بعداز تقریر- امجد اسلام امجد

بہت دنوں کے بعد اس بات پر تقریباً پوری قوم یک زبان نظر آئی ہے کہ عمران خان نے انتخابات کے بعد جو پہلی تقریر کی ہے وہ بہت ہی متوازن، عمدہ، بروقت اور امید افزا تھی۔ ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو اسے غالب کے اس شعر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کہ

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
اس بات پر بھی کم و بیش سب متفق ہیں کہ الیکشن کے دن کی حد تک اور پولنگ کے وقت کے دوران سارا پراسس بہت سلیقے اور شفافیت کے ساتھ ہوا اور 53% سے زیادہ لوگوں نے اپنا حق رائے دہی بہت جوش و خروش کے ساتھ ادا کیا۔ یعنی ٹرن آؤٹ کے اعتبار سے بھی یہ مرحلہ بہت کامیاب اور بھر پور رہا لیکن بدقسمتی سے تمام ہارنے والی جماعتیں یہ سب کچھ ہونے کے باوجود نہ صرف پری پول رگنگ کے بیانیے پر قائم ہیں بلکہ الیکشن کے نتائج کو مسترد کرنے پر بھی تلی ہوئی ہیں جب کہ کچھ لوگ حلف نہ اٹھانے، چیف الیکشن کمشنر کے استعفی اور از سرنو الیکشن کرائے کے تقاضے بھی کررہے ہیں جو دلائل اس ضمن میں سامنے آئے ہیں ان میں جزوی صداقت تو ہوسکتی ہے کہ دس کروڑ سے زیادہ ووٹرز اور پچاس ہزار سے زیادہ پولنگ بوتھ پر ایک ہی دن میں اتنی بڑی کارروائی ہونے کے دوران کچھ غلطیاں اور خلاف قانون باتیں بلاشبہ ہوسکتی ہیں کہ ہماری انتظامیہ ہو یا سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد یا عام عوام سب کے سب ہی ابھی جمہوری نظام کے حوالے سے بوجوہ تربیت کی کمی شکار ہیں۔ سو عین ممکن ہے کہ بعض کام سوفیصد ضابطے کے مطابق نہ ہوئے ہوں مگر ان کی بنیاد پر قومی تاریخ کے نسبتاً شفاف ترین انتخابات کو اس طرح سے مسترد کرنا یقینا عوام کے ووٹ کی ایک بہت ہی بڑی توہین ہے۔

تجربہ اور قرائن یہی بتاتے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں معاملات بہتر ہوجائیں گے کہ ہارنے والی دونوں بڑی جماعتوں کے بیشتر نمائندو اور سپورٹرز کو اس حقیقت کا شعور اور احساس ہے کہ گزشتہ دس برس میں ان کی حکومتوں کے دوران عوام کو کچھ نہ کچھ شکایات بہرحال رہی ہیں اور یہ کہ فی الوقت غلط یا صحیح انھوں نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے تبدیل کے نعرے کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ جمہوریت کا حسن ہو یا نہ ہو ایک زندہ حقیقت ضرور ہے۔

جہاں تک معاملہ ہے کچھ چھوٹی پارٹیوں اور بالخصوص ان کی قیادتوں کی ناکامیوں کا تو امید کی جانی چاہیے کہ وہ بھی شخصیات اور جذبات سے اوپر اٹھ کر اس کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور قومی دھارے سے کٹنے کے بجائے اس کے اندر رہ کر اپنی غلطیوں اور تاریخ کی پیدا کردہ تبدیلیوں کو سمجھنے کی طرف مائل ہوں گے کہ وقت اور حالات کے فیصلوں کو صرف بہتر عمل اور دانشمندی سے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اختلاف ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کا مقصد نہ صرف حالات کی اصلاح اور اجتماعی بہتری ہو بلکہ اس کا اظہار بھی وضع اور تسلیم کردہ طریقوں کے مطابق کیا جائے۔

اس وقت وطن عزیز جن مسائل میں گھرا ہوا ہے اور اس کو جو چیلنج درپیش ہیں وہ ہم سب کے سانجھے ہیں۔ گزشتہ دونوں سیاسی حکومتوں نے اپنی صوابدید اور صلاحیت کے مطابق حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور بلاشبہ بہت سے اچھے فیصلے اور کام بھی کیے مگر پی ٹی آئی کی اس کامیابی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے ان کی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں تھی۔ سو انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیلی کے حق میں سنادیا۔ ظاہر ہے یہ بات نہ تو ہارنے والوں کو اچھی لگے گی اور نہ ہی آسانی سے ہضم ہوسکے گی کہ فطری طور پر خود احتسابی ایک بہت مشکل عمل ہے اور اس کے مقابلے میں سازش، دھاندلی یا خلائی مخلوق وغیرہ کی دخل اندازی ٹائپ بیانات نسبتاً آسان اور ڈنگ ٹپاؤ ہوتے ہیں۔

سو عام طور پر ان ہی کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن صحیح اور دیرپا طریقہ یہی ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے حالات کو سمجھنے اور اپنی ناکامی کی وجوہات کو حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ ہر باقاعدہ سیاسی جماعت میں کچھ جہاں دیدہ، تجربہ کار اور دانشورانہ سوچ کے حامل لوگ ضرور ہوتے ہیں جو اپنے نوجوان اور نسبتاً کم تربیت یافتہ اور جذباتی نوعیت کے ارکان کی رہنمائی کرتے ہیں اور انھیں ان غلطیوں سے آگاہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام نے انھیں اولین ترجیح کا درجہ نہیں دیا۔ اقبال نے کہا تھا:

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم

کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب

یہی اصول سیاسی جماعتوں پر بھی لاگو اور کارفرما ہوتا ہے ملک و قوم کی بہتری اسی میں ہے کہ ہر کوئی عوام کے فیصلے کو قبول کرے۔ اگر وہ اس کے حق میں ہے تو ان کی قوقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے اور اگر معاملہ مختلف ہے تو ان غلطیوں سے بچنے کی تدبیر کرے جن کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ ہم سب برابر کے محب وطن ہیں اور سب میں اپنے اپنے اپنے طریقے سے حالات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ عقل مندی اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ طریقوں کے اس فرق اور اختلاف کو اتنی ہوا نہ دی جائے کہ لوگ ایک دوسرے کی نیتوں پر شک کرنے لگیں۔ سو اگر واقعی کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو اسے انصاف کا ہر موقع فراہم کرنا چاہیے کہ یہ اس کا حق ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ’’اختلاف برائے اختلاف‘‘ کی روش سے گریز بھی ضروری ہے کہ اس سے سوائے ہمارے دشمنوں کے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

اب رہی بات عمران خان کی تقریر کی تو عمومی سطح پر اسے بہت متوازن اور خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں اس تقریر کے مندرجات اور صاحب تقریر کے رویے سے جو توقعات وابستہ کی تھیں کم و بیش وہ سب کی سب اس میں موجود تھیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کم از کم قومی سطح کے معاملات میں تمام سیاسی اکابرین، مختلف شعبوں کے پیشہ ور ماہرین اور عام عوام اس تقریر کو عملی تصویر میں بھر پور انداز میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

معیشت کی بحالی، ہمسایوں سے اچھے تعلقات، قومی ترقی میں ہر شعبے کی حصہ داری، سادگی، کرپشن کی بیخ کنی اور ہر سطح پر انصاف کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنا یقینا ایسے اہداف ہیں جن سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوسکتا۔ سو اس رستے پر مل جل کر چلنا ایک قابل تحسین عمل ہی نہیں بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے۔

الیکشن کے جن نتائج سے کسی کو اختلاف ہے اس کے لیے سارے قانونی ریاستوں تک رسائی کی جو یقین دہانی اس تقریر میں کرائی گئی ہے اس پر اعتبار اور عمل کا طریقہ اپنایا جائے تو نہ صرف اس کی صداقت محکم ہوگی بلکہ اگر کوئی کمی ہے تو وہ بھی کھل کر سامنے آجائے گی کہ اب ان لفظوں کی حرمت کی پاسداری ان الفاظ کے ادا کرنے والی کی ذمے داری ہے۔ خدا ہم سب کو اپنے وعدوں اور ارادوں میں استقامت عطا فرمائے۔