عاطف میاں کا تقرر، چند سوالات کا جواب - محمد عامر خاکوانی

عاطف میاں والا معاملہ تو شاید ختم ہونے کو ہے، کہا جا رہا ہے کہ ان کو اب اکنامک ایڈوائزری کونسل میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اگر یہ مسئلہ ختم ہوجائے ، تب بھی اس بحث کے دوران جو سوالات پیدا ہوئے، وہ اپنی جگہ اہم اور relevent رہیں گے کہ یہ واحد یا آخری موقع نہیں، ہر کچھ عرصے بعد ایسا ایشو پیدا ہوتا ہے، ہوتا رہے گا۔ کوشش کی ہے کہ ان سوالات کو سادہ، غیر جذباتی، مذہبی حوالوں سے ہٹ کر منطقی انداز میں دیکھا جائے تاکہ جو لوگ مذہبی تعبیر سے فاصلہ کرتے ہیں، انہیں بھی بات سمجھ آ جائے۔ یہ سوال میں نے خود نہیں گھڑے، بلکہ اسی بحث کے دوران کمنٹس میں پوچھے گئے یا بعض دوستوں نے فون پر گفتگو میں کیے۔

سوال : عاطف میاں کا تقرر تو کینسل ہو رہا ہے، مگر کیا پاکستان میں کبھی کوئی قادیانی کسی اہم عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا اور کیا یہ ظلم نہیں؟
جواب: سچ تو یہ ہے کہ جب تک قادیانی جماعت، ان کے امیر (خلیفہ)، مرکزی قیادت پاکستانی ریاست کے حوالے سے اپنا طرزعمل، موقف تبدیل نہیں کر لے گی، تب تک ان کے حوالے سے کسی نہ کسی سطح پر شکوک برقرار رہیں گے۔ روزمرہ کے کام کاج، کاروبار، نجی ملازمتوں اور عام روٹین کی سرکاری ملازمتوں میں تو ان کے لیے گنجائش موجود ہے، جیسا کہ آج کل چل رہا ہے، وہ اپنے معاملات چلاتے رہیں گے۔ تاہم ایسے کار سرکار جن کا تعلق اہم فیصلوں، نیشنل سکیورٹی افئیرز یعنی ریاست کے وجود، سالمیت وغیرہ سے ہے، وہاں پر کسی قادیانی کا تقرر سکیورٹی رسک رہے گا۔

رہی ظلم والی بات تو وہ اس لحاظ سے نہیں کہ سب کام ریاست کے بھی نہیں، کچھ چیزیں قادیانی جماعت کو بھی کرنا ہوں گے۔ جب تک وہ آئین سے وفادار، اسے تسلیم نہیں کریں گے، تب تک آئین میں موجود حقوق کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

ایک آپشن کسی قادیانی فردیا افراد کے لیے یہ بھی ہے کہ اگر قادیانی جماعت کا امیر اپنا موقف تبدیل نہیں کرتا تو یہ لوگ مرکزی نظم سے بغاوت کر کے اس پر تین حرف بھیجیں اور آئین کو تسلیم کرکے بطور غیر مسلم رہنا شروع کر دیں۔ اپنا ووٹ درج کرائیں، الیکشن میں حصہ لیں اور اقلیتی نشستوں سے منتخب ہوجائیں۔ کچھ ہی عرصے میں چیزیں بہتر ہونے لگیں گی، ممکن ہے زیادہ سخت گیر مؤقف والے پھر بھی انہیں تسلیم نہ کریں، لیکن معتدل طبقات ان کے اس مؤقف کو سراہیں گے اور دوسری غیر مسلم اقلیتیوں کی طرح انہیں بھی ٹریٹ کیا جانے لگے گا۔ ایسی مگر کوئی مثال ہم نے کبھی نہیں دیکھی، ایک صاحب بشیرالدین خالد تھے، ہر بار پنجاب اسمبلی سے بطور قادیانی ممبر منتخب ہوتے، انھیں قادیانی جماعت کے امیر نے جماعت احمدیہ سے خارج کر رکھا تھا، وہ غریب اکیلے، تنہا تھے، مگر رکن اسمبلی بہرحال بن جاتے، ان کے مر جانے کے بعد کسی نے انتخاب لڑا ہی نہیں۔

سوال : ہم نے اپنے آس پاس کئی قادیانیوں کو دیکھا، انہیں بھی دوسروں کی طرح محب وطن پایا۔ کیا ہمیں ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے؟
جواب : میں کسی کو محب وطن یا غیر محب وطن نہیں کہہ رہا۔ سادہ بات ہے کہ ان سب کا اپنی جماعت کے امیر پر غیر معمولی انحصار ہے، ان کی دنیا اور دین کا دارومدار اس شخص پر ہے، جس کا نام مرزا مسرور ہے، وہ برطانیہ میں مقیم اور پاکستانی ریاست کے حوالے سے سخت معاندانہ، زہریلا مؤقف رکھتا ہے۔ پاکستانی ریاست، پارلیمنٹ، آئین اور ہمارے بیشتر نیشنل سکیورٹی ایشوز کا وہ مخالف اور سخت ناپسند کرتا ہے۔ اس وجہ سے ہر اس قادیانی کے لیے شکوک پیدا ہوجاتے ہیں، جو اندھوں کی طرح اس کی تقلید کر رہا ہے۔ دوسرا یہ اس قادیانی کے لیے بھی ٹھیک نہیں، وہ اس حساسیت کی وجہ سے بہت زیادہ vulnerable ہوجائے گا اور بیلنس فیصلے، مشورے نہیں دے سکے گا۔ خود کو محب وطن ثابت کرنے کے چکر میں وہ ممکن ہے کچھ زیادہ جارحانہ، یا زیادہ دفاعی مشورے یا تجاویز دے یا فیصلے کر بیٹھے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایسے عہدوں پر ان کے تقرر سے گریز کیا جائے۔

سوال : عاطف میاں کو اکنامک ایڈوائزی کونسل میں شامل کیا گیا ہے، اس پر خواہ مخواہ اعتراضا ت کیے گئے ہیں، جن کا کوئی جواز نہیں ۔ ٹیکنو کریٹ کا عقیدے سے کیا تعلق؟
جواب: میں نے اپنی کل والی تفصیلی پوسٹ میں اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ وہ ایک عام قادیانی نہیں، خدام احمدیہ کا حصہ اور باقاعدہ ایکٹوسٹ ہے۔ قادیانی امیر کا وہ پرسنل ایڈوائزر ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس کمیٹی یا بورڈ کا سرگرم رکن جو ختم نبوت قانون ختم کرانے کے لیے سرگرم ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ سردست اسے صرف معاشی معاملات کے لیے لایا جا رہا ہے، مگر ایک متنازع شخص کو کسی بھی قسم کی پوسٹ پر کیوں لایا جائے؟ دنیا بھر میں ایک سے ایک بڑھ کر ماہرمعاشیات موجود ہیں۔ پاکستان کسی غیر مسلم گورے کا انتخاب بھی کر سکتا تھا، جو اپنے علم، مہارت، تجربے اور رینکنگ میں عاطف میاں سے اوپر ہو۔

اعتراض عقیدے پر نہیں، ایک مخصوص اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک متنازع ایکٹوسٹ پر اعتراض ہے۔ کسی بھی غیر مسلم یعنی سکھ، ہندو، عیسائی، پارسی ماہر معاشیات کو اس ایڈوائزی کونسل میں شامل کر لیا جائے، میں یقین دلاتا ہوں کہ کوئی شور نہیں مچے گا۔ عاطف میاں کا مخصوص بیک گراؤنڈ اور تناظر ہے جس سے اعتراضات پیدا ہوئے۔

سوال : ایڈوائزری کونسل میں عاطف میاں کے علاوہ دس گیارہ دیگر اراکین بھی ہوں گے، وہاں ایک ان کی رائے سے کیا ہوگا؟
جواب: یہ درست ہے کہ اکنامک ایڈوائزی کونسل میں صرف ایک رکن شاید کچھ زیادہ اثر نہ ڈال سکے ، مگر اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا تو یہ کہ عمران خان نے اگلے کچھ عرصے میں اہم معاشی فیصلے کرنے ہیں، کئی فیصلے سخت بھی ہو سکتے ہیں، آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے، ٹیکس نظام میں اصلاحات وغیرہ وغیرہ۔ جب عاطف میاں جیسا متنازع شخص اس ایڈوائزری کونسل کا حصہ ہو تو اس کونسل کی تمام تجاویز مشکوک ہوجائیں گی کہ نجانے کس پر کس حد تک عاطف میاں اثرانداز ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کو کیا ضرورت ہے کہ اپنی حکومت کے شروع کے دنوں میں جب اسے بنیادی نوعیت کے اہم فیصلے کرنے ہیں، وہ اس قسم کے پنگوں میں الجھ جائے اور یکسوئی کھو بیٹھے۔

دوسرا پہلو زیادہ اہم ہے کہ ہمارے ہاں ایک منظم سوچ کے تحت اس طرح کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ سماج میں بعض حوالوں سے غیر معمولی حساسیت اور بیرئیرز موجود ہیں۔ انہیں توڑنے کے لیے پہلے نسبتا کم حساس کام کیا جاتا ہے، ایسا جس سے سرخ لکیر بھی کراس ہو جائے اور زیادہ ہنگامہ بھی نہ ہو۔ جب وہ برداشت کر لیا جائے تو پھر اگلا قدم اٹھایا جاتا ہے، اس کے بعد اگلا اور پھر کچھ ہی عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سب کچھ اعلانیہ نظر آتا ہے، جس کا ہم چند ماہ یا برس پہلے تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ عاطف میاں کی ایڈوائزری کونسل میں شمولیت ایک غلط قدم اور متنازع فیصلہ ہے، مگر ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اس سے کہیں زیادہ متنازع اور غلط اقدامات ابھی پائپ لائن میں ہیں۔ وزارت خارجہ، وزارت قانون، تعلیم وغیرہ اہداف ہوسکتے ہیں۔ اس پہلے ’’حملے‘‘ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جائے تو پھر ان کی باری آئے گی۔ اسی لیے شروع ہی میں زیادہ سخت مزاحمت اور ردعمل دیا جاتا ہے، پنجابی محاورے کے مطابق شروع ہی سے ڈکا دے دیا جائے یعنی راستہ بند کر دیا جائے۔ انگریزی محاورے کے مطابق Nip the Evil in the Bud۔

ایک تیسرا پہلو بھی ہے، ہمارے مذہبی حلقے عموماً اور ختم نبوت کے حوالے سے کام کرنے والے حلقے خاص طور سے بڑے ان سکیور اور محتاط ہیں۔ اپنے تجربات سے انھوں نے یہ سیکھا کہ ہمیشہ مستعد، چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، کسی معمولی اقدام کو غیر اہم نہ سمجھا جائے، یہ آنے والے واقعات کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ ان کے یہ خدشات بلاجواز یا بےوزن نہیں۔ تاریخ نے انھیں درست ثابت کیا ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی حلقے تیز اور شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ عالمی قوتیں اور لابیز بہت طاقتور، جاندار ہیں، میڈیا کو وہ مینیج کر سکتی ہیں۔ انہیں ادراک ہے کہ عالمی سطح پر کوئی لابی یا قوت ان کو سپورٹ نہیں کر سکتی، اندرون ملک بھی ایسے ادارے موجود نہیں جو ان کی مدد کو پہنچیں۔ عوامی احتجاج اور سٹریٹ پاور ہی ان کے پاس واحد قوت اور اثاثہ ہے، ہر بار یہ بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے وہ غیر ضروری خود اعتمادی کا شکار نہیں ہوتے اور ہمیشہ مستعد، ہوشیار رہتے اور دوسروں کو چلا چلا کر کہتے ہیں کہ جاگتے رہنا، ہمارے اوپر نہ رہنا، خود بھی ہاتھ پاؤں مارنا۔ اس احتجاج یا ردعمل کا مضحکہ اڑانے یا بلاسبب طنز کے تیر چلانے والوں کو یہ تمام نفسیاتی وجوہات اور محرکات سمجنے چاہییں۔ تب انھیں مذہبی حلقوں کا موقف زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آ سکے گا اسی طرح مقتدر حلقے بھی اگر ان پر غور کریں تو وہ اہل مذہب کے خطرات اور خدشات کو بہتر انداز سے دور کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

آخری سوال : کیا دنیا میں اس طرح کا عوامی احتجاج ایسی تقرریوں پر ہوتا ہے؟ صرف ہم ہی تماشا لگائے رکھتے ہیں۔
جواب: آج کے انٹرنیٹ کے دور میں ان باتوں کو جاننا، سمجھنا کون سا مشکل ہے، گوگل کریں تو ایسی بے شمار مثالیں مل جائیں گی۔ ہر معاشرے کے کچھ نارمز، روایات، حساس چیزیں ہوتی ہیں، اسلامی تحریکوں والے عرف کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے معاملات جن پر وہ سماج حساس ہے اور ہلکی سی ٹھیس پر احتجاج کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ دنیائے مغرب میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں کسی وزیر کا تقرر ہو یا سرونگ منسٹر کا کوئی بیان فیمنزم یا کسی اور حوالے سے آیا۔ اس پر احتجاج اتنا ہوا کہ اس غریب کو استعفا دینا پڑا۔ حالانکہ اس کے موجودہ کام یا ممکنہ کام کا اس فیمنزم یا متنازع بیان والے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کی سزا مگر اسے ملتی ہے۔ ہالو کاسٹ تو دور کی بات ہے، کوئی منسٹر ہٹلر کے حوالے سے نرم بیان دے دے، کوئی کھلاڑی نازی سلام کر دے تو اس کا کیرئیر ختم ہوجاتا ہے۔ مختلف لبرل قدروں کے خلاف مغرب میں کوئی بیان دے کر دکھا دے، اس کا پبلک کیرئیر ختم ہوجاتا ہے ۔ صرف سیاسی عقائد کی بات نہیں بلکہ مذہبی عقائد کے حوالے سے بھی ایسا ہی ردعمل آتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے تمام ممالک میں اہم، حساس عہدوں بلکہ اہم اعلیٰ کارپوریٹ عہدوں پر مسلمان نہیں پہنچ سکتے ۔ ان کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں، غیر رسمی، غیر تحریری طور پر وہ ایک خاص حد سے اوپر نہیں جا سکتے۔ سی آئی اے، پینٹاگون، سٹیٹ ہاؤس، ایم آئی سکس اور دیگر تنطیموں میں ایسا ہوتا ہے۔ کہیں کوئی نام نہاد الٹرا لبرل مسلمان قابل قبول ہوجاتا ہے جس کے بارے میں یقین ہو کہ یہ صرف نام کا مسلمان ہے، مگر وہاں بھی بہت سے ممالک سے تعلق مشکل بن جاتا ہے۔ پاکستان، فلسطین، ایران، مڈل ایسٹ کے بعض دیگر ممالک وغیرہ۔ جرمنی میں ترکوں کے حوالے سے بہت سے مسائل چل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سب غیر تحریری، غیر رسمی طور پر کیا جاتا ہے۔ آئینی و قانونی طور پر تو وہ ایسا نہیں کر سکتے، روک نہیں سکتے۔ مگر وہاں اہم عہدوں پر فائز لوگ اتنے بےوقوف نہیں کہ بلا سوچے سمجھے ایسا قدم اٹھا بیٹھیں، جس کے بعد ایسی بحث جنم لے اور پھر ہٹاتے ہوئے تماشا بنے۔ وہ پہلے ہی سمجھداری سے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.