آئین، قوانین کا انکار کرتے ہیں اور پس پردہ سسٹم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اسلئے سب سے زیادہ موذی اور ناسور ہیں۔اسی لئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ قادیانیت یہو دیت کا چربہ ہے۔ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔

    مقتدر اداروں کی ذمہ داریاں:
    پاکستان کی حکومتوں، مقتدر اور قانون ساز اداروں کو چاہیے کہ وسیع تر ملکی مفاد میں دور اندیشی سے کام لیں۔ معاملات کی حساسیت و نزاکت کو سمجھیں اور عوام کے اتحاد اور یکجہتی کو مد نظر رکھیں۔ ملک سے وفاداروں اور غداروں کی حقیقی معنوں میں پہچان کریں۔ ملکی سالمیت کیلیے خطرہ بننے والے ایسے آستین کے سانپوں سے کوسوں دور رہیں۔ غداروں اور پشت سے وار کرنے والوں کی نحوست سے ملکی اداروں کو بچائیں۔ ان کے مذموم عقائد، نظریات اور سازشوں اور آئینی غداری پر نظر رکھیں۔ ان پر آئین و قوانین کا اطلاق کریں۔ موجودہ تناظر میں عاطف میاں جیسے دین قادیانیت کے سرگرم مبلغ و فعال اور مشنری رکن کی بجاۓ مخلص وفادار، محب وطن اور غداری سے محفوظ ماہرین سے مشورہ کیا جاۓ۔ اس سے اسلام اور پاکستان بھی محفوظ رہیں گے اور حکومتی ساکھ بھی برقرار رہے گی۔

    تاریخ اسلام کے فیصلہ جات:
    آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایمانی روحانی اور تاریخی فیصلوں پر اختتام کروں گا۔

    امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حساب کتاب کا ماہر درکار تھا۔ ایک نصرانی (عیسائ) کو پیش کیا گیا، آپ نے اسے لانے والے کو ڈانٹا اور فرمایا: اس سے بہتر تھا کہ ہم خود ہی حساب کرلیں، ایسا شخص درکار تھا جو ہماری امانت میں شریک ہو، مگر تم اسے لاۓ جس کا دین میرے دین کا مخالف ہے، کیا تمہیں کوئ مسلمان حساب دان نہیں ملا۔
    (حوالہ: السنن الکبری، حدیث 20911, ریاض النضرہ 362/1)

    حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ (جو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بصرہ کے گورنر تھے) کا کاتب نصرانی (عیسائ) تھا، حضرت امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: نصرانی سے کیا واسطہ؟ تم نے یہ آیت نہیں سنی
    " یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ (اے ایمان والو یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا)"
    انہوں نے عرض کیا: اس کا دین اس کے ساتھ، مجھے تو اس کی کتابت سے غرض ہے۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ اللہ نے انہیں ذلیل کیا تم انہیں عزت نہ دو، اللہ نے انہیں دور کیا تم انہیں قریب نہ کرو، حضرت ابو موسیٰ نے کہا کہ بغیر اس کے حکومت بصرہ کا کام چلانا دشوار ہے اسلیے بمجبوری اسے رکھا ہے کہ اس قابلیت کا دوسرا آدمی مسلمانوں میں نہیں ملتا، اس پر حضرت امیر المومنین نے فرمایا: نصرانی مر گیا! والسلام یعنی فرض کرو کہ وہ مر گیا اس کے بعد جو انتظام کرو گے وہی اب کرو اور اس سے ہر گز کام نہ لو یہ آخری بات ہے۔
    (حوالہ: تفسیر خازن، تفسیر خزائن العرفان ما تحت آیت 51 سورۃ المائدہ)

    لبیک یا رسول اللہ۔۔۔
    تاجدار ختم نبوت زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد