بھلائی کا بدلہ بھلائی اور افغانستان میں امن - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے " بھلائی کا بدلہ بھلائی اور افغانستان میں امن" کے عنوان پر مسجد نبوی میں 29  شوال 1439 کا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اچھائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دینا اسلامی اقدار میں سے ایک عظیم قدر ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ جو بھی خیر خواہی کرے تو اسے کبھی نہیں بھولتا، انبیائے کرام کی زندگی سے بھی احسان مندی کے واقعات ملتے ہیں جیسے کہ نبی ﷺ نے ام المؤمنین خدیجہ بنت خویلد کی خوبیوں کا اعتراف ان کے بعد بھی جاری رکھا، اسی طرح مطعم بن عدی جو کہ حالت کفر میں مرا تھا اس کی خوبیوں کا بھی آپ نے اعتراف فرمایا، سیدنا موسی علیہ السلام اور دو عورتوں کے باپ کا واقعہ جن کی بکریوں کو آپ نے پانی پلایا تھا وہ بھی اسی بات کی دلیل ہے۔ دوسروں کے کام آنے والے شخص کا اسلام نے بہت بلند مقام رکھا ہے اور اس کا مالی یا معنوی شکریہ ادا کرنے کی تاکید بھی کی ہے، اگر ہم اس چیز پر عمل پیرا ہو جائیں تو معاشرتی برائیوں میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے،  رسول اللہ ﷺ نے کسی کے بھلائی کرنے پر بھر پور بدلہ دینے کی ترغیب دی، اگر بدلہ دینے کیلیے کچھ پاس نہ ہو تو اس کی نیکی کے مطابق دعائیں لازمی دیں،  اور اسے جزاک اللہ خیرا کہہ دیں۔ حقائق پر مبنی ستائشی کلمات بھی صلہ اور بدلہ بن سکتے ہیں، قرضہ واپس کرتے ہوئے شکریہ ادا کرنا بھی اچھا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ہستیوں کے احسانات ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں ان ہستیوں میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہیں کہ آپ کی بدولت ہمیں ہدایت ملی، ان کے بعد والدین اور اساتذہ کا درجہ آتا ہے، اس لیے انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے۔ خاوند اور بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کرنے کیلیے خوبیوں کو ذہن میں تازہ رکھیں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے سعودی عرب کے بریدہ شہر  میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ ہم داعشی فتنے کے خاتمے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، اسی طرح انہوں نے خادم حرمین شریفین کے حکم پر اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے منعقد کردہ افغان امن کانفرنس  کے مکہ اعلامیہ  کو امت اسلامیہ کی جانب بھر پور انداز میں سراہا  اور تمام افغانی دھڑوں کو باہمی صلح اور اتحاد کی دعوت دی ، نیز کسی بھی اختلاف کی صورت میں کتاب و سنت کی جانب رجوع کرنے کی ترغیب دلائی ۔ اور آخر میں جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہی ہیں ، ہمہ قسم کی حمد اور بادشاہی اسی کیلیے ہے،  اسی کا فضل ہم پر ہے، میں خفیہ اور اعلانیہ ہر طرح سے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،  میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ کی اطاعت تمام معاملات میں واجب ہے۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر اس وقت تک رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے جب تک دن اور رات کا آنا جانا لگا رہے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ تعالی سے کما حقُّہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں۔[آل عمران: 102]

مسلمان کی بنیادی اخلاقی اقدار میں یہ بھی شامل ہے کہ بھلائی کرنے والوں کا بدلہ بھلائی کے ساتھ دے، کسی کی نیکی کا اس سے بڑھ کر صلہ دے؛ یہ باہمی تعامل کیلیے اسلامی اقدار میں سے ایک عظیم قدر ہے اس کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے: {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} اچھائی کا بدلہ اچھائی ہی ہوتا ہے۔ [الرحمن: 60]

یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ کوئی بھلا کرے تو اسے کبھی فراموش نہیں کرتا، مسلمان کے ساتھ جو بھی اچھائی کرے ہمیشہ ان کا تذکرہ خیر کرتا ہے، اس کے حسن سلوک پر اظہار تشکر  اور اس کی نوازشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نیز مسلمان زندگی کے اژدحام اور بدلتے حالات میں ان لوگوں کو نہیں بھولتا جن کے ساتھ محبت اور انس تھا، جن کے ساتھ زندگی کے چند دن گزارے  تھے، چاہے ان گزرے دنوں میں باہمی اختلافات اور نفرتیں بھی پائی گئی ہوں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} ایک دوسرے کے ساتھ کئے ہوئے احسانات کو مت بھولو[البقرة: 237]

اسی لیے ہمارے رسول کریم ﷺ وفا داروں میں بھی سب سے آگے ہیں؛ آپ نے ہمیں احسان مندی کے خوبصورت مفاہیم عملی طور پر سمجھائے؛ چنانچہ آپ اپنی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی خوبیوں کے معترف تھے اور آپ کی وفات کے بعد بھی ان کا اعتراف کرتے تھے، اسی لیے آپ انہیں بہت زیادہ یاد فرماتے ، ان کا شکریہ ادا کرتے اور ان کیلیے بخشش مانگتے ہوئے فرماتے: (وہ فلاں فلاں خوبیوں کی مالک تھی، پھر بسا اوقات بکری ذبح کر کے گوشت بناتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیج دیتے تھے) بخاری، مسلم

اور جس وقت مسلمانوں کو جنگ بدر میں فتح نصیب ہوئی تو ستر قریشی قیدی بنے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: (اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان گندے قیدیوں کے بارے میں بات کرتا تو میں اِنہیں اُس کے حوالے کر دیتا) بخاری؛ حالانکہ مطعم بن عدی کفر کی حالت میں مرا تھا، لیکن اس کی خوبیوں کے تذکرے میں اس کا کفر رکاوٹ نہیں بنا، وہ پھر بھی ایک حد تک نیک نامی  کے لائق ٹھہرا۔

انبیائے کرام کے واقعات بھی اعتراف احسانات سے بھرے ہوئے ہیں، انہی واقعات میں سے موسی علیہ السلام اور دو عورتوں کے والد کا واقعہ بھی ہے جن کی بکریوں کو آپ نے پانی پلایا تھا، اسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا} تو ان دونوں عورتوں میں سے ایک موسی کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی  اور کہنے لگی کہ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت آپ کو دیں ۔ [القصص: 25]، تو موسی علیہ السلام کو ان کی نیکی کا صلہ مل گیا، اور ان دو لڑکیوں کے والد نے آپ کے احسان کا بدلہ چکادیا۔

اسلام نے اس شخص کو بہت بلند مقام دیا ہے جو آپ کے ساتھ بھلائی اور اچھائی کرتا ہے، بلکہ اسلام نے اس شخص کو بدلہ دینے کی تاکید بھی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (وہ شخص اللہ کا شکر ادا ہی نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر ادا نہ کرے) اس حدیث کو احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ تعالی اپنی نعمتوں پر بندے کا شکر بھی اس وقت قبول نہیں فرماتا جب بندہ لوگوں کے احسان پر شکریہ ادا نہ کرتا ہو، یا  ان کی اچھائی کا یکسر انکار کر دے؛ کیونکہ شکریہ کی ان دونوں اقسام کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ اس حدیث کا یہ بھی مطلب ہے کہ: جس شخص کی عادت اور طبیعت ایسی ہو کہ لوگوں کے تعاون پر ہمیشہ ناشکری کرے تو وہ اللہ تعالی کی نعمتوں پر بھی ناشکری ہی کرتا ہے، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ یہ بھی اس حدیث کا مفہوم ہے کہ: جو شخص لوگوں کا نا شکرا ہو تو وہ اللہ کا بھی نا شکرا ہے۔

اہل وفا کسی کو اچھا صلہ دیتے ہوئے اقوال، افعال اور احساسات تک کا صلہ دیتے ہیں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو۔ [النساء: 86] چنانچہ اگر مسلمان سلام کا جواب انہی کلمات میں یا اس سے احسن کلمات میں دیں، اور بھلائی پر اسی جیسی یا اس سے زیادہ بھلائی صلے میں دیں، اور اچھے بول پر  اسی جیسے یا اس سے بھی اچھے بول کہیں، اور تحفہ ملنے پر اسی جیسا تحفہ دیں یا اس سے بھی اچھا دیں ؛ تو ہمارے دل صاف ہو جائیں، ہمارے رابطے مضبوط ہو جائیں، تعلقات کی گہرائی بڑھ جائے، نیز اختلافات کا دائرہ سکڑ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حقوق الوالدین - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

بھلائی کرنے والوں کو صلہ دینے کیلیے سب سے پہلا اقدام : ان کی بھلائی کا اعتراف ہے، پھر ان کے شکریہ کا مستحق ہونے کا اقرار کریں؛ نبی رحمت ﷺ نے اس کا حکم دیا  اور اس کی ترغیب دلائی ہے، نیز تعلق داری کا خیال رکھنا ایمانی خوبی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو اسے پورا بدلہ دو) اس حدیث کو ابو داود، نسائی اور امام احمد رحمہم اللہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسی طرح مستدرک حاکم اور سنن بیہقی میں ہے کہ : (نبی ﷺ ایک بوڑھی خاتون کو بڑی گرم جوشی اور خوشی کے ساتھ  ملے، جب وہ چلی گئی تو سیدہ عائشہ  رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس خاتون  کے متعلق پوچھا تو فرمایا: عائشہ! یہ ہمارے پاس خدیجہ کے ہوتے ہوئے آیا کرتی تھی، بیشک تعلق داری کا خیال رکھنا بھی ایمان میں سے ہے۔) اس حدیث کو البانی نے سلسلہ صحیحہ میں روایت کیا ہے۔

اسلام نے بھلائی کرنے والوں کا بدلہ چکانے کیلیے مسلمان کی استطاعت کے مطابق سہولت رکھی ہے؛ اس لیے مسلمان اچھے بول، اور دعائے خیر کے ذریعے بھی بدلہ چکا سکتا ہے، اسی طرح مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ہشاش بشاش چہرے اور دل کی گہرائی سے ملے  تو اس کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ تمام تر سہولتیں اس دین کے کامل  اور شامل ہونے کی دلیلیں ہیں، اسلامی آداب اور خوبیوں کے مکمل ہونے کی علامات ہیں، انہی کی بدولت مسلم معاشرے میں مودت، الفت اور محبت پروان چڑھتی ہے؛ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو، چاہے تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو) مسلم

حقائق پر مبنی تعریف بھی احسان کرنے والوں کو صلہ دینے کا ایک طریقہ ہے؛ جیسے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جسے کوئی چیز تحفہ دی جائے تو وہ اس کا بدلہ چکا دے، اور اگر پاس کچھ نہ ہو تو ستائشی کلمات کہہ دے؛ کیونکہ جس نے ستائشی کلمات کہہ دئیے تو اس نے شکریہ ادا کر دیا۔ اور جس نے ستائشی کلمات بھی نہ کہے تو اس نے نا شکری کی۔ اور جو ایسی چیز زیب تن کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی تو وہ ایسے ہی جیسے کوئی [بہروپیا]دو جھوٹے کپڑے زیب تن کر لے) اس حدیث کو ابو داود اور ترمذی  نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

کسی کی نیکی کا بدلہ دینے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں خاطر خواہ دعائیں دے دی جائیں؛ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (۔۔۔ اگر تمہارے پاس بدلہ دینے کیلیے کچھ نہ ہو تو اس کیلیے اتنی دعائیں کر دو کہ تمہیں   یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے) اس حدیث کو ابو داود، نسائی، اور امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اسی طرح سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس کے ساتھ نیکی کی گئی اور اس نے نیکی کرنے والے کو کہا: [جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا] اللہ تمہیں جزائے خیر دے، تو اس نے شکریہ ادا کرنے کی انتہا کر دی) اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ایسے ہی اگر کوئی آپ کو مالی قرضہ دے تو اسے اچھے انداز سے قرضہ واپس کریں ، اور قرضے کی ادائیگی سے متعلقہ وعدے  پورے کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کریں۔

مسلمان کی زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے احسانات ساری زندگی ساتھ رہتے ہیں، ان کے احسانات دائمی اور ابدی نوعیت کے ہوتے ہیں، ان لوگوں کی طرف سے ملنے والی خیر خواہی دائمی ہوتی ہے؛ انہی لوگوں میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالی نے ہمیں اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لا کھڑا فرمایا۔

اسی طرح لوگوں پر جن کا سب سے زیادہ احسان  ہے، جن کے حقوق کی ادائیگی سب سے زیادہ لازمی ہے  وہ ہیں : والدین، کہ انہوں نے ہی انسان کو بچپن میں پالا پوسا ۔

ایسے ہی طلبہ  پر لازمی ہے کہ اپنے اساتذہ کیلیے دعائیں کریں؛ کہ انہوں نے محنت کے ساتھ پڑھایا ، اسی لیے ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے استاد حماد رحمہ اللہ کیلیے دعائیں کرتے تھے اور ان کے بعد ابو یوسف رحمہ اللہ اپنے استاد ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کیلیے دعائیں کرتے۔

جبکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  کہتے ہیں کہ: "تیس سالوں سے کوئی رات میں نے ایسی نہیں گزاری جس میں [اپنے استاد امام] شافعی  کیلیے دعا اور استغفار نہ مانگی ہو۔"

خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے یکساں خیر خواہ ہوتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی کا تبادلہ کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کیلیے اپنی جوانی کی زندگی اور خون جگر  تک قربان کر دیتا ہے؛ اس لیے زوجین تعلق داری کا خیال رکھیں، حسن سلوک سے رہیں، نیز غلطیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر کریں تو یہ بھی بہترین صلہ اور بدلہ ہے؛ کیونکہ انسان میں پائی جانے والی اچھائیوں سے برائیوں کے اثرات مندمل ہو جاتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ: (کوئی مومن کسی مومنہ [بیوی ] سے بغض نہیں رکھتا؛ کیونکہ اگر اسے کوئی بات ناگوار گزرتی ہے تو   وہ اس کی دیگر خوبیوں سے راضی ہو جاتا ہے۔)

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو بابرکت بنائے، اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو قرآن کی حکمت بھرئی نصیحتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، آپ سب بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

شکر گزاروں کی حمد خوانی جیسی تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ صبر کرنے والوں کا ولی ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد اللہ کے بندے ، رسول اور امام المتقین ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل اور  تمام صحابہ کرام پر روزِ قیامت تک رحمتیں نازل فرمائے ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں۔

چند دن پہلے بریدہ میں ایک المناک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے سیکورٹی کا ایک جوان جاں بحق ہو گیا؛ یہ گھٹیا حرکت ہے، جو کہ بوکھلاہٹ، بد حواسی  اور پاگل پن کی علامت ہے؛ کیونکہ اس وقت داعشی تکفیری نظریات آخری سانس لے رہے ہیں ان میں معمولی سی رمق باقی ہے،  اور ہمیں مکمل طور پر یقین ہے کہ ان کے افکار زمین بوس ہوں گے، ان کی پھیلائی ہوئی گمراہی ختم ہو کر رہے گی۔

اگر کوئی ہمارے امن و امان کو مخدوش کرنے کی کوشش کرے، یا ملکی استحکام کو ٹھیس پہنچانے کا سوچے بھی تو اس کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی، وہ اپنے اہداف میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا، اسے ہمیشہ منہ کی کھانی پڑے گی، یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور پھر ہماری قیادت کی مسلسل جد و جہد، سیکورٹی فورس کی ہوشیاری اور علمائے کرام کی بیداری  سے ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:   حقوق الوالدین - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

نیز عالم اسلام کی جانب سے بالعموم اور افغان عوام کی جانب سے بالخصوص  خادم حرمین شریفین کی دعوت پر منعقد کردہ امن کانفرنس کو سراہا گیا ہے، یہ کانفرنس اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے مکہ مکرمہ میں منعقد ہوئی، اس کانفرنس میں افغانستان میں خانہ جنگی اور اختلافات ختم کرنے پر زور دیا گیا، اسی طرح باہمی مصالحت اور اتحاد کی دعوت دی گئی ، نیز کسی بھی تنازعہ یا جھگڑے کے وقت شرعی احکامات کی جانب رجوع کرنے پر زور دیا گیا ۔

یہ پیغام امن سرزمین وحی کا پیغام ہے، اس پیغام کا تقاضا ہے کہ تمام افغان مسئلے کے پر امن  حل کو مضبوطی سے تھام لیں؛ علمائے کرام  خصوصی طور پر پائیدار قیام امن کیلیے بھر پور کوششیں کریں، تا کہ ان کے ملک میں استحکام آئے، اور رطب و یابس ہر چیز کو بھسم کر دینے والی خانہ جنگی سے اپنے ملک کو بچا سکیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا} تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے  گا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جس کو  اُس نے اِن کے لئے پسند کیا ہے اور ان کی حالت خوف کو امن میں تبدیل کر دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے  ۔[النور: 55]

اللہ کے بندو!

رسولِ ہُدیٰ پر درود پڑھو، اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمہیں اسی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجو۔ [الأحزاب: 56]

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، نیز اپنے رحم ، کرم، اور احسان کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کافروں کے ساتھ کفر کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! تیرے اور دین دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و امان کا گہوارہ بنا دے۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں ، ہمارے ملک کے متعلق یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا اللہ! جو بھی ہمارے بارے میں ، ہمارے ملک کے متعلق یا اسلام اور مسلمانوں کے متعلق برے ارادے رکھے تو اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے،  یا سمیع الدعاء!

یا اللہ! ہماری افواج کی سرحدوں پر حفاظت فرما اور انہیں کامیاب فرما،  یا اللہ! ان کی خصوصی حفاظت ، حمایت اور مدد فرما، یا اللہ! ان کی تیرے اور ان کے مشترکہ دشمنوں کے خلاف  مدد فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر کام کی توفیق مانگتے ہیں ۔ یا اللہ! ہم جہنم اور جہنم کے قریب کرنے والے ہر عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

یا اللہ! ہمارے دینی معاملات کی اصلاح فرما، اسی میں ہماری نجات ہے۔ یا اللہ! ہماری دنیا بھی درست فرما دے اسی میں ہمارا معاش ہے، اور ہماری آخرت بھی اچھی بنا دے ہم نے وہیں لوٹ کر جانا ہے، اور ہمارے لیے زندگی کو ہر خیر کا ذریعہ بنا، اور موت کو ہر شر سے بچنے کا وسیلہ بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے شروع سے لیکر آخر تک، ابتدا سے انتہا تک ، اول تا آخر ظاہری اور باطنی ہر قسم کی جامع بھلائی مانگتے ہیں، نیز تجھ سے جنتوں میں بلند درجات کے سوالی ہیں۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ ہدایت، تقوی، تونگری اور عفت کا سوال کرتے ہیں۔

یا اللہ1 ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف نہ ہو، یا اللہ! ہماری رہنمائی فرما اور ہمارے لیے راہ ہدایت پر چلنا بھی آسان فرما، یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

یا اللہ! ہمیں تیرا ذکر، شکر، تیرے لیے مر مٹنے والا، تیری طرف رجوع کرنے والا اور انابت کرنے والا بنا۔

یا اللہ! ہماری توبہ قبول فرما، ہماری کوتاہیاں معاف فرما، ہماری حجت کو ٹھوس بنا، اور ہمارے سینوں کے میل کچیل نکال باہر فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، اور معافی کو پسند بھی فرماتا ہے، یا اللہ! ہمیں معاف فرما دے۔

یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جن گناہوں کو توں ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے ان سب گناہوں کو معاف فرما دے،  تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔

یا اللہ! تمام فوت شدگان پر رحمت فرما، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات سنوار دے،  یا اللہ! ہم سب کے والدین اور تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! تمام فوت شدگان پر رحمت فرما، تمام مریضوں کو شفا یاب فرما، اور ہمارے معاملات سنوار دے، یا رب العالمین!

یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کے کام کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت کی بالا دستی کیلیے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

{رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم بہت نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے [الأعراف: 23] {رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10] اے ہمارے پروردگار! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے تھے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کے لیے ہمارے دلوں میں کدورت نہ رہنے دے، اے ہمارے پروردگار! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے[الحشر: 10] {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو [النحل: 90]

تم اللہ کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کی یاد بہت ہی بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی تمہارے تمام اعمال سے بخوبی واقف ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.