حج کے اسباق اور عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 28 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ "حج کے اسباق اور عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت" کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے خاص فضل سے نیکیوں کی بہاریں تسلسل کے ساتھ ہمیں مل رہی ہیں انہیں غنیمت سمجھنا چاہیے، لوگ اسی لیے حج بیت اللہ کیلیے رواں دواں ہیں، حج اسلام کا رکن اور عظیم ترین عبادت ہے، حج سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے،اللہ تعالی عرفہ کے دن سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے، حج کے اجتماع سے اتحاد امت کی عملی شکل سامنے آتی ہے، بقیہ زندگی میں بھی عملی اتحاد کتاب و سنت پر عمل سے ممکن ہے، حج کے اجتماع میں ہر قسم کی تفریق ختم اور صرف مسلمانیت باقی رہ جاتی ہے، حجاج کرام کو ورع، حلم اور حسن سلوک سے مزین ہونا چاہیے، دوران حج نعرہ توحید ہر حاجی کی زبان پر ہر وقت ہوتا ہے، ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے معمور، گناہوں سے دور، اور حسن اخلاق سے مزین ہوتا ہے ؛ گویا کہ یہ حجاج کیلیے بقیہ زندگی گزارنے کی تربیت ہے۔ طواف، سعی، رمی، قربانی اور تکبیرات سب اللہ کا ذکر جاری رکھنے کیلیے ہیں۔ حج مسلمانوں کو اتباع نبوی کا درس دیتا ہے، حج سمیت ہر عبادت نبوی طریقے کے مطابق ہی قبول ہو گی۔ حج میں انسان بالکل ایک غلام کی طرح اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کرنے کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔ حج مسلمانوں میں موجود فطری الفت اور مانوسیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جم غفیر امت کی شان پوری دنیا کے سامنے عیاں کرتا ہے، حج انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ حج کا ہر لمحہ یاد الہی میں گزرتا ہے اس طرح ہر گھڑی انسان کو اللہ کے قریب کر جاتی ہے۔ اصلاح اور تزکیہ نفس حج کا ثمر ہے، جنت اور رضائے الہی اسی کو ملے گی جو اخلاص، علم و بصیرت اور حلال مال کے ساتھ حج کرے گا۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ عشرہ ذوالحجہ دنیا کے افضل ترین ایام ہیں، ان میں صدقہ خیرات، یوم عرفہ سمیت دیگر نفل روزوں اور عبادات کا کثرت سے اہتمام کرنا چاہیے، عید کے دن قربانی افضل ترین عمل ہے، اگر کوئی قربانی کرنا چاہتا ہے تو یکم ذوالحجہ سے قربانی کرنے تک بال، ناخن یا اپنی جلد نہ کٹوائے، پھر آخر میں جامع دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈرو، اور خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان سمجھو۔

مسلمانو!

خیر و بھلائی کی بہاریں لوگوں پر یکے بعد دیگرے آ رہی ہیں ، یہ خالص اللہ کا کرم اور فضل ہے۔ ابھی عبادت کی ایک بہار گزرتی ہے تو ساتھ ہی دوسری عبادت کی بہار آ جاتی ہے، اسی لیے حجاج کے یہ قافلے بیت اللہ کی جانب رواں دواں ہیں، تمام حجاج سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صدا پر لبیک کہہ رہے ہیں، آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی کا حکم ہوا تھا کہ: {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ} اور لوگوں میں حج کی صدا لگا دے لوگ تیرے پاس پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔ [الحج: 27]

بیت اللہ کا یہ سفر فرض بھی ہے اور باعث قرب بھی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (لوگو! تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے، اس لیے حج کرو) مسلم

حج عظیم عبادت اور اسلام کا رکن ہے، حج اللہ تعالی کے ہاں عظیم اور محبوب ترین عبادت ہے، چنانچہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ: "کون سا عمل افضل ترین ہے؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ پر ایمان لانا) سائل نے پھر پوچھا: "اس کے بعد؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (جہاد فی سبیل اللہ)سائل نے پھر پوچھا: "اس کے بعد؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (حج مبرور) متفق علیہ

حج کے ذریعے گناہوں اور خطاؤں کی میل کچیل دھل جاتی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (حج سابقہ گناہوں کو منہدم کر دیتا ہے) مسلم

حج کرنے والے حج کی وجہ سے پاک صاف ہو جاتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص حج کرتے ہوئے بیہودگی اور فسق و فجور نہ کرے تو وہ ایسے واپس لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا) متفق علیہ

حجاج کے ذریعے اللہ تعالی اہل سماوات پر فخر فرماتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالی یوم عرفہ سے بڑھ کر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو، بیشک اللہ تعالی اس دن میں قریب آتا ہے اور پھر ان حجاج کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ کیا چاہتے ہیں؟) مسلم

اخلاص کے ساتھ حج کرنے والے کی جزا جنت ہی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہی ہے) متفق علیہ

حج مسلمانوں کا عظیم ترین اجتماع ہے، یہ اجتماع مسلمانوں کے حال کو ماضی سے منسلک کر دیتا ہے، تا کہ لوگ ایک امت بن دکھائیں، اور اپنے دین پر مضبوطی سے کار بند رہیں۔ اور اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں اور سلف صالحین کے منہج پر چلیں۔ حج میں شہریت، زبان اور رنگ و نسل کی تفریق ختم ہو جاتی ہے اور برتری کیلیے ایک ہی معیار باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے تقوی، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} بیشک اللہ کے ہاں تم میں سے معزز تر وہ ہے جو متقی ترین ہے۔[الحجرات: 13]

اور حج کی ادائیگی کیلیے بہترین زاد راہ بھی تقوی ہی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ} اور زادہ راہ لے لو، بیشک بہترین زاد راہ تقوی ہے، اور مجھ سے ڈرو اے عقل والو۔[البقرة: 197]

بیت اللہ کے مسافر کیلیے اتنی پارسائی اپنانا ضروری ہے جو اسے گناہ سے روک دے، اتنا حلم ساتھ لے جو اسے غصہ کرنے سے ٹوک دے، اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک سے رہے۔

ارکان حج کی ادائیگی کے دوران عظیم ترین عبادات وحدانیت الہی کا اظہار اور اللہ کیلیے اخلاص ہیں ؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} حج اور عمرہ خالص اللہ کیلیے مکمل کرو۔[البقرة: 196]

دوران حج اللہ تعالی کی وحدانیت کا اعلان حجاج کا نعرہ ہوتا ہے، اور یہی نعرہ ان کیلیے شرف کا باعث بھی ہے: "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ "

اگر کوئی اس یقین کے ساتھ حج کرتا ہے کہ اس نے ایک روز پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے تو وہ وحدانیت الہی پر گامزن رہے اور مرتے دم تک صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} پس جو تم میں سے اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنی رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔[الكهف: 110]

تکبیرات اور اللہ تعالی کے تعظیمی کلمات؛ طواف، سعی، رمی اور قربانی بلکہ دن ہو یا رات ہر وقت حجاج کے رفیق سفر ہوتے ہیں؛ تا کہ دوران حج دلوں کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ استوار رہے اور درمیان میں کچھ اور حائل نہ ہو۔

حج رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اقتدا کا سبق دیتا ہے؛ اس لیے حج کا کوئی بھی رکن بلکہ کوئی بھی عبادت تبھی قبول ہو گی جب رسول اللہ ﷺ کے عمل کے مطابق ہو، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (تم مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو؛ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ اس حج کے بعد میں پھر حج کر پاؤں گا یا نہیں) مسلم

رسول اللہ ﷺ کی اتباع سچے ایمان اور سچی محبت کی علامت ہے، فرمان باری تعالی ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے لیے تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، اور اللہ تعالی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔[آل عمران: 31]

کوئی بھی عبادت رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے متصادم ہو تو اللہ تعالی اسے قبول نہیں فرمائے گا، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (جو کوئی ایسا عمل کرے جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے) مسلم

حج کے عظیم مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر ہو، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "بیت اللہ کا طواف ،صفا مروہ کی سعی ، اور جمرات کو کنکریاں مارنا اللہ کا ذکر کرنے کیلیے ہیں"؛ اس لیے حجاج کہیں قیام کریں یا کوچ، نیچے اتریں یا بلندی پر چڑھیں اللہ کا ذکر ان کے ہمراہ ہوتا ہے، بلکہ حج کے مناسک مکمل ہونے تک رفاقت نبھاتا ہے، اسی کے متعلق فرمان باری تعالی ہے: {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا} پس جب تم اپنے مناسک پورے کر لو تو اللہ کا ذکر ایسے کرو جیسے تم اپنے آبا کا کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ ذکر الہی کرو۔[البقرة: 200] نیز افضل ترین حجاج وہی ہوتے ہیں جو اللہ کا کثرت سے ذکر کریں۔

حج خود ایک عبادت ہے اور دیگر عبادات بھی حج کے ہمراہ ہوتی ہیں، یہ سب عبادات بھلائی، عبرتوں اور نشانیوں سے لبریز ہیں، حج میں اخلاص ہے، حج کے دوران انسان اپنے آپ کو غلام کی طرح اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حج کی بنیاد اللہ کے لیے کامل ذلت اور خضوع پر قائم ہے، اسی لیے اسے "نسک" سے موسوم کیا گیا ہے"

حج میں مسلمان ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں جس سے ان کے باہمی تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں، اس طرح تمام لوگوں کیلیے اسلام کی عظمت اور فضیلت عیاں ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ} ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اللہ نے ہی ڈالی ہے، زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارے کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈالی ہے ۔[الأنفال: 63]

حجاج کرام کے ایک ہی جگہ پر جمع ہونے سے اس بات کا اعلان اور یاد دہانی ہوتی ہے کہ یہ امت کتنی فضیلت والی ہے اور اس کا مقام کتنا بلند ہے، حجاج کا خوب سیرت پہلو یہ ہے کہ اپنا اعلی اخلاق سامنے لائیں تو وہ درجات کی بلندیوں پر پہنچ جائیں گے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} جو شخص ان ایام میں حج لازم کر لے وہ شہوانی عمل، گناہ اور لڑائی جھگڑے نہ کرے۔ [البقرة: 197]

حج کے دوران نفس کو صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "ہم جہاد کو سب سے افضل ترین عمل سمجھتے ہیں، تو ہم جہاد نہ کریں؟" اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں، تمہارے لیے افضل جہاد؛ حج مبرور ہے ) بخاری

مسلمان کو اپنے دین پر فخر ہونا چاہیے اور جاہلیت والے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھے، حج کے دوران اس بات پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "شریعت میں مشرکوں کی مخالفت مسلمہ حقیقت ہے، اور مناسک میں تو مزید ضروری ہے۔"

زندگی کی ہر گھڑی اگر بندے کو اللہ کے قریب نہ کرے تو اسے دور ضرور کر دیتی ہے، لوگ اللہ کے قرب کیلیے سر توڑ کوشش کرتے ہیں، حج کے دوران انسان کو اس چیز کا واضح طور پر ادراک ہو جاتا ہے کہ اگر حج کا ایک رکن پورا ہو تو دوسرے میں مگن ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (7) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ} جیسے ہی فراغت ملے تو عبادت میں مشغول ہو جا [7] اور اپنے رب کی جانب ہی رغبت کر۔[الشرح: 7، 8] در حقیقت انسان کی ساری زندگی اسی نہج پر ہونی چاہیے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} اور اپنے رب کی بندگی کر یہاں تک کہ تجھے یقین [یعنی موت] آ جائے۔ [الحجر: 99]

اطاعت گزاری سے انسان اپنے رب کا مزید محتاج بن جاتا ہے اور بارگاہ الہی میں دلگداز رہتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کوتاہیوں کے باوجود بھی اللہ کا اپنے اوپر فضل دیکھتا ہے اور پھر اللہ سے بخشش بھی مانگتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} پھر واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس ہوتے ہیں اور اللہ سے گناہوں کی بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔[البقرة: 199]

حج کے دوران جو اپنے آپ کو ممنوعہ کاموں سے روکتا ہے تو اسے ہر وقت اور ہر جگہ گناہوں سے رک جانا چاہیے۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

اصلاح نفس اور تزکیہ نفس حج کا ثمر ہے، رضائے الہی کا حصول اور جنت میں داخلہ اس کے اہداف میں شامل ہیں، یہ اہداف وہی شخص پا سکے گا جو خالص نیت کے ساتھ حج کرے، علم و بصیرت کی روشنی میں؛ پاک اور حلال مال سے حج کرے، دوران حج اپنے دل و زبان کو ذکر الہی سے تازہ رکھے، عبادت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے کام بھی آئے۔

حج کی ادائیگی میں بھر پور حسن کارکردگی دکھانے والا اور منفی چیزوں سے بچنے والا شخص بہتر سے بہترین حالت میں واپس جائے گا، اس کا نتیجہ نہایت عمدہ ہو گا۔

 قبولیت کی علامت یہ ہے کہ انسان نیکی کے بعد پھر نیکی کرے، اور نیکی کر کے خود پسندی میں ملوث نہ ہو۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے، اور جس نے کفر کیا تو بیشک اللہ تمام جہانوں سے بہت مستغنی ہے۔ [آل عمران: 97]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

چند راتوں یا دنوں کی فضیلت اس بات کی متقاضی ہے کہ انہیں نیکیاں کرنے کیلیے غنیمت سمجھا جائے، ہم عنقریب ہی ایسے ایام میں داخل ہو جائیں گے جو اللہ تعالی کے ہاں افضل ترین ایام ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دنیا کے افضل ترین دن عشرہ ذوالحجہ کے دن ہیں) ابن حبان

اللہ تعالی نے ان دس دنوں کی راتوں کی قسم اٹھائی اور فرمایا: {وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ} قسم ہے فجر کی اور [ذوالحجہ کی ابتدائی]دس راتوں کی ۔[الفجر: 1، 2]

اللہ کے ہاں ان ایام میں کیا ہوا نیک عمل دیگر ایام میں کئے ہوئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں کیا ہوا نیک عمل اللہ کے ہاں ان دس دنوں میں کئے ہوئے نیک عمل سے زیادہ محبوب ہو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، ماسوائے اس شخص کے جو اپنا مال اور جان لیکر نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ آیا) ابو داود، یہ حدیث بنیادی طور پر صحیح بخاری میں بھی ہے۔

تو ان دنوں میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرو، اور قرآن کریم کی تلاوت کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ} اور ان معلوم دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ۔[الحج: 28]

اس عشرے میں ابتدائی نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے، اس عشرے میں یوم عرفہ کا روزہ غیر حجاج کیلیے مختص ہے اور اس دن کے روزے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سابقہ اور آئندہ ایک ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کریں، والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں، صلہ رحمی، صدقہ خیرات، اور کثرت سے نفل عبادات بجا لائیں۔

سعادت مند وہی ہے جو وقت گزرنے سے پہلے نیکیوں کی بہاروں سے فائدہ اٹھا لے، ان ایام میں نیک کام کرنے کیلیے خوب تگ و دو کرے اور آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لے، یہ زندگی متقی لوگوں کیلیے غنیمت ہے اور کامیاب وہی ہے جسے محسنین میں شمار کر لیا گیا۔

عید کے دن اور ایام تشریق میں قربانی کرنا بھی عظیم عمل ہے، چنانچہ جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے بال، ناخن یا جلد کا کوئی حصہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک مت کاٹے ، تاہم جو شخص کسی کی طرف سے قربانی کر رہا ہے، یا جس کی طرف سے کوئی اور قربانی کر رہا ہے تو ان پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے آپ ﷺ کے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! حجاج اور معتمرین کو سلامت رکھنا، یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت فرما، اور انہیں مکمل تحفظ عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سلامت اور اجر و ثواب کے ساتھ اپنے اپنے ملکوں میں واپس لوٹا، یا اللہ! ان کے حج کو حج مبرور بنا دے اور ان کی کاوشوں کو قبول فرما لے، یا شکور! یا غفور!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت کی توفیق عطا فرما، یا ذ الجلال والاکرام!

یا اللہ! جو بھی حجاج کرام کی خدمت کر رہا ہے یا اللہ! انہیں بے پناہ اور ڈھیروں اجر و ثواب سے نواز، ان کے درجات علیین میں بلند فرما، اور ان کی مشکلات آسان فرما دے، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، نیز ہمارے فوجیوں کی قوی اور غالب کر دینے والی نصرت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاء اللہ ۔۔۔ لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لئے ۔۔۔ دین الہٰی کی ترویج میں مصروف ۔۔۔ نہایت عمدہ اور قابلِ ستائش کاوش ہے ۔۔۔

    • حوصلہ افزائی پر بہت بہت شکریہ، اللہ تعالی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے، شاید آپ کا اظہار پسندیدگی اسی کی ابتدائی علامات میں سے ہے۔