یہی انصاف ترے عہد میں ہے اے شہ حسن - فضل ہادی حسن

ہسپتال وارڈ جو کہ سب جیل قرار دیا گیا تھا سے شراب کی بوتلیں بر آمد کرنے پر جہاں بڑی تعداد میں لوگ چیف المعروف بابا رحمتے کی تعریف کر رہے ہیں وہی کافی سارے لوگ تنقید کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ سمجھ نہیں آرہی ہے ، میں چیف جسٹس صاحب کی تعریف کروں یا مذمت؟ انصاف کی تشریح و تعبیر ڈھونڈوں یا پھرقاضی القضاۃ کی ذمہ داریاں سمجھنے کی کوشش کروں؟

بحیثیت ایک طالب علم میں اس بات کوسمجھنے سے قاصر ہوں کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات اور قومی مسائل کا فوری فیصلہ اور حل نکالنا ضروری ہے یا مقدمات سے تعلق رکھنے والے افراد پر چھاپے مارنا؟
یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ "قومی" مقدمات میں قید افراد کا کڑا احتساب اور "عدالتی" سقم دور کرنا ضروری ہے یا "عدالتی نظام" میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی خبرگیری ؟

آپ اخبار اٹھائیں یا اپنے اردگرد ماحول پر نظر رکھیں، آپ پاکستان کے مختلف شہروں بلکہ دیہاتوں میں شراب کے بارے میں خبریں پائیں گے، کہیں دیسی شراب سے مرنے والوں کی خبریں ہوگی تو کہیں غیرملکی شراب برآمد ہونے کا معاملہ۔ بوتل میں شراب تھی یا شہد اور اب "زیتون"، یقیناً معمہ اور ایشو یہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ اور کسی سانحہ سے کم نہیں ہے کہ جن الزامات کی بنا پر "وزیر" صاحب پابندِ سلاسل ہیں ہماری عدالتیں ان مقدمات کو کیوں اتنا لٹکائے دیتی ہیں؟

افسوس ہوتا ہے کہ جب ملک کے بڑے بڑے مسائل کی بجائے کہیں عتیقہ اوڈھو سے بوتل کی برآمدگی عدالتوں کے لیے سب سے بڑا اور "اہم" مقدمہ بن جاتا ہے تو کبھی شرجیل میمن کے ہاں سے ملنے والی بوتلیں، کئی ارب روپےکرپشن پر حاوی اور بھاری بن جاتی ہیں۔
انصاف فراہم کرنے والوں پر مزید کچھ لکھنے کی بجائے ساحر لدھیانوی کا کلام ہمارے عدالتی نظام کی بہترین عکاسی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال اور ریاست مدینہ! -شیخ خالد زاہد

انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
جرموں کو ٹھیک تولے
ایسا نہ ہو کہ کل کا اتہاس کار بولے
مجرم سے بھی زیادہ
منصف نے ظلم ڈھایا
کیں پیش اس کے آگے غم کی گواہیاں بھی
رکھیں نظر کے آگے دل کی تباہیاں بھی
اس کو یقیں نہ آیا
انصاف کر نہ پایا
اور اپنے اس عمل سے
بد کار مجرموں کے ناپاک حوصلوں کو
کچھ اور بھی بڑھایا
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھاتے
یہ بات یاد رکھے
سب منصفوں سے اوپر
اک اور بھی ہے منصف

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.