بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دھماکوں پر ملک بھر میں یوم سوگ

اسلام آباد: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خودکش حملوں کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پرآج ملک بھر میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے جب کہ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم بھی سرنگوں ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نگراں وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے شہدا کو خراج عقیدت اور غم زدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے قومی سطح پر آج یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی جس پر عمل کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جب کہ یوم سوگ کے باعث سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

کوئٹہ، مستونگ، سبی، بولان، ڈھاڈر سمیت صوبے کے دوسرے علاقوں میں آ ج فضا انتہائی سوگوار ہے جب کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے سوگ کا اعلان اور انتخابی سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔ سراوان ہاؤس کوئٹہ میں واقعہ پر اظہار افسوس کیلئے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے، کمانڈر سدرن کمانڈ عاصم سلیم باجوہ، آئی جی ایف سی ندیم انجم سمیت کئی اہم شخصیات نے سراوان ہاؤس جاکر نواب اسلم رئیسانی اور نواب زادہ لشکری رئیسانی سے اظہار افسوس کیا۔

مستونگ دھماکے میں شہید ہونے والے پی بی 35 مستونگ سے عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد حلقے میں الیکشن ملتوی کردیےگئے ہیں جب کہ اب پی بی 35 مستونگ میں انتخاب ضمنی الیکشن کے ساتھ ہوگا۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں درینگڑ کے قریب بلوچستان عوامی پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی سراج رئیسانی سمیت 128 افراد شہید جب کہ 150 افراد زخمی ہوگئے، سراج رئیسانی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

اس سے قبل بنوں کے علاقے میں جے یو آئی (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کے قافلے کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے تھے تاہم اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے جب کہ منگل کے روز قبل پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ کے دوران دھماکے میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم رہنما بشیر بلور کے بیٹے اور اے این پی کے ’پی کے 78‘ کے انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت 13 افراد شہید ہوگئے تھے۔