ایک مرتبہ ہم نے جھینگر پالا۔ ثناءاللہ خان احسن

ھوا یہ کہ وہ شاید زخمی تھا۔ اس کی ٹانگ یا پر میں کچھ مسئلہ ہوگیا تھا۔ کمرے کے کونے میں پڑا ہوا تھا۔
اس سے پہلے ہم نے اکثر اس کی آواز تو سنی تھی لیکن کبھی اس کی موجودگی کا نوٹس نہیں لیا تھا کہ موصوف کمرے میں کس جگہ قیام پذیر ہیں۔ ہم کھانا کھارہے تھے ۔ جھینگر ہمیشہ انسان کے قریب آنے سے گھبراتے ہیں لیکن شاید کھانے کی خوشبو سے بے تاب ہو کر وہ دھیرے دھیرے رینگتا پھدکتا میز کی طرف بڑھا۔ ہم نے اپنی فطری چل کے تحت روٹی کے انتہائ باریک بریڈ کرمبز جیسے ذرے اس کے آگے ڈال دئیے۔ لو جی وہ تو آہستہ آہستہبڑے مزے سے کھا گیا۔ اب ہم کو بھی بڑا لطف آیا کہ ایک جھینگر بھی کتے بلی کی طرح بی ھیو کرسکتا ہے۔ دو تین ذرات مزید ڈالے جنہیں کھا کر وہ مٹکتا ڈولتا واپس کونے میں گھس گیا۔ اب یہ روزانہ کا معمول ہوگیا کہ دونوں وقت کھانے کے ٹائم وہ کھانے کی خوشبو سونگھ کر ڈائننگ ٹیبل کا رخ کرتا۔ عجیب کتا جھینگر تھا۔ ہم اس کو روٹی کے ذرات ڈالتے جنہیں وہ کھا لیتا۔ اور پھر واپس کونے میں جا کر بیٹھ جاتا۔ مغرب کا وقت ہوتے ہی اس کی جھائیں جھائیں شروع ہوجاتی۔ یہ بھی کیسی کمال کی بات ہے کی جھینگر کی ایک ٹانگ پر میوزیکل انسٹرومنٹ جیسے باریک باریک اسوراخ جیسے گڑھے ایک لائن سے ہوتے ہیں جب کہ اس کے مقابل دوسری ٹانگ پر سخت بالوں جیسے باریک ابھار ہوتے ہیں۔ اب جب یہ اس ابھار والی ٹانگ کو دوسری سوراخوں والی ٹانگ پر رگڑتا ہے تو جھائیں جھائیں کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ بالکل ایسے سمجھ لیجئے جیسے کی سارنگی کے گز کو تاروں والے حصے پر رگڑتے ہیں تو آواز پیدا ہوتی ہے۔ آواز کی تعدد کا انحصار فی سیکنڈ رگڑ کھانے والے گزوں کی تعداد پر ہوتا ہے۔‏ آواز کے ارتعاش سے فضا جھینگر کی مخصوص سُریلی آواز سے گونج اُٹھتی ہے۔‏
جھیں جھیں کی اسی آواز کی وجہ سے اس کو جھیں گر یعنی جھینگر کہا جاتا ہے۔ آپ کو اگر کبھی بالکل خاموشی کے ماحول کا اتفاق ہو تو زرا دھیان لگا کر سنئے۔ کبھی بھی مکمل خاموشی نہیں ہوتی بلکہ آپکو اپنے کانوں میں ایک عجیب جھیں جھیں کی آواز آئے گی۔ یہ جھینگر کی آواز ہوت ہے جو جانے کہاں چھپے مستقل اپنی سارنگی بجاتے رہتے ہیں۔
ہمارا پالتو جھینگر شاید ایک ماہ تک تو پابندی سے کھانے کے وقت آتا رہا۔ اس کے بعد غائب ہوگیا۔
اس وقت ہم یہی سمجھتے تھے کہ ہم دنیا میں واحد ہیں جس نے جھینگر پالا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ مشرقی ایشیا میں بعض لوگ نر جھینگروں کی آواز سے متاثر ہو کر اُنہیں پالتے ہیں ۔ اس کیلئے لوگ چھوٹے چھوٹے پنجرے تیار کرتے ہیں اور انتہائی پیار کے ساتھ اس میں جھینگوں کو پالتے ہیں۔۔چین کے بعض علاقوں میں عام سے جھینگر ہزاروں ڈالروں میں فروخت ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جھینگروں کو لڑائی کے لیے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے اور ہر لڑائی پر بڑی رقم کی شرطیں لگائی جاتی ہیں۔ ان میں سے بہترین جھینگر 7600 ڈالر یعنی 7 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
انگریزی میں اس کو cricket کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل فرنچ لفظ criquet ہے جو کہ لفظ criquer سے نکلا ہے جس کا مطلب وہی جھنجھنے جیسی یا مستقل گونجنے والی باریک آواز ہوتا ہے۔
یہ راگ صرف نر جھینگر ہی الاپتا ہے۔ نر جھینگر صرف انسانوں کو خوش کرنے کے لئے آوازیں نہیں نکالتا!‏ اس موسیقار کا اصل سامع متوقع ساتھی ہوتی ہے۔‏ کتاب ایکس‌پلورنگ دی سیکرٹس آف نیچر بیان کرتی ہے:‏ ”‏ساتھی کی تلاش میں،‏ ماہر رابطہ‌دان نر جھینگر،‏ تین مختلف قسم کے سُر الاپتا ہے:‏ پہلا اپنی موجودگی کا اعلان کرنے کیلئے،‏ دوسرا محبت کا اظہار کرنے کے لئے اور تیسرا ناخواستہ جھینگروں کو بھگانے کیلئے۔‏“‏ بعض جھینگر اُس وقت تک اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں جب تک کوئی مادہ جھینگر دلچسپی کا اظہار نہیں کرتی۔‏ اپنی اگلی ٹانگوں پر موجود ”‏کانوں“‏ کی مدد سے سُن کر مادہ جھینگر دُور سے محبت کا اظہار کرنا پسند نہیں کرتی۔‏ جوں جوں وہ آواز کی جانب بڑھتی ہے نر جھینگر محبت کا اظہار کرنے والا سُر الاپتا رہتا ہے۔‏ یہ عشقیہ راگ مادہ کو نر کے پاس لے آتا ہے اور یوں دونوں جھینگر اور جھینگری ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور قرار پاتے ہیں۔
جھینگرکی زندگی:
ماں گھر کے کونوں میں جہاں ہلکی سی نمی ہو،کچرا اور مٹّی ہوانڈے دیتی ہے،جب ان سے بچے نکلتے ہیں تو بالکل ماں باپ جیسے ہوتے ہیں، صرف اُن سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں،مگر نشونما کے معاملے میں دوسرے حشرات جیسے ہوتے ہیں،جھینگرجب بڑا ہوتا جاہے تو اِس کا خَول(ایکزو اِسکے لیٹن )چھوٹا پڑ جاتا ہے اس کا خَول بے جان ہونے کی وجہ سے اِس کے ساتھ بڑھتا نہیں،اس کو اپنے اس خَول کو توڑکر باہر آناہوتا ہے،پھر خالق اس کواس سے بڑا نیا خَول عطا کر تا ہے،اس کوچھے سے بارہ بار ایسا کرنا ہوتا ہے،شکل و صورت میں نِمف بالکل اپنے بڑوں جیسا ہوتا ہے لیکن اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔
اس کے پر ہوتے ہیں مگر یہ بقدرِضرورت اُڑتاہے ،یہ رات کو نکلتا ہے دن میں چھپا ہوتا ہے ،نر مادہ کو بلانے کے لئے اپنے پروں کو رگڑ کر آوازیں نکالتا ہے ۔یہ سبزی خور ہوتا ہے۔
لیکن اس کے علاوہ یہ کپڑا، چمڑا، کاغذ، وغیرہ سب چٹ کرجاتا ہے۔
رات کے سناٹے میں کسی نہر یا جھیل کنارے مینڈکوں کی ٹر ٹر اور جھینگروں کی جھیں جھیں ایک عجیب ہی سماں باندھ دیتی ہے۔ لیکن یہ کیڑا جنگل شہر گائوں پر جگہ بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی کے پیچھے قدرت کا کیا راز سربستہ ہے کوئ نہیں جانتا۔
علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں
چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں ۔‏

ٹیگز