نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

نواز شریف نے جو کرپشن کی یا اثاثے چھپائے اور آف شور کمپنیوں کی منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ان جرائم کی سزا انہیں مل گئی۔سو صفحات پر مشتمل ایون فیلڈ ریفرنس کیس کے فیصلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی جس میں نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جب کہ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے پر اپیل کا حق موجود ہے جس پر ظاہر ہے اپیل کی جائے گی اور یہ معاملہ چلتا رہے گا۔ نواز شریف اور ان کے حمایتی اس فیصلے کو سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی باہمی کشا کش کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے مخالفین تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے سپورٹر اسے اپنی فتح کہہ رہے ہیں۔

لیکن کہانی دراصل یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی روایت موجود ہےاب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار واقعتا احتساب ہونے جا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ملک کو لوٹنے اور نقصان پہنچانے والے دیگر لوگوں اور اداروں کا احتساب بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں تمام پارٹیوں کے کرپٹ عناصر بشمول "الیکٹیبلز" اور "جنرلز" کا احتساب نہ ہوا اور یہ سلسلہ یہیں رک گیا تو صاف کھل جائے گا کہ یہ احتساب نہیں تھا بلکہ سیاسی نشانہ بازی تھی اور یہ وہی سیاسی انتقامی روش تھی جس کا ملک اور قوم کو کوئی فائدہ نہیں۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ آج سے نئے پاکستان کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ کہ پہلی بار کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ قوم کو زیادہ سبز باغ نہ دکھائیں یہ دعویٰ کہ سب کا احتساب ہو گابہت بڑا دعویٰ ہے۔ آج تک اس قوم نے احتساب کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے ہی دیکھا ہے۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر ، زرداری اور کئی سیاستدانوں کو کیسوں کا سامنا کرنا پڑا ، کئی ایک کو جیل بھی جانا پڑامگر کیا ملک سے کرپشن ختم ہو گئی۔ کیا ہماری حکومتیں احتساب کے لئے واقعی سنجیدہ ہیں؟ کیا خود عمران خان احتساب کے لئے سنجیدہ ہیں؟ اگر ہیں تو اپنی پارٹی میں موجود کرپٹ عناصر کا احتساب کب کریں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی میں دو فوجی موجود تھے جنھوں نے بکنے سے انکار کر دیا جس کے باعث نواز شریف کو سزا ہوئی۔ کیا یہ فوجی اپنے ادارے میں احتساب کے لئے سنجیدہ ہیں؟ اگر ہیں تو پرویز مشرف کا احتساب کیوں نہیں ہوتا؟

سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس میں شامل دیگر لوگوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے اور یہ کہ اس فیصلے سے انتخابات پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ پانامہ لیکس میں پانچ سو کے قریب افراد کے نام ہیں، ان کے علاوہ اربوں کی کرپشن کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں ان سب کا احتساب بھی ضروری ہے تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جا سکے۔

آنے والے دن اہم ہیں۔ نواز شریف نے ملک واپس آنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ نیب نے ان کے واپس آتے ہی ان کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال انہیں فیصلے پر اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ اگر نواز شریف جیل گئے تو انہیں ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہوتا ہے۔ ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ عوام انتخابات میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ دن اہم ہیں۔ تاریخ میں ان دنوں کو خاص اہمیت حاصل ہو گی۔ اداروں کی باہمی کھینچا تانی اور سیاستدانوں کی حکمت عملی کیا رنگ لاتی ہے۔ کیا ملکی ادارے اپنا کام فرض شناسی سے کرنے پر توجہ دیتے ہیں یا وہی برسوں سے جاری بالادستی کی لڑائی جاری رہتی ہے۔

امتحان عدلیہ کا ہے۔ امتحان آنے والی نئی حکومت کا ہے اور امتحان ہم عوام کا بھی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ احتساب سب کا چاہتے ہیں یا صرف مخالف پارٹی کا!

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.