نیک حکمران - عبدالقادر حسن

ملکی تاریخ کے شفاف انتخابات کے بارے میں اگر کسی کو شک و شبہ ہو تو یہ مان لیں اس نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا یعنی یا تو ا س نے پولنگ اسٹیشن جا کر ووٹ نہیں ڈالا اور یا پھر وہ انتخابات کے دن پولنگ کے عمل سے دور رہا۔ جس پولنگ اسٹیشن پر میں نے ووٹ دیا وہاں ہر پولنگ بوتھ پر پاک فوج کا ایک جوان تعینات تھا جو کہ اس عمل کو یقینی بنا رہا تھا کہ ووٹ کی پرچی لے کر ووٹر خود اکیلے میںاپنے پسندیدہ امیدوار کے نشان پر مہر ثبت کرے۔ کسی دوسرے کو اس کے ساتھ نشان لگانے کی جگہ پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

میں بذات خود اس عمل کا کافی دیر معائنہ کرتا رہا اور جب میری باری آئی تو یہی عمل دہرایا گیا ۔ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ موجودہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے انتخابات میں ایک ہی پارٹی کو اکثریت ملتی ہے اور وہی حکومت بناتی ہے اگر اکثریت نہ ملے تو اتحادی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنانے کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہونے والے انتخابات میںتوقعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے اور اپنی اتحادی جماعتوں ق لیگ اور عوامی مسلم لیگ کے ساتھ ملک کر وہ سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔

عمران خان کی بائیس سالہ جدو جہد بالآخر ان کو وزیر اعظم کی کرسی تک پہچانے میں کامیاب ہو گئی ایک طویل سیاسی جدو جہد کے بعد نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے عمران خان اب سے کچھ دنوں کے بعد وزیر اعظم ہاؤ س میں موجود ہوں گے ایک نئے وزیر اعظم ہاؤس میں کیونکہ انھوں نے پرانے اور عالیشان وزیر اعظم ہاؤس کو عوام کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے اور ایک چھوٹے گھر میں بیٹھ کر وہ حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اگر چاہیں تو اپنے بنی گالا والے گھر میں ہی رہتے ہوئے وزیر اعظم کی ذمے داریاں سر انجام دے سکتے ہیں کیونکہ کسی وزیراعظم کو بلند وبالا عمارتوں کی نہیں ایک عقلمند ذہن کی ضرورت ہوتی ہے جس کو وہ کہیں بھی بیٹھ کر استعمال کر سکتا ہے اور عمران خان اگر اپنا ذہن بنی گالا میں ہی بیٹھ کر قوم کی ترقی کے لیے استعمال کریں تو یہ پاکستانی قوم پر یہ ان کا ایک اور احسان ہو گا۔ بے شک وہ اپنے گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دے دیں اور موجودہ وزیر اعظم ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دیا جائے لیکن یہ سارا عمل اس خوبصورتی اور بصیرت کے ساتھ کیا جائے جس میں مزید کچھ خرچ کیے بغیر یہ عمل مکمل ہو جائے۔

میں عمران خان کی براہ راست تقریر سننے سے محروم رہا لیکن اخبارات میں اس کے مندرجات پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ ایک ایسے شخص کے خیالات ہیں جو ایک طویل عرصے سے پاکستانی قوم کو جگانے کی کوشش کر رہاتھااور بالآخر اس میں کامیاب ہو گیا ۔قوم نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے پچیس جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں اس کی جھولی ووٹوں سے بھر دی جو کہ پہلے وہ اس کے فلاحی کاموں کے لیے چندوں سے بھرا کرتے تھے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ احتساب کا آغاز ان کی ذات سے ہوگا ۔ انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر کہا کہ وہ کوئی بھی حلقہ یا سارے حلقے کھولنے کو تیار ہیں ۔ انھوں نے اپنی مدبرانہ اور وزیر اعظمانہ تقریر میں اپنے مستقبل کے عزائم واضح کر دیے ہیں ان کے بارے میں جو کھلنڈرے پن کا تصور تھا وہ ان کی تقریر میں کہیں نظر آیا ۔ ان کا جذباتی رویہ تب تک ہی تھا جب تک وہ وزیر اعظم کی کرسی کے قریب نہ پہنچ جائیں اور جیسے ہی وہ وزیر اعظم کی کرسی کے قریب پہنچے انھوں نے اپنا لب ولہجہ بھی اسی طرح کر لیا جو اس منصب کے مطابق ہے۔

عوام کے ٹیکسوں سے عیاشی کرنا ان کے نزدیک جرم اورقانون کی بالادستی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں وہ خرچہ کم کر کے اس بچت کو عوام پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی حریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے بلکہ احتساب کا عمل ان کی ذات سے شروع ہو گا اور اس کے بعد ان کے وزراء کا احتساب ہوگا۔ قانون کی بالادستی اور ساری پالیسیاں کمزور طبقے اور غریب کسانوں کے لیے بنائیں گے۔

ایک دوست نے عمران خان کی تقریر سننے کے بعد فون کیا اور بڑے جذباتی لہجے میں مخاطب ہوا کہ اگر عمران خان اپنی تقریر کے چوتھے حصے پر بھی عمل کر لے تو یہ اس کا قوم پر احسان ہوگا۔ عمران خان ایک منفرد شخصیت کے مالک ہیں اور ان کی ذات کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کیونکہ ان کا سیاسی ماضی اس بات کی اجازت نہیں دیتا لیکن ان کے بارے میں ایک بات پر ان کے دشمن بھی متفق ہیں کہ وہ ایک ایماندار شخص ہیں اور قابل اعتبار ہیں اور اپنے اعتبار کو وہ اس قوم پر ثابت بھی کر چکے ہیں انھوں نے جب بھی اس قوم کو پکارا ہر شخص نے ان کی آوازپر لبیک کہا اور انھوں نے بھی جواب میں قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ قوم نے اپنے حکمران کے طور پر عمران خان کو چن لیا ہے اور یہ چناؤ بڑی چھان پھٹک کے بعد ہوا ہے ۔

عمراں نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی کے بارے میں وضاحت کر دی ہے کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو وہ دو قدم آگے بڑھیں گے ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب تک بھارت اور امریکا کے ارد گرد ہی گھومتی رہی ہے عمران خان امریکا سے بھی متوازن تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ یعنی عمران نے اپنے ہمسائیہ اور سات سمندر پار دوست نما ملک امریکا کو یہ پیغام بھی پہنچا دیا ہے کہ اب تعلقات کی نوعیت برابری کی سطح پر ہو گی۔

عمران خان اس سے پہلے بھی عوامی اجتماعات میں بارہا عوام سے خطاب کر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے قبل ان کا پاکستاانی قوم سے یہ غیر رسمی خطاب تھا جو کہ انھوں نے الیکشن میں کامیابی کا یقین ہونے کے بعد کیا ۔ وہ اس حد تک پر اعتماد تھے کہ جب تک الیکشن کے مکمل نتائج نہ آجائیں وہ قوم سے خطاب نہیں کریں گے شائد وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر عوام کا فیصلہ ان کے خلاف آگیا تو کہیں ان کا خطاب ان کے گلے نہ پڑجائے ۔ یہی وہ بات ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پاکستان کے موجودہ عام انتخابات شفاف تھے اور عمران خان سمیت کسی بھی پارٹی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں کتنی تعداد میں نشستیں حاصل کر پائے گی۔ ان کے خطاب کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اللہ ان کو نیک حکمران بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین