عالم میں انتخاب - آصف محمود

ستمبر جب بھی آتا ہے ایم ایم عالم کی یاد اس کے ساتھ ہوتی ہے.

وہ صبح آج بھی ساری کسک کے ساتھ یاد ہے جب خبر ملی ایم ایم عالم آخری پرواز پر روانہ ہو گئے، اور دل لہو سے بھر گیا۔

بھارت کے تیسرے درجے کے گویوں کے وفات پر خصوصی نشریات چلانے والا ہمارا میڈیا اس ہیرو پر ڈھنگ کی خبر تک نہ چلا سکا۔ سیاسیات پر پھدکنے والے کسی اینکر کو توفیق نہ ہوئی کہ ایک آدھ پروگرام ہی اس قومی ہیرو پر نشر کر دیتا۔ بے شرمی کا مقابلہ ہو تو ہمارا میڈیا یہ معرکہ بلامقابلہ ہی جیت جائے۔ اس کارپوریٹ شتر بےمہار میڈیا کے ہاتھوں یرغمال سماج کیا جانے ایم ایم عالم کون تھا۔ اپنے ٹاک شو میں، میں نے صف اول کی جماعت کے ایک مرکزی عہدیدار سے پوچھا : آپ ایم ایم عالم کی وفات پر کیا کہیں گے؟۔ پہلے تو وہ صاحب ٹکر ٹکر میرا منہ دیکھتے رہے، پھر کہا : یہ ایم ایم عالم کون تھا؟۔۔ مجھے اقبال یاد آ گئے: ”شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آ خر“۔

میرا معاملہ لیکن الگ ہے، میں نے سرگودھا کے ایک گاؤں میں آنکھ کھولی، مجھے کیوں معلوم نہ ہو کہ میرے سرگودھا کو شاہینوں کا شہر کیوں کہا جاتا ہے۔ عالم تو میری پہلی محبتوں میں سے تھے، اولین محبتیں کسے بھولتی ہیں۔ ایم ایم عالم نہ ہوتا تو سرگودھا کو شاہینوں کا شہر کون کہتا؟

کئی برس ہوتے ہیں، یہ سات ستمبر کی سہ پہر تھی، یوم فضائیہ، پتا چلا ایم ایم عالم سرگودھا تشریف لا رہے ہیں۔ لڑکپن کے دن تھے، اور جس آدمی کا ذکر ہم نے بڑوں سے ٹیپو سلطان جیسوں کے ساتھ سنا تھا، اس کو دیکھنا، یہ تصور ہی ایسا تھا کہ جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ رات کروٹوں میں ہی بیت گئی، نانا جان نے ایک بار پھر عشاء کے بعد عالم کی داستان سنانا شروع کر دی، لیکن میں وہ داستان نہیں سن رہا تھا، مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ تو مجھے یاد ہو چکی تھی، اب تو صرف یہ اشتیاق تھا کہ عالم کو ملنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جامعہ ملیہ سے "جامعی" تک کا سفر -حبیب الرحمن

کئی گھنٹے پہلے ہی میں شربت چوک پہنچ چکا تھا۔ ایک طویل انتظار، اشتیاق، بےتابی، محبتیں۔ ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ جلسہ شروع ہوا، خلق خدا امڈ امڈ آئی تھی، کیسے نہ آتی، ایم ایم عالم مہمان ہو اور پھر سرگودھا میں۔ عالم کے عشاق اس روز جوق در جوق آئے۔ لوگ تقاریر کرتے رہے مگر مجھے کچھ یاد نہیں کہ کس نے کیا کہا۔ میری نگاہیں تو سٹیج پر بیٹھے اپنے ہیرو پر یوں گڑی تھیں کہ ادھر ادھر کا ہوش نہ تھا۔ ایک طویل انتظار کے بعد سٹیج سیکرٹری نے اپنے قومی ہیرو کو دعوت خطاب دی اور مجمع پر سناٹا طاری ہو گیا۔ ایسا سناٹا پھر نہیں دیکھا۔ پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں۔

ایک شرمیلا سا آدمی سٹیج پر آیا ”میں ایک سپاہی ہوں، مجھے تقریر کرنا نہیں آتی، آپ نے بلایا میں حاضر ہوگیا، میں آپ کی محبتوں کا مقروض ہوں، آپ کا بہت بہت شکریہ“۔ تقریر ختم ہو چکی تھی۔ ایک سچا سپاہی واپس اپنی نشست پر بیٹھ چکا تھا۔ میرے پاس ایک بزرگ کھڑے تھے، میری طرح انہیں بھی سمجھ نہ آئی کہ یہ ہو کیا گیا ہے۔ اتنی جلدی بھی بھلا کوئی تقریر ختم کرتا ہے۔ میں نے حیرت اور دکھ سے اپنے کزن سے سوال کیا ”یہ کیا بات ہوئی“۔ اس بزرگ نے اپنے پگڑی اتارتے ہوئے مجھے کہا ”پتر عالم دی تقریر وی عالم دے حملے آر ای اےہہ“ ( بیٹا عالم کی تقریر بھی عالم کے حملے کی طرح مختصر تھی)۔

بابا جی ٹھیک کہتے تھے، واقعی ایسا ہی تھا۔ ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں صرف بیس سیکنڈ میں بھارت کے چھ طیارے مار گرائے تھے اور میرے شہر سرگودھا کی یوں حفاظت کی تھی کہ اس کے بعد ڈیڑھ ہفتہ جنگ جاری رہی مگر بھارت سرگودھا پر حملے کی جرات نہ کر سکا۔

جب میں نے’ بزنس پلس‘ پر ٹاک شو شروع کیا تو لاہور کے ایک ائیر مارشل جن کا مجھے نام یاد نہیں آرہا، ان سے کہہ کر میں نے بڑی مشکل سے ایم ایم عالم کا فون نمبر لے کر ان سے رابطہ کیا۔ میں نے بہت کوشش کی مگر ایم ایم عالم نے مجھے انٹرویو نہ دیا۔ میں نے سارے دلائل دے کر دیکھ لیے لیکن ان کا جواب بڑا مختصر تھا۔ میں سپاہی تھا، میں نے فرض ادا کیا، تشہیر کی ضرورت نہیں۔ بس دعا کریں اللہ میری کوشش قبول فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:   بنگلہ دیش کی پاکستان کے ساتھ پیاز ڈپلومیسی

ایک سچا آدمی ایسا ہی ہوتا ہے۔ دنیا کو پاؤں کی ٹھوکر میں رکھنے والا۔

میرا ہیرو اپنی آخری اڑان بھر چکا۔ مستنصر تارڑ نے ٹھیک ہی لکھا تھا: آخری ہیرو، عالم میں انتخاب۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.