ذاتی احتساب کامیابی کا راز - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 21 ذوالقعدہ  1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ذاتی احتساب کامیابی کا راز" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ انسانی فلاح و بہبود کا راز ذاتی احتساب میں پنہاں ہے، متعدد قرآنی آیات ،احادیث اور سلف صالحین کے اقوال زریں کے مطابق اگر کوئی شخص ذاتی احتساب کی عادت ڈال لے تو وہ کامیاب و کامران ہو جاتا ہے؛ کیونکہ احتساب کی وجہ سے مومن کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اعمال کتاب و سنت کی روشنی میں پایہ تکمیل کو پہنچیں، انہوں نے کہا کہ ذاتی احتساب کا بہترین مظہر یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زبان کو لگام دے کر رکھے؛ کیونکہ یہ انسان کو ہلاکت میں ڈال سکتی ہے، اور زبان سے نکلنے والے الفاظ لکھنے کیلیے فرشتے بھی مقرر ہیں جو ہر لفظ کو لکھ رہے ہیں، اسی لیے صحابہ کرام اور سلف صالحین اپنی زبان پر بہت زیادہ کنٹرول کرتے تھے۔ خطیب محترم نے یہ بھی کہا کہ: دل میں آنے والے خیالات کا محاسبہ بھی ضروری ہے؛ کیونکہ کسی بھی گناہ کی اکائی یہی خیالات ہوتے ہیں اگر انہیں ابتدا میں ہی جھٹک دیا جائے تو انسان گناہ سے بچ جاتا ہے بصورت دیگر گناہ میں ملوث ہو جانے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں، قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شیطان بھی سب سے پہلے خیالات پر ہی حملہ آور ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص ایسے شیطانی حملے کے وقت اللہ کو یاد کر لے تو شیطان کے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ زندہ دل شخص وہی ہے جس کو نیکی اچھی لگے اور برائی سے نفرت ہو، نیز دنیاوی فراوانی کو اپنے لیے تکریم نہیں سمجھنا چاہیے؛ کیونکہ فراوانی اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے انسان کو دن رات، ہفتہ وار، اور سالانہ بنیادوں پر اپنا احتساب جاری رکھنا چاہیے، جبکہ مومن کا دل ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، گناہ ہو جائے تو توبہ کر لیتا ہے، اور اگر کوئی مصیبت آن پڑے تو صبر سے کام لیتا ہے اور یہی زندہ دلی کی علامت ہے، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جو لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور گناہوں کو مٹاتا ہے، اسکی رحمت و علم ہر چیز پر حاوی ہے، اپنے فضل سے نیکیاں زیادہ اور نیک لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے، اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، آسمان و زمین میں کوئی بھی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، اللہ تعالی نے ذاتی مدد اور معجزات کے ذریعے انکی تائید فرمائی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ، انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو، اس کیلیے اللہ کے پسندیدہ اعمال کے ذریعے قرب الہی تلاش کرو، غضبِ الہی کا موجب بننے والے اعمال سے دور رہو ، بیشک متقی کامیاب و کامران، اور خواہشات کے پیرو کار نامراد ہوں گے۔

اللہ کے بندو!

ذہن نشین کر لو! انسان کی فلاح و بہبود اپنے نفس کو قابو رکھنے میں ہے، چنانچہ محاسبہ نفس؛ اور ہر قول و فعل پر مشتمل چھوٹے بڑے کام میں اس کی مکمل نگرانی ضروری ہے، لہذا جس شخص نے محاسبہ نفس، اور اپنے قول و فعل پر رضائے الہی کے مطابق مکمل قابو رکھا ، تو وہ بڑی کامیابی پا گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى[40] فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اور نفس کو خواہشات سے روکا [40] تو بیشک جنت ہی اسکا ٹھکانہ ہوگی[النازعات : 40-41]

اسی طرح فرمایا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} اور اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرنے والے کیلیے دو جنتیں ہیں۔[الرحمن : 46]

ایسے فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کیلیے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی تمہارے عملوں کے بارے میں با خبر ہے۔ [الحشر : 18]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ} بیشک متقی لوگوں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ لاحق ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر وہ حقیقت سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ [الأعراف : 201]

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ} اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی [القيامہ : 2] مفسرین کہتے ہیں کہ : اللہ تعالی نے ایسے نفس کی قسم اٹھائی ہے جو واجبات میں کمی اور بعض حرام کاموں کے ارتکاب پر بھی اپنے آپ کو اتنا ملامت کرتا ہے کہ نفس سیدھا ہو جاتا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص اللہ تعالی اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے، یا پھر خاموش رہے) بخاری و مسلم، اور یہ چیز محاسبہ نفس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کر لے، اور موت کے بعد کیلیے تیاری کرے، اور عاجز وہ شخص ہے جو نفسانی خواہشات کے پیچھے لگا رہے اور اللہ سے امید لگا بیٹھے)یہ حدیث حسن ہے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "حساب شروع ہونے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لو، اپنے نفس کا وزن کر لو اس سے پہلے کہ اسکا وزن کیا جائے، اور بڑی پیشی کیلیے تیاری کرو"

میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں: " متقی افراد اپنے نفس کا محاسبہ کنجوس شراکت دار سے بھی زیادہ سخت کرتے ہیں"

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "مومن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی طرح سمجھتا ہے کہ وہ خود پہاڑ کے نیچے ہے اور اندیشہ رکھتا ہے کہ پہاڑ اس پر آ گرے گا، جبکہ فاجر اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح سمجھتا ہے، جو اس کی ناک پر بیٹھے تو ایسے اڑا دے، یعنی: ہاتھ کے اشارے سے" بخاری

مومن شخص محاسبہ نفس اور نگرانی جاری رکھتے ہوئے اچھی حالت پر نفس کو قائم رکھتا ہے، تو وہ اپنے افعال کا محاسبہ کرتے ہوئے عبادات اور اطاعت گزاری کامل؛ ترین شکل میں بجا لاتا ہے، جو اخلاص سے بھر پور جبکہ بدعات، ریاکاری اور خود پسندی سے پاک ہوتی ہیں، اپنے نیک اعمال سے رضائے الہی اور اخروی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔

مومن شخص محاسبہ نفس کرتے ہوئے نیکیاں نبی ﷺ کی سنت کے مطابق کرتا ہے ، اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا عملی تسلسل نہ ٹوٹے، انہی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ} اور جو لوگ ہمارے لئے جہد مسلسل کرتے ہیں، ہم انہیں اپنے راستے کی طرف ضرور رہنمائی کرتے ہیں، اور بیشک اللہ تعالی احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔[العنكبوت : 69]

اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} اور جو شخص جہد مسلسل کرتا ہے بیشک وہ اپنے لئے ہی جد و جہد کرتا ہے، بیشک اللہ تعالی تمام جہانوں سے غنی ہے۔ [العنكبوت : 6]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ[2] أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ } بیشک ہم نے آپکی طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی ہے، چنانچہ صرف ایک اللہ کی اخلاص کیساتھ عبادت کریں، [2] خبردار! خالص عبادت صرف اللہ کیلیے ہی ہے۔[الزمر : 2-3]

اسی طرح فرمایا: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} آپ کہہ دیں: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کریگا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ تعالی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [آل عمران : 31]

سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں: "میں نے اپنی نیت سے زیادہ کسی کا علاج نہیں کیا، کیونکہ یہ پل میں بدل جاتی ہے"

فضل بن زیاد کہتے ہیں: "میں نے عمل میں نیت کے بارے میں امام احمد سے پوچھا: "نیت کیسے ہوتی ہے؟" تو انہوں نے کہا: "عمل کرتے ہوئے اپنا خیال رکھے کہ عمل سے لوگوں کی خوشنودی مراد نہ ہو"

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص نے ریاکاری کیلیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کیلیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا، جس نے ریا کاری کیلیے صدقہ کیا اس نے شرک کیا) احمد، حاکم، اور طبرانی نے معجم الکبیر میں اسے روایت کیا ہے۔

مومن اپنی بول چال کا بھی محاسبہ کرتا ہے، چنانچہ اپنی زبان کو غلط اور حرام گفتگو کیلیے بے لگام نہیں کرتا، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ دو فرشتے اس کی ایک ایک بات کو لکھ رہے ہیں، لہذا اس کے کیے ہوئے ہر عمل پر اسے جزا یا سزا دی جائے گی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ (10) كِرَامًا كَاتِبِينَ (11) يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ } اور بیشک تم پر محافظ مقرر ہیں [10]وہ معزز لکھنے والے ہیں[11] اور جو بھی تم کرتے ہو اسے جانتے ہیں [الانفطار : 10 - 12]

اسی طرح فرمایا: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} جب بھی کوئی لفظ اس کی زبان سے نکلتا ہے اسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود ہوتا ہے [ق : 18]

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "وہ ہر اچھی اور بری بات کو لکھتے ہیں، حتی کہ وہ یہ بھی لکھتے ہیں: میں نے کھا لیا، میں نے پی لیا، میں چلا گیا، میں آگیا، میں نے دیکھا"

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (بیشک آدمی رضائے الہی پر مشتمل ایک کلمہ بولتا ہے، اور اسکی پرواہ نہیں کرتا، اللہ تعالی اس کلمے کے بدلے میں درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بیشک آدمی غضبِ الہی پر مشتمل ایک کلمہ بولتا ہے، اور اسکی پرواہ نہیں کرتا، اللہ تعالی اس کلمے کے بدلے میں اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے) بخاری

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، روئے زمین پر زبان سے زیادہ لمبی قید کا کوئی حقدار نہیں"

اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی زبان پکڑ کر کہا کرتے تھے: "اسی نے مجھے ہلاکت میں ڈالا"

اسی طرح مسلمان پر یہ بھی واجب ہے کہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور دل میں آنے والے شکوک و شبہات کا مقابلہ کرے، اس لئے کہ خیر ہو یا شر انکی ابتدا دل میں آنے والے خیالات سے ہوتی ہے، چنانچہ اگر مسلمان دل میں آنے والے برے خیالات پر قابو پا لے، اور اچھے خیالات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عملی جامہ پہنائے تو وہ فوز و فلاح پاتا ہے، اور اگر شیطانی وسوسوں اور خیالات کو مسترد کرتے ہوئے شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ چاہے تو گناہوں سے سلامت رہ کر نجات پاتا ہے۔

اور اگر شیطانی وسوسوں سے غافل رہے، اور انہیں قبول کر لے تو یہ وسوسے اسے گناہوں میں ملوث کر دیتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} اور اگر شیطان کی طرف سے آپکو کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو، بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔[فصلت : 36]

اور اللہ تعالی نے سورہ "الناس" میں اس واضح دشمن سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "شیطان ابن آدم کے دل پر تسلی سے بیٹھتا ہے، چنانچہ اگر انسان [اللہ کو] بھول جائے، وسوسہ ڈالتا ہے، اور اگر اللہ کو یاد کر لے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے"

اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (شیطان اپنی لگام کو ابن آدم کے دل پر رکھے ہوئے ہے، اگر وہ اللہ کو یاد کر لے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر اللہ کو بھول جائے تو اس کے دل کو اپنی لگام ڈال دیتا ہے، یہی مطلب ہے "وسواس الخناس" کا) مسند ابو یعلی موصلی

چنانچہ گناہوں سے حفاظت کیلیے سب سے پہلے شیطانی وسوسوں سے بچاؤ اور تحفظ یقینی بنایا جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} بے حیائی ظاہری ہو یا باطنی اس کے قریب بھی مت جاؤ، اور اللہ کی طرف سے حرام کردہ جان کو ناحق قتل مت کرو، اسی کی تمہیں اللہ تعالی وصیت کرتا ہے، تا کہ تم عقل کرو۔[الأنعام : 151] مذکورہ گناہوں سے دور رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے ہی ان گناہوں کے ابتدائی اسباب پیدا ہوں تو فوراً محاسبہ نفس کیا جائے۔

چنانچہ جس شخص نے محاسبہ و مجاہدہ نفس کیا تو اس کی نیکیاں زیادہ، اور گناہ کم ہونگے، دنیا سے قابل تعریف انداز میں رخصت ہوگا، اور سعادت مندی کیساتھ اٹھایا جائے گا، اور وہاں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو گا، جنہیں گواہ بنا کر بھیجا گیا۔

اور جس شخص نے خواہش نفس کی پیروی کی ، قرآن سے روگرداں رہا، اور دل نے جو چاہا گناہ کیا، شہوت پرستی میں ڈوبا رہا، اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا، شیطان کو اپنی قیادت سونپی ، تو شیطان اسے ہر بڑے گناہ میں ملوث کر دے گا، اور پھر وہ شیطان کیساتھ درد ناک عذاب میں مبتلا رہے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا} جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اسکے پیچھے مت چلو   کہ وہ خواہش پرست بن چکا ہے، اور اسکا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے[الكهف : 28]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، وہی قرآن کے ذریعے دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور نیکیاں قبول فرما کر گناہوں سے در گزر فرماتا ہے، میں اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں ، اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سربراہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ نے لوگوں کو نیکی کی دعوت دی، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل، اور تمام سر چشمہ ہدایت، اور روشن چراغ صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اپنانے کا حق ہے، یہی تقوی دنیا و آخرت کیلیے ذخیرہ ہے۔

اللہ کے بندو!

زندہ دل وہی ہے جسے نیکی خوش کر دے اور گناہ برا لگے، جبکہ وہ دل مردہ ہے جو گناہ پر بالکل درد محسوس نہ کرے، اور کسی نیکی و اطاعت پر خوشی بھی نہ ہو، اسی طرح گناہوں پر ملنے والی سزاؤں کا احساس تک نہ ہو، چنانچہ ایسے دل کو صحت اور دنیاوی ریل پیل دھوکے میں ڈال دیتی ہے، بلکہ کبھی یہ بھی سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے دنیاوی نعمتیں بطور تکریم نوازی گئی ہیں، انہی کے بارے میں فرمایا: {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ [55] نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ} کیا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کو مال، نرینہ اولاد دے کر انکی بھلائی کا سامان جلدی سے اکٹھا کر رہے ہیں! بلکہ حقیقت کا انہیں شعور ہی نہیں ہے۔[المومنون : 56]

اور ایک حدیث میں ہے کہ: (دلوں کو فتنے ایسے مسلسل در پے ہوتے ہیں کہ جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، چنانچہ جو دل ان فتنوں کو مسترد کر دے تو اس کے دل میں ایک سفید نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور جو دل فتنوں کو اپنے اندر جگہ دے دے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، حتی کہ دلوں کی دو قسمیں بن جاتی ہیں، ایک بالکل صاف ستھرا دل جیسے سخت چٹان ہو، اسے زمین و آسمان کے قائم رہنے تک کوئی فتنہ نقصان نہیں دیتا، اور دوسرا دل سیاہ خاکی مائل الٹے مشکیزے کی طرح ہوتا ہے، جو نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا، اسے من لگی بات ہی سمجھ میں آتی ہے)

اگر انسان اپنا محاسبہ نہ کرے تو دل کی تمام بیماریاں دل کو دائمی مریض یا سرمدی موت سے دوچار کر دیتی ہیں۔

پر عزم اور خیر کا پہلو یہ ہے کہ انسان دن، رات، ہفتہ وار، ماہانہ، اور سالانہ محاسبہ کرے، تا کہ اسے نقصان دہ راستوں کا علم ہو، اور توبہ کر لے، اسی طرح کمی کوتاہی کو پورا کر لے، عین ممکن ہے کہ اس کی یہ کاوش اللہ کے ہاں قابل ستائش ٹھہرے، اور حسن خاتمہ کا موقع مل جائے۔

مومن ہمیشہ زندہ دل اور صاحب بصیرت ہوتا ہے، اگر اسے کچھ مل جائے تو شکر، گناہ کرے تو استغفار، مصیبت آن پڑے تو صبر کرتا ہے۔

مومن کے دل میں ضمیر؛ غفلت سے بیدار ، اور تباہی کی جگہوں سے چوکنا رکھنے کیلیے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ: (رسول اللہ ﷺ نے ایک خط مستقیم کھینچا، اور اس کی دونوں جانب خطوط کھینچے، خط کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے، اور اس سے اوپر ہے واعظ ہے، "خط مستقیم" سے مراد اللہ کا راستہ ہے، اس کے سرے پر "پکارنے والے" سے مراد : کتاب اللہ ہے، اور اس سے اوپر نصیحت کرنے والا واعظ ، ہر مومن کے دل میں موجود نصیحت کرنے والا ضمیر ہے، جبکہ دائیں بائیں خطوط گمراہی ، اور حرام کاموں کے راستے ہیں)

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو [الأحزاب: 56]

اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔ 

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم اور جود و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا رب العالمین!

یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، اور دین دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کو بہترین نتائج کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا، اور ہمیں دنیا  کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیوں ختم فرما دے، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان مقروضوں کے قرضے چکا دے،  یا رب العالمین!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمارے تمام گناہ چاہے ہمارے علم میں ہیں یا نہیں سب کے سب معاف فرما دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا علیم! یا حکیم!

یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کو بہترین نتائج کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا، اور ہمیں دنیا  کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان مرد اور خواتین  کے معاملات سنوار دے، تمام مومن مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ دہشت زدہ مسلمانوں کو امن عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں کو جتنی بھی تکالیف اور مصیبتوں کا سامنا ہے، یا اللہ! اپنی رحمت سے انہیں ختم فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات بہتر فرما دے، یا اللہ! ہمارے دلوں کو تیری اطاعت پر ثابت قدم بنا دے۔

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے ان سب گناہوں کو معاف فرما دے،  تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں  امن و امان عطا فرما اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری مرضی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی ہر اچھے کام کیلیے مدد فرما، یا رب العالمین!  یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں تیری رضا ہو، یا اللہ! ان کی بھی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کے لیے مختص فرما لے، یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ان دونوں کو ہدایت یافتہ اور رہبر بنا دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور مکاری سے حفاظت فرما، یا رب العالمین!  یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور مکاری سے حفاظت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ  اپنی رحمت کے صدقے مسلمانوں کو بدعات سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! جتنے بھی مسلمان فوت شدگان ہیں سب کی مغفرت فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں پرنٹ یا ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.