نوائے وقت میں قادیانیت کا اشتہار، معاملہ سنگین ہے - حافظ یوسف سراج

قادیانی آئینِ پاکستان کے تحت غیر مسلم ہیں۔ یہ مسلمانوں کی ٹرمز استعمال نہ کرنے کے قانونا پابند ہیں۔ قادیانیوں نے آج کے نوائے وقت ایمن آباد ڈاک ایڈیشن میں ایک اشتہار دیا ہے۔ اس اشتہار میں انھوں نے اپنے فوجی مقتولین کو شہید قرار دیا ہے۔ یہ اشتہار ایک بڑے منصوبے کا معمولی سا حصہ ہے اور اس اشتہار کو انتہائی باریک بینی سے اور سوچی سمجھی چالاکی سے ترتیب دے کر سامنے لایا گیا ہے۔ نوائے وقت فون پر یہ موقف دے رہا ہے کہ ان سے غلطی ہوگئی، کل وہ معذرت نامہ چھاپ دے گا۔ حالانکہ ایک اخبار ایسی خطرناک اور حساس غلطی کبھی نہیں ہو سکتی۔ آج تک نہیں ہوئی۔ ایسی غلطی آئندہ بھی کبھی نہیں ہوگی۔

کچھ دوست یہ لکھ رہے ہیں کہ آج مجید نظامی مر گئے۔ وہ یہ بھول رہے کہ اگر مجید نظامی کی لے پالک بیٹی محترمہ رمیزہ نظامی اس میں شامل ہیں تو یہ ان پر یہ محنت آج نہیں ہوئی، یہ کام ان کے باہر پڑھنے کے دوران ہو چکا ہوگا۔ اگر مجید نظامی کی زندگی میں عارف نظامی جیسے حق دار کا حق مار کے بیرونی میزائل کو جگہ دی گئی، چلیے دی گئی مگر نقب لگانے والی ہستی میں کیا نقب لگی ، یہ اگر وہ نہیں جان سکے تو سر آپ آج مان جائیے کہ وہ آج نہیں تبھی مر گئے تھے۔

اگلا سوال یہ کہ کیا یہ اتفاق ہے کہ اس اشتہار کے لیے نوائے وقت کا انتخاب کیا گیا؟ میرا خیال ایسا نہیں۔ اس اخبار کی شناخت ایک نظریاتی اخبار کی ہے۔ اس کی اپنی ایک کریڈیبلٹی ہے۔ اسے پڑھنے والے وہی ہیں، جو مرزائیت کے بارے سب سے زیادہ سخت ہو سکتے ہیں۔ انھی کو چھیڑنا، انھی کا ردِ عمل جاننا اصل مقصد ہو سکتا ہے۔ پھر آپ سوچیے اگر یہی اشتہار جنگ نے چھاپا ہوتا تو اب تک ردِ عمل کہیں زیادہ شدید ہوگیا ہوتا۔ اس کی سیکولر پالیسی صاف عیاں ہے، یہ اشتہار مگر نوائے وقت میں دیا گیا تاکہ لوگ نوائے وقت کی نظریاتی ساکھ کام آئے اور لوگ آسانی سے معاملہ نظر انداز کر سکیں۔ آپ اندازہ کیجیے، اس قدر شدید اور حساس مسئلہ پاکستان میں اس سے پہلے جس کی نظیر نہیں ملتی، نوائے وقت فرماتا ہے، کل معذرت چھاپ دیں گے اور قوم مطمئن ہے۔

اشتہار میں چالاکی یہ دکھائی گئی ہے کہ لفظ شہید استعمال کیا گیا، اسلام آباد سے معتبر کالم نگار برادرم آصف محمود صاحب فرماتے ہیں کہ شہید کا لفظ ان اصطلاحات میں شامل نہیں جنھیں استعمال کرنے سے آئین قادیانیوں کو منع کرتا ہے، دوسرے انھوں نے اپنے ان مقتولین کی فہرست چھاپی ہے، جو قادیانیوں کے متعلق آئین بننے سے پہلے کی ہے، لہذا آپ فوج سے نہیں پوچھ سکتے کہ انھوں نے اپنے قادیانی ہونے کا سرٹیفکیٹ جمع کروایا یا نہیں۔ یعنی یہ اس قدر سوچا سمجھا اشتہار ہے۔ اس سلسلے کی فوری تسلی بخش بات یہ کہ اس اشتہار کے ساتھ ہی خادم رضوی صاحب کا اشتہار بھی چھپا ہے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.