مسلمانوں کا مغرب سے تعلق اور فلسفہ اردگان - سجاد سلیم

کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ طیب اردگان کی تمام تر کامیابیوں کے پیچھے ایک ہی راز ہے کہ اس نے مسلمانوں اور مغرب کے تعلقات کی اصل نوعیت کو جان لیا ہے، اور یہی راز اس کے تمام اقدامات میں اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہی اس کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہے۔

ہمارے ہاں کچھ لوگ تو مغرب کو آزادی اور انصاف کا استعارہ سمجھتے ہیں جبکہ ذیادہ تر لوگ اسے برائی کہتے ہیں۔ یہ الگ حقیقیت ہے کہ ان برائی کہنے والوں میں سے کسی کے بچوں کو کسی بھی مغربی ملک کی شہریت ملے تو وہ فوراً قبول کر لے گا۔ اس تعلق کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس کے حوالے سے اردگان کی کیا پالیسی ہے؟ اسی چیز کو ایک دلچسپ لیکن فکری انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میرے خیال میں مغربی ممالک سے ہمارا رشتہ ایک ایسے دور کے دوستوں، رشتہ داروں یا عزیزوں کا ہے کہ جو اپنی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ترقی کر گئے لیکن ہم اپنی نالائقی اور بے وقوفیوں کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ اب ہمارے وہ عزیز، رشتہ دار، وقتا فوقتا اپنے غریب رشتہ داروں کے گھر راشن بھیجے رکھتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ہمارےکان بھی کھینچے رکھتے ہیں، اور ہمیں پڑھاتے رہتے ہیں، کہ دیکھو ہماری طرح صبح وقت پر اٹھا کرو، محنت کیا کرو، اپنے مسائل کو مشاورت سے حل کیا کرو، ایک دوسرے پر زور ور زبردستی نہ کیا کرو۔ اپنا دماغ بھی کبھی استعمال کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔

یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سب کیوں کرتے ہیں؟ کیا وہ واقعی چاہتے ہیں، کہ ہم ترقی کر جائیں؟ میرے خیال میں تو ہمارے ان امیر ترین رشتہ داروں کے لیے یہ سب ایک کھیل ہے، انہیں یہ سب ڈانٹ ڈپٹ کر کے مزہ آتا ہے۔ اگر ہم کبھی ان کی بات مان کر صبح وقت پر اٹھنا بھی شرع کر دیں، تو وہ ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی نیا طریقہ ڈھونڈھ لیں گے۔ مثلاً اگر ہم نے صبح چار بجے اٹھنا شروع کر دیا تو کہیں گے کہ بیوقوف ہم تو صبح چھ بجے اٹھتے ہیں۔ حالانکہ جہاں وہ رہتے ہیں، وہاں زیادہ تر سردی ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں گرمی۔

اسی طرح اگر ہم کسی وقت اپنےمسائل کو مشاورت اور امن سے حل کرنا سیکھ بھی لیں، تووہ ہمارے کسی ایک بھائی کو آنکھ مار دیتے ہیں، جس سے وہ مشاورت کو لات مارتا ہے اور ہم پھر سے اپنے مسائل گھونسوں اور مکوں سے حل کرنے کی طرف چل پڑتے ہیں۔ پھر جب فساد بڑھنے لگتا ہے تو وہ اپنے پرانے لیکچر کے ساتھ پھر حاضر ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ہم پر پابندیاں بھی لگا دیتے ہیں، کہ دیکھو جب تک تم نے آپس میں صلح نہ کی، تب تک تمہیں راشن نہیں ملے گا، اور تم شام چھ بجے کے بعد گھر سے بھی نہیں نکل سکو گے۔ کبھی کبھی تو وہ ہمیں سبق سکھانے کے بہانے ہماری، اگی ہوئی سبزیاں بھی اکھاڑ کر لے جاتے ہیں، اور حسب ضرورت ہماری ٹھکائی بھی کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بھیڑیا بھی پال رکھا ہے، جس کی خوراک ہماری ہی برادری کے انسان ہیں، اگر ہم کبھی شکایت بھی کرتے ہیں، تووہ یہی کہتے ہیں کہ دیکھو اس بھیڑیے کے پچھلے مالک نے اسے کئی صدیوں تک بھوکے رکھا، اس لیے اب اس کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ وہ تمہارے بےکار گوشت سے اپنا پیٹ بھر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   قسطنطنیہ میں پہلا دن-انورغازی

بہر حال ہم بھی اتنے اچھے نہیں ہیں کہ اس کی سب ڈانٹ ڈپٹ خوامخواہ میں ہی سنتے رہیں۔ ہم بھی اس کی باتیں تبھی مانتے ہیں، جب ہمیں پیسوں اور راشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر ہم چند دن صبح وقت پر اٹھتے ہیں، اور کام کرتے ہیں، اپنے مسائل مشاورت سے حل کرنے کا دکھاوا کرتے ہیں، اور ان سے جھوٹے بہانے لگاتے ہیں کہ دیکھو اب ہم ٹھیک ہو گئے ہیں، آئندہ ہم کبھی بھی دیر تک نہیں سوئیں گے، لڑیں گے بھی نہیں، پھر وہ ہم پر ترس کھاتے ہیں اور ہمیں پھرسے راشن دے دیتے ہیں۔ لیکن ہم بھی بڑے چالاک ہیں، جب ہمارے لیڈر، ان سے بھیک مانگنے جاتے ہیں، تو ہم پیچھے سے ان کو خوب گالیاں بھی نکالتے ہیں، یہ ہم صرف اس لیے کرتے ہیں، تاکہ ثابت ہو جائے کہ ہم غلام نہیں ہیں۔ ان کے ترلے تو ہم صرف ان کو بیوقوف بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ پھر چند دن اچھے گزرتے ہیں، پھر سے ہم دیر تک سونا شروع کر دیتے ہیں، کسی کی آنکھ کے اشارے کا انتظار کیے بغیر ہی مشاورت کو لات مارتے ہیں، لڑنا شروع کر دیتے ہیں، ویسے بھی مسلمانوں سے اللہ نے کھانے اور بخشش کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ وہ ہمیں نہ تو بھوکا مرنے دے گا اور نہ ہی آگ میں جلنے دے گا۔

ہمارا ایک اور مقدس عقیدہ یہ بھی ہے کہ اپنا دماغ کم سے کم استعمال کریں، کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ زیادہ دماغ استعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، اس سے فساد پیدا ہوتا ہے۔ اپنے دماغوں کو کم استعمال کرنے کے واسطے، جب بھی ہم پر مغربی رشتہ داروں یا ان کے بھیڑیے کی جانب سے کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو ہم احتجاج بھی اپنے مغربی رشتہ داروں سے ہی کرتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ ہماری بات کی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے، لیکن ہم یہ اس لیے کرتے ہیں، تاکہ ہمیں دماغ نہ استعمال کرنا پڑ جائے۔ اگر دماغ استعمال کیا تو کیا پتا، اس کا کوئی مسئلے کا حل ذہن میں آجائے، اور حل کے لیے پھر سے صبح صبح اٹھنا پڑ جائے۔ آپسی لڑائیوں سے بھی باز آنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   قسطنطنیہ میں پہلا دن-انورغازی

اب آتے ہیں اردگان صاحب کی طرف، اردگان صاحب اگرچہ ہماری ہی برادری کے انسان ہیں لیکن وہ کچھ حوالوں سے الگ ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مغرب سے تعلقات بھیک یا لیکچر لینے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی اچھی باتوں سے سیکھنے اور تجارت کے فروغ کے لیےرکھنے چاہییں۔ ان کی ہر بات کو بلا سوچے سمجھے جھٹلانے یا قبول کرنے کی بجائے معقولیت کی بنیاد پر جھٹلانا یا قبول کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں صبح اٹھنا چاہیے، لیکن اپنے مغربی رشتہ داروں کو خوش یا ناراض کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی اور اپنے بچوں کے بہتر حال اور مستقبل کے لیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آپس میں صلح رکھنی چاہیے، آپسی مسائل جمہوریت اور قانون کے ذریعے حل کرنے چاہییں، اس لیے نہیں کہ مغربی رشتہ دار، ناراض ہوتے ہیں، یا خوش ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ عقلمندی کا یہی تقاضا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنا دماغ استعمال کرنا چاہیے، اس لیے نہیں کہ ایسا مغربی رشتہ داروں کا فرمان ہے، بلکہ اس لیے کہ یہی انسانیت کی معراج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مغرب سے سوکھے احتجاج کے بجائے، اپنے آپ کو مضبوط بنانا چاہیے، اگر ہم مضبوط ہوں گے، تو ہی ہم اپنے مفادات کا صحیح طریقے سے تحفظ کر سکیں گے۔

آخر میں ایک اور راز کی بات بتاتا چلوں کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں، کہ ترکی میں شاید ایک ہی اردگان نامی انسان ہے، جس کی وجہ سے ترکی ترقی کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اردگان کا ہر ووٹر اور سپورٹر اردگان ہے۔ اور اردگان ایک فلسفے اور سوچ کا نام ہے، جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتی ہے۔ کائنات میں غوروفکر کر کے ترقی اور مضبوطی کی نئی منزلیں تلاشنے اور تراشنے کی دعوت دیتی ہے۔