یہ عمران خان کا حق ہے- جاوید چوہدری

پاکستان میں شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے غازی علم دین شہید ؒ کا نام نہ سنا ہو اور ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا عاشق رسولؐ ہو گا جو غازی علم دین شہیدؒ کے مرتبے پر فائز نہ ہونا چاہتا ہو لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں علم دین کو غازی علم دین شہید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے بنایا تھا‘ علم دین لاہورکے عام سے ترکھان تھے‘ لاہور کے ایک گستاخ ہندو مصنف راج پال نے نبی رسالتؐ پر ایک گستاخانہ کتاب لکھی (میں اس گستاخانہ کتاب کا نام لینا بھی گستاخی سمجھتا ہوں)۔

ہندوستان کے مسلمان توے پر پانی کی بوند کی طرح جوش میں تھے‘ یہ گستاخ راج پال کی تکا بوٹی کر دینا چاہتے تھے لیکن وہ انگریز سرکار کی حفاظت میں تھا اور مسلمانوں میں سرکار سے ٹکرانے کی ہمت نہیں تھی چنانچہ یہ ہندوستان بھر میں احتجاج‘ جلوس اور جلسے کر کے اپنے دل کی آگ ٹھنڈی کر نے لگے‘ یکم اپریل1929ء کو درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے احاطے میں مسلمانوں نے جلسے کا اہتمام کر رکھا تھا‘ علم دین اپنے بڑے بھائی کے ساتھ جلسہ سننے گئے‘ عطاء اللہ شاہ بخاریؒنے خطاب کیا۔

علم دین شاہ صاحب کا خطاب سن کرمتاثر ہوگئے‘یہ 6 اپریل کو راج پال کی دکان پر گئے اور اسے قتل کر دیا اور قیامت تک کے لیے غازی علم دین شہید ہو گئے‘ اللہ تعالیٰ نے عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو خطابت کا ملکہ دے رکھا تھا‘ لفظ ان پر اترتے تھے‘وہ منہ سے لفظ اگلتے نہیں تھے وہ انھیں بیج کی طرح سننے والوں کی کشت فہم میں بوتے تھے‘ وہ ہندوستان کے جس بھی شہر میں جاتے تھے لوگ تین وقت کا کھانا باندھ کر ان کے سامنے بیٹھ جاتے تھے اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے شاہ صاحب کی گفتگو سنتے تھے‘ شاہ صاحب جب چاہتے تھے روتوں کو ہنسا دیتے تھے اور جب چاہتے تھے ہنستوں کو رلا دیتے تھے۔

لفظ غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے کھڑے ہوتے تھے اور وہ جس کی طرف اشارہ کردیتے تھے وہ امیر خسرو کی تان کی طرح چھنک پڑتا تھا‘ اردو خطابت کے ماہرین کا خیال ہے اردو میں شاہ صاحب جیسا کوئی مقرر پیدا ہوا اور نہ ہو گا‘ وہ ہندوستان میں تحریک ختم نبوت کے بانیوں میں بھی شامل تھے‘ ہمارے علماء کرام آج بھی ختم نبوت پر تقریر کرتے ہوئے عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے لفظ بولتے ہیں اور داد وصول کرتے ہیں۔

آپ قدرت کا ستم ملاحظہ کیجیے شاہ صاحب سچے اور کھرے مسلمان اور عاشق رسولؐ ہونے کے باوجود قائداعظم اور پاکستان کے مخالف تھے‘ وہ کانگریس اور جواہر لال نہرو کو پسند کرتے تھے‘ وہ متحدہ ہندوستان کے حامی بھی تھے اوروہ پوری زندگی اس کی وکالت بھی کرتے رہے مگر شاہ صاحب کی بھرپور مخالفت اور جوش خطابت کے باوجود پاکستان بن گیا‘ قیام پاکستان کے بعد شاہ صاحب ہندوستان میں رہ سکتے تھے‘ جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی دونوں ان کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے لیکن وہ قیام پاکستان کے بعد ملتان میں رہائش پذیر ہو گئے۔

وہ 21 اگست 1961ء تک حیات رہے لیکن انھوں نے ان 14 برسوں میں منہ سے پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہیں نکالا‘ وہ ہمیشہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے تھے‘ اپنے سننے والوں کو پاکستان کی حفاظت کا مشورہ دیتے تھے اور پاکستان پر اپنی جان قربان کرنے کا عندیہ دیتے تھے‘مرید شاہ صاحب کی اس کایاکلپ پرحیران ہوتے تھے تو وہ ایک مثال دیا کرتے تھے‘ وہ فرمایا کرتے تھے‘ آپ کا بیٹا اگر کسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہے‘ آپ اس شادی کے مخالف ہوں لیکن وہ صاحبزادہ اس مخالفت کے باوجود اس لڑکی کو بیاہ کر لے آئے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے‘ کیا آپ کو اپنی ضد پر قائم رہناچاہیے یا پھرآپ کو اس لڑکی کو اپنی عزت مان لینا چاہیے۔

شاہ صاحب اس کے بعد فرماتے تھے ’’میں پاکستان کا مخالف تھا لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے میری مخالفت کے باوجود پاکستان بنالیا‘ میں اب اس ملک کا شہری ہوں‘ یہ میری عزت ہے اور میں کسی شخص کو اس عزت کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھنے دوں گا‘‘ شاہ صاحب آخری سانس تک اپنی بات پر قائم رہے‘ انھوں نے پوری زندگی اپنے منہ سے پاکستان کے خلاف ایک لفظ نکالا اور نہ کسی دوسرے کونکالنے دیا‘ وہ جب جی ایم سید جیسے قوم پرستوں کے پاکستان مخالف بیان سنتے تھے تو وہ تڑپ اٹھتے تھے۔

یہ بھی زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے‘ آپ اگر کسی چیز کو غلط سمجھتے ہیں تو آپ ڈنکے کی چوٹ پر اس غلط کو غلط کہیں اور اپنی اس رائے میں کسی طاقت‘ کسی رکاوٹ اور کسی الزام کو خاطر میں نہ لائیں لیکن اگر آپ کی مخالفت کے باوجود اکثریت آپ کے خلاف فیصلہ دے دے تو پھر آپ اپنی ضد پر ڈٹے رہنے کے بجائے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرح تبدیلی کو تسلیم کریں اور اس تبدیلی کو اپنا حق استعمال کرنے دیں۔

میں 1996ء سے 2014ء تک عمران خان کافین تھا‘ یہ بھی میرا احترام کرتے تھے‘ میں ان سے سیکڑوں مرتبہ ملا ہوں گا اور ہم نے سیکڑوں مرتبہ ایک دوسرے کی مدد کی ہو گی‘ مجھے ان کی ایک خوبی ہمیشہ حیران کر دیتی تھی‘ یہ ہتھیار نہیں ڈالتے‘ یہ ’’گیو اپ‘‘ نہیں کرتے لیکن پھر 2014ء آیااور میں یہ سمجھنے لگا یہ پاکستانی سیاست کے ’’سپائلر‘‘ ہیں‘ یہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے راستے کے اسپیڈ بریکر ہیں‘ میں یہ بھی سمجھتا تھایہ کبھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔

عمران خان کی دونوں سابق اہلیہ‘ پورا خاندان اور تمام دوست بھی یہی سمجھتے تھے لیکن عمران خان نے ’’گیو اپ‘‘ نہیں کیا‘ یہ دنیا میں واحد شخص تھے جنھیں اپنی کامیابی کا یقین تھا باقی تمام لوگ20 سال گومگو کا شکار رہے لیکن جب 28 جولائی 2017ء کو میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا اور ملک بھر کے ’’الیکٹ ایبلز‘‘ نے بنی گالا کی طرف دوڑنا شروع کر دیا تو مجھے پہلی مرتبہ عمران خان کامیاب ہوتے ہوئے نظر آئے تاہم اس ایک برس کے دوران بھی بے شمار ایسے مواقع آئے جب کپ ان کے ہاتھ سے پھسلتا ہوا دکھائی دیا لیکن میاں نواز شریف کی ضد نے خان کا ساتھ دیا اور کپ واپس ان کے ہاتھ میں آ گیا۔

اس ایک برس میں سب سے نازک مرحلہ 2 جنوری 2018ء تھا‘ شریف برادران نے سعودی عرب میں ولی عہد پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کی‘ پرنس محمد نے شریف برادران اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صلح کی حامی بھر لی‘ میاں نواز شریف نے ان سے وعدہ کیا یہ سائیڈ پر ہو جائیں گے‘ فوج کے خلاف تقریریں اور بیانات نہیں دیں گے اور میاں شہباز شریف کو پارٹی سنبھالنے کا موقع دیں گے‘ پرنس کا کہنا تھا میاں نواز شریف یہ کریں اور یہ اس کے بعد اپنا پورا رسوخ ان کے پلڑے میں ڈال دیں گے لیکن میاں نواز شریف نے پاکستان آتے ہی یہ وعدہ توڑ دیا اور ’’میرے سینے میں بڑے بڑے راز ہیں‘‘ جیسی دھمکیاں دینا شروع کر دیں‘ پرنس محمد بن سلمان بھی ناراض ہو گئے اور یوں عمران خان کو بنا بنایا کیک مل گیا، بہرحال یہ ضمنی باتیں ہیں۔

میں 2014ء کی طرف واپس آتا ہوں‘ میں عمران خان کے دھرنے کے خلاف تھا‘ میں سمجھتا تھا (آج بھی سمجھتا ہوں) عمران خان کا موقف درست ہے لیکن طریقہ کار غلط تھا‘اس سے عمران خان کی سیاست ضرور چمک جائے گی لیکن ملک کا بہت نقصان ہوگا‘ عمران خان کو میرا موقف پسند نہ آیا‘ یہ مائینڈ کر گئے اور یوں میں بنی گالا کی ’’نیگیٹو لسٹ‘‘ میں شامل ہو گیا‘ میں آج تک اور شاید اگلے پانچ دس سال تک اسی فہرست میں رہوں گا لیکن مجھے اس کا کوئی ملال نہیں‘ میں دھرنے کو غلط سمجھتا تھا اور میں آج بھی غلط سمجھتا ہوں‘ عمران خان اس دھرنے کی وجہ سے وزیراعظم بن گئے لیکن ملک کا خستہ حال سسٹم مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ملک میں 2014ء سے 2018ء کے درمیان کتنی تباہی آئی‘یہ اندازہ پاکستان تحریک انصاف کو 11 اگست کے بعد اس وقت ہوگا جب انھیں اپنی وزارتوں کے لیے سیکریٹری‘ آئی جی اور مشاورت کے لیے مشیر نہیں ملیں گے‘ یہ جب فائلیں اٹھا اٹھا کر پھرتے رہیں گے اور کوئی بیورو کریٹ ان فائلوں پردستخط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا‘ یہ جب خود اپنے منہ سے کہیں گے نیب اور انصاف کے موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے ملک نہیں چلایا جا سکتااور یہ جب خود کہیں گے حکومت تو ہے لیکن اختیار نہیں اور یہ سب 2014ء کے دھرنے کا کیا دھرا ہے مگر میرے موقف کے باوجود عمران خان آج کامیاب ہو چکے ہیں‘ یہ وزیراعظم ڈکلیئر ہو چکے ہیں چنانچہ میں ان کی کامیابی کو تسلیم بھی کرتا ہوں اور انھیں مبارکباد بھی پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی دل سے سمجھتا ہوں یہ اب پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے یہ ہم سب کی عزت ہیں اور ہمیں اب ان کی عزت‘ ان کے مینڈیٹ اور ان کے حق اختیار کو تسلیم کرنا چاہیے۔

کل کے حکمرانوں اور موجودہ اپوزیشن کو 2014ء کی غلطی نہیں دہرانی چاہیے‘ آپ چاہے جتنے حلقے کھول لیں‘ آپ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر جتنا چاہے احتجاج کر لیں لیکن سڑکیں سیاسی گندسے پاک رہنی چاہئیں‘ ملک میں اگر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی حکومتوں کو پانچ سال مل سکتے ہیں تو عمران خان کو بھی اپنی مدت پوری کرنی چاہیے‘ عوام نے انھیں ووٹ دیے ہیں اور اپوزیشن کو اس ووٹ کو عزت دینی چاہیے‘ یہ عزت ملک کے لیے ضروری ہے‘ آپ عمران خان کے راستے میں جتنی رکاوٹیں کھڑی کریں گے ملک اتنا کمزور ہو گا چنانچہ آپ ملک کی خاطر صبر کریں‘ آپ انھیں کام کرنے دیں۔

یہ لوگ ہو سکتا ہے ملک میں واقعی وہ تبدیلی لے آئیں جو دونوں سیاسی جماعتیں 35 برسوں میں نہیں لا سکیں اور یہ اگر ناکام ہو گئے تو بیٹنگ خود بخود آپ کے ہاتھ میں آ جائے گی‘ آپ اس کے بعد جتنے چاہے چھکے مار لیجیے گا لیکن آپ کو اس سے پہلے ان کو موقع دینا چاہیے‘ حکومت اب عمران خان کا حق ہے اور آپ نے اگر انھیں یہ حق نہ دیا تو آپ پاکستان کے ساتھ زیادتی کریں گے‘ آپ ووٹ کی عزت پامال کریں گے۔