پاکستان زندہ باد- عبدالقادر حسن

ان دنوں حکومت وقت سے زیادہ عدالت کی سرپرستی میں آبی ڈیموں کی تعمیر کی گفتگو جاری ہے، یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اگر کوئی مسئلہ موجود ہے تو اس پر کھل کر بات ہونی چاہیے لیکن یوں لگتا ہے کہ اگر ہم ہمیشہ کی طرح بحث و مباحثہ میں ہی پڑے رہے تو قیامت تک بھی اس کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ اس اہم ترین مسئلے کے بارے میں معاملہ لاعلمی اور ناواقفیت کا نہیں اور ہماری گزشتہ حکومتیں اس مسئلے کے بارے میں جان بوجھ کر لاعلم اور ناواقف بنی رہیں بلکہ اس پاکستان کی بقاء کے اس مسئلے کو اپنے سیاسی مفاد کے نذر کرتی رہیں، نیتوں میں کھوٹ اور فتور تھا مگر اس کے باوجود ایک طرف یہ بحث مسلسل جاری رہی تا کہ نیک اور محب وطن پاکستانی اپنی کسی لاعلمی کی وجہ سے گمراہ نہ ہوں اور ان کے سامنے صورتحال پوری طرح واضح ہونی چاہیے ۔

جہاں تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ ہے تو اگر اتفاق سے کوئی محب وطن حکمران ہمارے نصیب میں ہوا تو وہ اس کی تعمیر فوری شروع کر دے گا کیونکہ پہلے ہی اس میں تاخیر سے پانی کا بحران سر اٹھا چکا ہے لیکن اگر اس بات کا انتظار کیا گیا کہ جو لوگ اس کے مخالف ہیں وہ اسے اتفاق کر لیں گے تو پھر کام شروع کیا جائے گا تو پھر اس منصوبے کو ترک کر کے اس پر مزید بحث کرنا وقت ضایع کرنا ہوگا جو پہلے ہی بہت ہو ضایع چکا ہے کیونکہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں دو ڈیموں کی تعمیر پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور ان کے اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین سے بات ہو گئی ہے، قوم جلد خوشخبری سنے گی۔ سب سے بڑی بات جو انھوں نے کہی وہ یہ ہے کہ ان ڈیموں کی تعمیر کے لیے وہ سرمایہ استعمال کیا جائے جو کہ لوٹ مار کر ہڑپ کیا جاچکا ہے لیکن وہ پُرا مید ہیں کہ قرض معاف کرانے والوں سے اس کی وصولی کر کے اس ملکی سرمایہ کو ڈیموں کی تعمیر پر خرچ کیاجائے گا۔

ملکی سرمائے کاا س سے بہتر استعمال ممکن ہی نہیں کیونکہ عالمی اور مقامی ماہرین کے رائے کے مطابق پاکستان بہت جلد خشک سالی کے شکار ملکوں میں شامل ہونے جا رہا ہے اورکسی حد تک اس کی بچت صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہے کہ ملک میں آبی ذخائر کی تعدادمیں اضافہ کیا جائے، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ڈیموں کی جب بھی بات ہوئی اس سے سستی بجلی کو ہی ترجیح دیے جانے کی بات ہوئی جو عوام کے روز مرہ استعمال کی ضرورت ہے اور اس وقت مہنگی بجلی عوام کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکی ہے۔

بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اگر زراعت کی بات کی جائے تو پاکستان جو بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کا تمام تر انحصار پانی پر ہی ہوتا ہے، پاکستانی زراعت کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے ۔ نہروں میں پانی کی کمی کی وجہ سے کسان وہ پیداوار حاصل نہیں کر پا رہا جس کی ملک کو ضرورت ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کوعوام کی استعمال کی روز مرہ کی اجناس بھی ہمسایہ ممالک سے برآمد کرنا پڑ رہی ہیں جس کا ایک تو ملکی اقتصادیات پر منفی اثر پڑتا ہے اور دوسری طرف مقامی کسان زبوں حالی کا شکار ہو رہا ہے۔

مہنگی بجلی، ڈیزل ،کھاد اور بیجوں کے ہوشربا نرخ مقامی کسانوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کی پیداوار میں کمی کے باعث ان کو مقامی منڈیوں میں اپنے مال کی وہ قیمتیں نہیں مل پا رہیں جس قیمت پر وہ اجناس اگا رہے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ پانی کی کمی ہے۔

دنیا بھر میں موسموں کی تبدیلی کے اثرات پاکستان پر بھی ہو رہے ہیں، بارشیں پہلے سے کہیں کم ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے پانی کے پہلے سے موجود ذخائر سے فصلوں کے لیے مطلوبہ مقدار میں پانی کی دستیابی ممکن نہیں رہی اور اگرچہ ٹیوب ویل کے ذریعے یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن زیر زمین پانی کی زیادہ گہرائی کی وجہ سے بعض علاقوں میں اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں جس سے پیداوار میںکمی ہو رہی ہے اور پاکستانی کسان بددلی کا شکار ہو رہا ہے۔

ملکی مفادات کو اگر سیاسی مفادات سے الگ کر دیا جاتا تو ہمارے جنت نظیر ملک میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد سے ہم گروہی سیاست کے شکار ہو گئے اور ملکی مفاد کو اپنے سیاسی مفاد پر ترجیح دی جس کا خمیازہ اب قوم بھگت رہی ہے ۔

محترم چیف جسٹس صاحب نے جس طرح عوام کے حقوق کی آواز اٹھائی ہے، اس کو ہمارے جماندورسیاستدانوں کی جانب سے ناپسند کیاگیا ہے بلکہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اس پر تنقید بھی کی گئی لیکن ان سیاستدانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ملک کے منصف اعلیٰ کو اس طرح کے اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آئی، اگر ہمارے سیاستدان عوام کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کر لیتے توآج کوئی چیف جسٹس عوامی منصوبوں کے دورے نہ کر رہا ہوتا بلکہ گھر بیٹھے لطف اندوز ہو رہا ہوتا۔

عوام کی امنگوں کے مطابق کسی سیاسی لیڈر نے نہیں عدلیہ کے ایک منصف نے آبی ڈیموں کی تعمیر کے لیے توانا آواز بلند کی ہے اور ان کی تعمیر کے لیے قوم کے لٹیروں سے دولت واپس حاصل کر کے اس اہم منصوبے کو شروع کرنے کی بات بھی کی ہے ۔ اس بارے میں بحث بہت ہو چکی اور یہ جاری بھی رہے گی لیکن اس کے ساتھ ہی جس ڈیم پر بھی اتفاق رائے کی خوشخبری سنائی گئی ہے اس کی تعمیر کی بسم اللہ بھی کر دیجیے۔

اتفاق رائے پیدا کرنے کا یہ سب سے موثر اور یقینی طریقہ ہے، بحث کو ہواؤں سے اتار کر زمینوں پر لے آئیے اور اسے حقیقت کا رنگ دیجیے اگر پاکستان کی تعمیر کسی سیاسی جماعت وغیرہ سے پوچھ کر کرنی ہے اور اس ملک کے مستقبل کو کسی ملک دشمن جماعت کے ایجنڈے کے مطابق چلانا ہے تو پھر پاکستان سے ایٹم کو بھی مائنس کر دیں لیکن اگر ملک کو آگے بڑھانا ہے تو اس کو ایٹمی طاقت رکھنے والے کے شایان شان ملک بناناہے تو اس کے لیے عزم اور ارادہ پیدا کیجیے ۔

اس طرح کے اعلان انتہائی سوچ سمجھ کے بعد کیے جاتے ہیں، اس سے پہلے ایک دور حکومت میں میاں نواز شریف نے بھی کالا باغ کا اعلان کیا تھا لیکن پھر اس کو بھاری پتھر سمجھ کر صرف چوم کر ہی چھوڑ دیا تھا مگر اب چیف جسٹس صاحب نے بیک وقت دو ڈیموں پر اتفاق رائے کی خوشخبری دی ہے، اللہ کرے یہ اعلان درست ہو ۔ قوم کو مزید مایوسیوں میں دھکیلنا نہیں چاہیے بلکہ یہ اس معصوم قوم میں جینے کی امنگ اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرنے کا وقت ہے۔