تزکیہ نفس،،، اہمیت، ذرائع اور فوائد - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 15 شوال 1438 کا خطبہ جمعہ "تزکیہ نفس،،، اہمیت، ذرائع اور فوائد" کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ جب تک ہر شخص کو حقوق پورے نہیں ملتے عدل قائم نہیں ہو گا جبکہ انسان پر سب سے پہلے اپنے نفس کے حقوق لاگو ہوتے ہیں، ان حقوق میں سے تزکیہ نفس سر فہرست حق ہے۔ تزکیہ نفس کی اہمیت کے پیش نظر رسولوں کو مبعوث کیا گیا اور انبیائے کرام نے حصول تزکیہ کیلیے دعائیں بھی مانگیں۔ داعیان اسلام بھی تزکیہ کی خاطر کمتر لوگوں کو بھی دعوت دینے سے نہیں کتراتے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سب سے زیادہ یکجا قسمیں اٹھا کر یہی فرمایا ہے کہ تزکیہ نفس حاصل کرنے والا کامیاب ہے۔ مومن حضرات تزکیہ نفس کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں؛ کیونکہ آخرت میں جنت اور جنت میں بلند مقام انہی کو حاصل ہو گا۔ تزکیہ نفس کیلیے تگ و دو ہر مسلمان پر ضروری ہے، اور تزکیہ کیلیے عقیدہ توحید مجرب اور فعال ترین راستہ ہے۔ حصول تزکیہ کیلیے نماز، زکاۃ، حج، روزہ، حقوق العباد کی ادائیگی، حصول تزکیہ کی دعا، ذکر الہی، قرآن مجید کی تلاوت، قرآنی تعلیمات پر عمل ، آنکھوں اور زبان کی حفاظت، قبرستان کی زیارت، گناہوں سے دوری، اور حصول علم نافع ؛تزکیہ نفس کے شرعی ذرائع میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب و سنت؛ تزکیہ نفس کیلیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور یہی دین الہی اور صراط مستقیم ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ: لوگوں میں جس قسم کی بھی تبدیلی رونما ہو اس کی وجہ لوگوں کے ہی اخلاق یا کردار میں تبدیلی ہوا کرتی ہے، یہ اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے، اس لیے اپنے آپ کو سنوارنے اور سدھارنے سے ، اللہ تعالی کے ساتھ اچھا تعلق بنانے سے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں، تاہم مومن کا خاص طریقہ کار یہ ہے کہ وہ خوب محنت اور مشقت کرنے کے باوجود خود ستائشی کا شکار نہیں ہوتا۔ آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقہ ڈرو، اور خلوت و جلوت میں اسی کو اپنا نگہبان سمجھو۔

مسلمانو!

لوگوں میں بہتری اور استحکام اسی وقت آئے گا جب ہر ایک کو ان کا حق ملے گا، در حقیقت یہی وہ عدل ہے جس کے باعث آسمان و زمین قائم ہیں، دنیا اور آخرت کے قائم دائم ہونے کی بنیاد بھی عدل ہے۔ ہر شخص پر حقوق واجب ہیں ان کے بارے میں روزِ قیامت باز پرس بھی ہو گی، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (اور بیشک تمہارے نفس کا تم پر حق ہے) مسند احمد۔

نفس کا سب سے بڑا حق تزکیہ ہے، اس کے ذریعے نفس تباہی اور مذموم صفات سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور چونکہ نفس برائی کا بہت زیادہ حکم دیتا ہے نیز اس کے شر سے پناہ بھی مانگی جاتی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ( أَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ    [اپنے نفس کے شر سے [یا اللہ]میں تیری پناہ چاہتا ہوں])مسند احمد، پھر چونکہ رسول اللہ ﷺ اپنے خطبات کی ابتدا میں کہا کرتے تھے: (اور ہم اپنے نفسوں کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں) ترمذی۔ اس لیے نفس کی اصلاح کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، نیز اصلاح نفس کا عمل اللہ تعالی کے ہاں محبوب بھی ہے، اسی لیے فرمایا: {مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ} اللہ تعالی تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے۔[المائدة: 6] یعنی اللہ تعالی تمہارا ظاہر اور باطن پاک فرمانا چاہتا ہے۔

تزکیہ نفس کی اہمیت کے پیش نظر رسولوں کی بعثت کا ایک مقصد تزکیہ نفس ہی تھا، جیسے کہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اس امت میں رسول مبعوث فرما جو ان کا تزکیہ نفس کرے، انہوں نے دعا کرتے ہوئے کہا تھا: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ} اے ہمارے رب ان میں، انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے ۔ [البقرة: 129]

موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرعون کی جانب بھیجا تو موسی علیہ السلام کو فرمایا: {اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (17) فَقُلْ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ تَزَكَّى } تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے [17] پھر اسے کہو: کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تیرا تزکیہ ہو جائے ؟ [النازعات: 17 ، 18]

پھر اللہ تعالی نے ہمارے نبی جناب محمد ﷺ کو بھی لوگوں کا تزکیہ کرنے کیلیے مبعوث فرمایا: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ} وہی تو ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات سنا کر ان کا تزکیہ کرتا ہے ۔ [الجمعۃ: 2] پھر مومنوں کو اسی نعمت کا احسان جتلاتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا: {لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ} بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات پڑھتا، ان کا تزکیہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ [آل عمران: 164]

اللہ تعالی کی جانب دعوت دینے والا ہر کسی کو دعوت دیتا چاہے وہ کتنے ہی نچلے طبقے سے کیوں نہ ہوں؛ صرف اس لیے کہ شاید ان کا تزکیہ ہو جائے اور راہ پا جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {عَبَسَ وَتَوَلَّى (1) أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى (2) وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى} اس نے ماتھے پر شکن ڈالی اور چہرہ پھیر لیا [1] اس لیے کہ اس کے پاس نابینا آ گیا۔ [2] اور آپ کو کیا معلوم شاید اس کا تزکیہ ہو جائے۔[عبس: 1 - 3]

ہمہ قسم کی کامیابی بھی تزکیہ نفس میں ہے، جبکہ عین یقینی خسارہ فقدان تزکیہ سے ہو گا؛ اسی بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سب سے زیادہ قسمیں اٹھا کر فرمایا: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا} کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کر لیا [9] اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہو گیا۔[الشمس: 9، 10] اس کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ اللہ تعالی کی اطاعت اور نیک اعمال کے ذریعے کر لیا" اور یہی تمام کے تمام پیغمبروں کی دعوت کا خلاصہ ہے۔

نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى (15) بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (17) إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى (18) صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى} وہ کامیاب ہو گیا جس نے تزکیہ نفس کیا [14] اپنے رب کا نام لیا اور نماز ادا کی [15] لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ [16] حالانکہ آخرت بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے [17] یہ باتیں پہلے صحیفوں میں بھی ہیں۔ [18] یعنی ابراہیم اور موسی کے صحیفوں میں۔[الأعلى: 14 - 19]

مومنوں کی صفات میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے نفس کا خود تزکیہ کرتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ} اور وہ لوگ جو زکاۃ دینے والے ہیں۔[المؤمنون: 4] اس کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہاں آیت میں زکاۃ سے تزکیہ نفس اور مال کی زکاۃ دونوں مراد ہیں، چنانچہ کامل مومن دونوں کا بھر پور اہتمام کرتا ہے" لہذا اگر کسی کا تزکیہ نفس ہو جائے تو یہ اس پر اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت اور کرم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا} اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کسی کا بھی تزکیہ نہیں ہو سکتا تھا۔ [النور: 21]

یہ بھی پڑھیں:   دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

آخرت میں جنت بھی اسی شخص کو بدلے میں ملے گی جو اپنی اصلاح کرے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔[40] تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہو گی۔ [النازعات: 40، 41] پھر جنتوں میں اعلی ترین درجہ اسی کو ملے گا جو اپنا تزکیہ کر لے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى (75) جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى} اور جو اس کے پاس ایمان کی حالت میں آئے اور اس نے عمل صالح بھی کئے ہوں تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے بلند درجات ہیں [75] [ان کیلیے]سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا اس شخص کی ہے جو اپنا تزکیہ کر لے گا ۔ [طہ: 75، 76]

تزکیہ نفس کے حصول کیلیے تگ و دو اور محنت تمام لوگوں پر فرض ہے، اس کیلیے اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کریں اور ممنوعہ امور سے بچ جائیں؛ کیونکہ اوامر و نواہی دونوں میں اللہ تعالی کی بندگی کے بعد سب سے اہم ہدف تزکیہ اور اصلاحِ نفس ہی ہے۔

تزکیہ نفس کیلیے ایک اللہ کی عبادت سے بڑھ کچھ کار گر نہیں ، مخلوق کا تزکیہ عقیدہ توحید کے بغیر ممکن نہیں، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (6) الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ} اور تباہی ہے مشرکوں کیلیے [6] جو اپنا تزکیہ نہیں کرتے اور وہ آخرت پر ایمان سے انکاری ہیں۔[فصلت: 6، 7] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یہاں زکاۃ سے مراد عقیدہ توحید اور ایمان ہے ان کے ذریعے دل پاکیزہ ہو جاتے ہیں؛ کیونکہ عقیدہ توحید میں دل سے غیر اللہ کی الوہیت کی نفی اور صرف اللہ کی الوہیت کا اثبات ہوتا ہے، اور لا الہ الا اللہ کی حقیقت بھی یہی ہے، اس لیے عقیدہ توحید تزکیہ قلب کیلیے بنیادی ترین امر ہے۔"

نماز تزکیہ نفس اور بندے کو پاکیزہ بنانے کا ذریعہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} بیشک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔ [العنكبوت: 45] نماز کی وجہ سے نمازیوں کے حالات سنورتے ہیں اور ان کے گناہ بھی مٹ جاتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تم مجھے بتلاؤ کہ: اگر تمہارے گھر کے دروازے کے پاس سے کوئی نہر گزرتی ہو اور وہ وہاں پر یومیہ پانچ بار غسل کرے تو کیا اس کی میل کچیل باقی رہے گی؟) تو انہوں نے کہا: "نہیں، اس کی بالکل بھی میل کچیل باقی نہیں رہے گی" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (پانچوں نمازوں کی بھی یہی مثال ہے، اللہ تعالی ان نمازوں کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے) متفق علیہ

مالی زکاۃ اور صدقہ دینے سے بھی تزکیہ نفس اور نفس کی صفائی ہوتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} ان کے اموال میں سے صدقات وصول کر کے انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔[التوبة: 103] نیز جہنم سے آزادی بھی ایسے شخص کا بدلہ ہے جو اپنے مال کی زکاۃ دے کر تزکیہ نفس کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (17) الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى} جہنم سے متقی بچ پائے گا [17] جو اپنا مال تزکیہ نفس کیلیے [راہ الہی میں]دیتا ہے۔[الليل: 17، 18]

روزہ بھی نفس کو شر، آفات اور بے حیائی سے روکتا ہے، بلکہ روزے داروں کو فحش امور سے بھی بچاتا۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} اے ایمان والوں تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]

حج میں بھی تزکیہ نفس ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} جو شخص ان ایام میں حج کا ارادہ رکھتا ہو وہ دوران حج نہ شہوت کی باتیں کرے ‘ نہ گناہ کرے اور نہ لڑائی جھگڑا کرے۔ [البقرة: 197] بلکہ مقبول حج والا شخص گناہوں سے پاک صاف ہو کر اپنے گھر ایسے لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص بھی اللہ کیلیے حج کرے اور بیہودگی سمیت فسق بھی نہ کرے تو وہ ایسے واپس لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا) متفق علیہ

حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل بھی تزکیہ نفس کا باعث بنتی ہے، چاہے ان احکامات کی تعمیل دل پر گراں گزرے ، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ} اور اگر تمہیں کہا جائے کہ واپس لوٹ جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ ، یہ تمہارے لیے زیادہ تزکیہ کا باعث ہے۔[النور: 28]

اللہ تعالی ہی دلوں کو سنوار اور پاک کر سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ} بلکہ اللہ تعالی جس کا چاہتا ہے تزکیہ نفس فرما دیتا ہے۔[النساء: 49]

اور دعا بھی بہت عظیم عبادت ہے، دعا کے ذریعے انسان اپنی تمنائیں پا لیتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی عام طور پر دعا ہوا کرتی تھی کہ:    (اَللَّهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا) [یا اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما، اور اس کا تزکیہ فرما، بیشک توں ہی سب سے بہترین تزکیہ کرنے والا ہے]) مسلم

اسی طرح کثرت کے ساتھ ذکر کرنے سے بھی شرح صدر ہوتی ہے اور دل پاک صاف ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} خبردار! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔[الرعد: 28]

جو شخص قرآن کریم کے ساتھ تلاوت، تدبر، قرآن پر عمل، اور قرآن کے سیکھنے اور سکھانے کا تعلق رکھے تو اس کے نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے اور نفس اللہ کا مطیع بن جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ} لوگو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آچکی۔ یہ دلوں کے امراض کی شفا اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے [يونس: 57] ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "قران کریم قلبی، بدنی، دنیاوی اور اخروی تمام بیماریوں سے مکمل شفا ہے"

علم نافع حاصل کرنے والوں کا تزکیہ نفس علم سے ہوتا ہے، یہی علم ان کا رہنما بن جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ} آپ ان سے پوچھیں: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ مگر ان باتوں سے سبق تو وہی حاصل کرتے ہیں جو اہل عقل و خرد ہوں۔ [الزمر: 9] پھر یہی علم اس شخص کو آگے لے کر جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص تزکیہ نفس کی بلندیوں پر پہنچ کر اہل خشیت میں شامل ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} بیشک اللہ تعالی کے بندوں میں سے اللہ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں۔[فاطر: 28] علمائے کرام کی سوانح عمری پڑھنے سے نفس کو ان کی اقتدا کرنے کی مہمیز ملتی ہے اور نفس ان سے جا ملنے کی کوشش کرتا ہے، سلف صالحین رحمہم اللہ کی سیرت پڑھنے والے کو اپنی کوتاہیاں واضح نظر آ جاتی ہیں۔

دل اور سینہ سلامت ہوں تو ظاہر و باطن بھی سلامتی والے بن جاتے ہیں۔ اپنے نفس کے خلاف مجاہدہ کرنے والا شخص اپنا مقصود پا لے گا۔ ہمیشہ اللہ تعالی کو اپنا رقیب سمجھنے سے انسان کمال کے درجے عبور کر کے محسنین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ تزکیہ نفس محاسبہ نفس پر موقوف ہے؛ اس لیے تزکیہ نفس محاسبے کے بغیر ممکن نہیں، اسی محاسبے کی بدولت انسان کو اپنے عیوب نظر آتے ہیں اور پھر ان کی اصلاح ممکن ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دلی راحت اور سکون کے شرعی نسخے - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

نظریں جھکانے سے بھی تزکیہ نفس ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ} مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں؛ یہ ان کے زیادہ تزکیہ کا باعث ہے۔[النور: 30] نیز آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اور جو شخص شادی کی ضروریات کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ نکاح کر لے، بیشک نکاح نظریں جھکا دیتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے، اور جس کے پاس استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کی شہوت توڑ دیں گے۔ ) متفق علیہ

فضول نظریں گھمانے اور فضول گفتگو کرنے سے پرہیز تزکیہ نفس کیلیے ضروری ہے، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "سب سے زیادہ گناہ فضول گفتگو اور بد نظری کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں، اور یہی دونوں شیطان کے لیے داخل ہونے کے وسیع ترین راستے ہیں؛ کیونکہ زبان اور نظر کے حملوں میں کبھی کمی یا ٹھہراؤ نہیں آتا"

حدیث میں ہے کہ: (آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے یہ دیکھ لے کہ کس کو اپنا دوست بنا رہے ہو) اچھے دوست اور ساتھی بلندیوں پر پہنچنے کیلیے بہترین معاون ہیں، اگر انسان غافل ہو تو وہ یاد دہانی کروا دیتے ہیں اور اگر اسے یاد ہو تو بھلائی پر معاونت بھی کرتے ہیں۔

قبرستان کی زیارت اور موت کی یاد سے روح زندہ اور راہ راست پر رہتی ہے۔ توبہ انسان کو پاک صاف کر دیتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی جانب توبہ کرو، تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔ [النور: 31] ایک حدیث میں ہے کہ: (جب بندہ کوئی گناہ کرے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے؛ چنانچہ اگر وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ استغفار کرے تو اس کا دل دوبارہ چمکا دیا جاتا ہے) ترمذی۔

انسانی نفس کا تزکیہ اور عمل میں عمدگی اس وقت تک نہیں آتی جب تک ان سے متصادم امور معدوم نہ ہو جائیں، یہی وجہ ہے کہ تزکیہ اسی وقت ہوتا ہے جب انسان برائیوں کو یکسر چھوڑ دے، لہذا تزکیہ اگرچہ لغوی طور پر خیر میں اضافے ، برکت، اور افزودگی پر بولا جاتا ہے لیکن تزکیہ حاصل اسی وقت ہو گا جب برائیاں یکسر معدوم ہوں، تو اس طرح تزکیہ نفس اپنے اندر خیر میں اضافہ اور برائی سے پاکیزگی دونوں جمع کر لیتی ہے۔

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

تزکیہ نفس کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہیں؛ کہ اطاعت اللہ تعالی کی ہو اور اتباع رسول اللہ ﷺ کے طریقے کی؛ یہی دو چیزیں سبیل اللہ، دین الہی اور صراط مستقیم ہیں، انہی کی بدولت تزکیہ اور اصلاح نفس ممکن ہے، انہی سے تمام لوگوں کو کامیابیاں اور عزتیں ملیں گی۔

 أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَمَنْ تَزَكَّى فَإِنَّمَا يَتَزَكَّى لِنَفْسِهِ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ} اور جو تزکیہ نفس کرے گا تو وہ اپنے لیے تزکیہ کرے گا، اور اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ [فاطر: 18]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

لوگوں میں رونما ہونے والی تبدیلی چاہے وہ اچھی ہو یا بری، فراخی کی ہو یا تنگ دستی والی، یا اس تبدیلی کا تعلق امن یا خوف سے ہو؛ یہ تمام تر تبدیلیاں لوگوں کی شخصیات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ماتحت ہوتی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ} اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے آپ کو خود نہ بدل لیں۔[الرعد: 11] لہذا لوگوں کو کچھ بھی ہو اس کا منبع اور سبب خود لوگ ہی ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ} جب تم پر مصیبت آئی تو تم چلا اٹھے کہ "یہ کہاں سے آگئی ؟" حالانکہ اس سے دو گنا صدمہ تم ان [کافروں ]کو پہنچا چکے ہو ؟ آپ ان سے کہہ دیں: یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے ۔[آل عمران: 165]

خلوت اچھی بنانے والے کی جلوت کو اللہ تعالی اچھا بنا دیتا ہے۔ اللہ سے تعلق رکھنے والے شخص کا اللہ تعالی لوگوں سے تعلق استوار رکھتا ہے۔ آخرت سنوارنے کی کوشش میں لگے رہنے والے کی دنیا کو اللہ تعالی سنوار دیتا ہے۔ مومن اللہ تعالی سے خدشات میں رہتے ہوئے محنت خوب کرتا ہے اور خوف بھی رکھتا ہے، وہ تزکیہ نفس اور اپنی اصلاح کی بھر پور کوشش کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود خود ستائشی میں مبتلا ہو کر پارسائی کا دعوی نہیں کرتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى} تم اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا ہے۔ [النجم: 32]

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت کی توفیق عطا فرما، یا ذ الجلال والاکرام!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہمارے ملک کی حفاظت فرما، ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر چال کو ہم سے پھیر دے۔

یا اللہ! جو کوئی بھی ہمارے بارے میں ، یا اسلام کے بارے میں ، یا مسلمانوں کے بارے میں برے ارادے رکھے تو یا اللہ! اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں، اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے، یا قوی! یا عزیز!

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.